شام کی صورتحال، پاکستان سمیت خطے پر اثرات!

25 نومبر 2015

آج کی دنیا گلوبل ولیج ہے۔ اس لئے کسی بھی خطے میں جنم لینے والے واقعات سے دوسرے خطے کا متاثر ہونا لازمی امر ہے اور جب یہ واقعات نزدیکی خطے میں رونما ہو رہے ہوں تو پھر اس کے اثرات زیادہ محسوس کئے جا سکتے ہیں۔
شام میں جاری جنگی صورتحال سے مشرق وسطیٰ جتنا متاثر ہے پاکستان پر اس کے اثرات کم نہیں ہوں گے اگر معاملات میں سدھار کی کوئی راہ نہ نکل سکی شام میں روس کی جارحانہ مداخلت سے سدھار کے امکانات کم نظر آ رہے ہیں خود روسی وزارت دفاع کے مطابق اتوار اور پیر کے روز چارسو بہتر حملے کئے جبکہ پنتالیس روز سے جاری روسی بمباری سے ایک سو سنتیس بچوں، اکہتر خواتین سمیت پانچ سو چھبیس شامی لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ داعش کے تین سو اکیاسی جنگجوئوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ادھر اٹلی کے ہوٹل کی لابی میں روسی صدر پیوٹن اور امریکی صدر اوبامہ کی 35منٹ تک جاری گفتگو میں جس میں امریکی قومی سلامتی کی مشیر سوسن رائس نے بھی شرکت کی شام کے لئے جس فارمولے کو حتمی شکل دی گئی وہ شاید بلکہ یقینی طور پر سعودی عرب اور ترکی کے لئے قابل قبول نہیں ہو گا۔ وہ فارمولہ یہ ہے کہ شام میں بشارالاسد کو اقتدار سے الگ کرکے ایک ’’قومی حکومت‘‘ بنائی جائے جس میں ایران، لبنان کی حزب اللہ، کرد، شام کے شیعہ اور علوی شامل ہوں گے۔
علوی حضرت علیؓ کے حوالے سے جو نظریات رکھتے ہیں اس کی بنا پر پہلے شیعہ انہیں خود میں شامل نہیں سمجھتے تھے۔ آیت اللہ خمینی کی حمایت کے بعد انہیں بھی شیعوں کا حصہ سمجھا جانے لگا ہے۔
اس فارمولے میں جو ابھی باقاعدہ طور پر پیش نہیں کیا گیا ہے اہم ترین بات یہ ہے کہ اس میں شام کے سنی شامل نہیں ہیں۔ بادی النظر میں فارمولے کے مطابق مجوزہ قومی حکومت دو سال کے لئے ہو گی۔ پہلے چھ ماہ میں آئین تیار کرے گی اور پھر اٹھارہ ماہ بعد اس آئین کے تحت انتخابات ہوں گے جس میں سنی حصہ لے کر اگر اکثریت حاصل کر سکیں تو حکومت بنا سکیں گے لیکن فارمولہ اگر اس طرح روبہ عمل لایا گیا تو مسئلہ کا حل نہیں ہو گا۔ جس حکومت میں سنی شامل نہیں ہوں گے وہ اسے قومی تسلیم نہیں کریں گے نہ اس کا تیار کردہ آئین ان کے لیے قابل قبول ہو سکتا ہے۔
روس اور امریکہ اگر واقعی شام کو پرامن خطہ بنانا چاہتے ہیں تو ایسا فارمولہ بنایا جائے جو تمام فریقین کے لئے قابل قبول ہو بلکہ اس فارمولے سے تو نہ صرف شام بلکہ مشرق وسطیٰ میں سنی شیعہ تنازع کو ہوا ملے گی کیا پیوٹن اور اوبامہ اس حقیقت سے بے خبر ہو سکتے ہیں۔
روس جس تیزی سے شام میں بشارالاسد کی حمایت میں سرگرم ہوا ہے بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ وہ کیونکہ شام سے تیل حاصل کرتا ہے اور تیل کے علاقوں پر داعش نے قبضہ کر لیا ہے اس لئے روس ان کے خلاف ہو گیا ہے لیکن یہ پورا سچ اس لئے نہیں ہے کہ داعش سے تو خود امریکی کمپنیاں تیل خرید رہی ہیں جن نرخوں پر شام کی حکومت سے لیتی رہی ہیں۔
داعش کی جانب سے روس کو تیل دینے سے انکار بھی نہیں کیا گیا پھر ان پر روسی بمباری کا کیا جواز ہے۔ کارنیگی ریو کی رپورٹ کے مطابق روس داعش سے شام کی محبت میں نہیں بلکہ اپنے خدشات کی بنیاد پر لڑ رہا ہے۔ روس کو خطرہ ہے ایک عالمی جہادی تنظیم کی حیثیت سے مسلمان آبادی والے تمام علاقوں پر اس کی نظر ہے جن میں وسطی ایشیا اور بالخصوص روس کے اپنے علاقے تاتارستان، شمالی قفقاز اور دیگر شامل ہیں دوسرے داعش کے جنگجوئوں میں ایک بڑی تعداد سابق سوویت علاقوں اور روس سے تعلق رکھتی ہے۔
شام اور عراق میں فتح حاصل کرنے کے بعد یہ جہادی جب واپس اپنے علاقوں میں پہنچیں گے تو روس کے لئے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں ۔اس لئے پیوٹن کی حکمت عملی ہے کہ ان لوگوں کے اپنے علاقوں میںپہنچنے سے پہلے جتنا ممکن ہے انہیںموت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔ اس لئے روس کا مقصد محض بشارالاسد حکومت کو استحکام دینا نہیں ہے۔
خدا نہ کرے اگر شام کے تناظر میں مشرق وسطیٰ سنی شیعہ تصادم کا مرکز بنتا ہے تو اس سے پاکستان اور ایران پر بھی منفی اثرات ہوں گے۔ پاکستان میں گزشتہ عرصہ میں سنی شیعہ تنازعات پیدا کرنے کی جو کوشش کی گئی اور بلوچستان کو بالخصوص اس کا ہدف بنایا گیا مگر سنی اور شیعہ علماء اور رہنمائوں نے مذہبی جذبات میں بہے بغیر اپنے طرز عمل سے اس کوشش بلکہ سازش کو ناکام بنا دیا۔
بلوچستان کو خصوصی ہدف بنانے کی بڑی وجہ اس کی اسٹریٹجک اہمیت ہے۔ گوادر پورٹ بھی یہاں ہے جس کے پوری طرح فنکشنل ہونے سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں معاشی لحاظ سے غیر معمولی تبدیلیاں جنم لیں گی۔ روس اور افغانستان بھی بہت فائدہ اٹھا سکیں گے۔
اس لئے پاکستان، چین، روس، سنٹرل ایشیاء اور جنوب مشرقی ایشیاء کے درمیان تزویراتی شراکت داری کو ناکام بنانے کے لئے گوادر منصوبے کو ناکام بنانے کی کوششیں خارج از امکان نہیں۔
بھارت بلوچ علیحدگی پسندوں کے ذریعہ بلوچستان میں عدم استحکام کی کوششیں کررہا ہے امریکہ کا مفاد بھی اس سے وابستہ ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اندرونی طور پر انتشار کا شکار پاکستان امریکی مفادات کیلئے مفید ہو سکتا ہے۔
امریکہ کے رالف پیٹرسن نے ’’آزاد بلوچستان‘‘ کا جو نقشہ بنایا تھا اس میں پاکستانی بلوچستان کے ساتھ ایرانی بلوچستان کو شامل کیا گیا ہے۔ اس لئے اگر بلوچستان میں معاملات خراب ہوئے تو ایران کا صوبہ سیستان بھی عدم استحکام کا شکار ہوگا۔ جس کے نتیجے میں ایران بھارت کے ساتھ مل کر چاہ بہار بندرگاہ کا جو منصوبہ بنا کر اسے وسطی ایشیاء اور روس سے جوڑنے کا پروگرام رکھتا ہے کامیاب نہیں ہو گا۔بلوچستان میں معاملات کی خرابی ایران پر تو اثر انداز ہو گی ہی بھارت بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔
ایران کے ساتھ اس کے تزویراتی منصوبوں کی تکمیل ممکن نہیں رہے گی۔ ایران کے چاہ بہار منصوبہ کی اہمیت یہ ہے کہ اس طرح ایران کا ریل روڈ کے ذریعے قازقستان، ترکمانستان اور روس سے رابطہ ہو جائے گا۔ دوسرے گوادر میں ایران کی جانب سے ایک بڑی آئل ریفائنری کا منصوبہ ایرانی تیل کی گوادر کے ذریعے دوسرے ملکوں میں ترسیل کی راہ بھی کھل جائے گی۔ بھارت اس فائدے میں حصہ دار ہو گا۔
ان تمام منصوبوں کی تکمیل خطے میں امریکی اثرورسوخ کو کم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس لئے اس کی جانب سے رکاوٹوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے لہٰذا بلوچستان میں صورتحال کو معمول پر لانے کے لئے حکومت اور فوج مل کر جو کوششیں اور اقدامات کررہی ہے اس کی کامیابی میں ایران کو حصہ ڈالنا چاہیے اور بھارت کو رکاوٹیں ڈالنے سے باز رہنا چاہیے کہ یہ خود بھارت کے مفاد میں بھی ہے۔