یومِ تکریمِ شہداء

آج ملک بھر میں یومِ تکریمِ شہداء منایا جارہا ہے۔ یہ دن ملک کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے افراد کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے منایا جارہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کا وجود ان شہیدوں اور غازیوں کی قربانیوں کی بدولت قائم ہے جنھوں نے اپنے آج کو ملک کے کل کے قربان کرنے میں ذرا سی بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ یہ ایک افسوس ناک امر ہے کہ اسی مہینے میں اب سے تقریباً دو ہفتے پہلے بظاہر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے ردعمل کے طور پر اس جماعت سے تعلق رکھنے والے شر پسند عناصر نے ملک کے مختلف حصوں میں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے علاوہ شہداء کی یادگار کو مسمار کر کے بالعموم پوری قوم اور بالخصوص شہداء کے کنبوں کو شدید تکلیف پہنچائی۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنان کو یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کا وجود اس ملک کی وجہ سے ہی قائم ہے اور یہ ملک شہداء اور غازیوں کی جہدِ مسلسل کے نتیجے میں اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان دشمن قوتوں نے 9 مئی کے واقعات کو اپنی فتح قرار دیا کیونکہ اس ملک کی پون صدی کو محیط تاریخ کے دوران جو کام ہمارے بدترین دشمن بھی نہیں کرسکے وہ ایک سیاسی جماعت کے کارندوں نے کردیا۔ یومِ تکریمِ شہداء کے موقع پر ہمیں نہ صرف اپنے شہیدوں اور غازیوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہیے بلکہ یہ عزم بھی دہرانا چاہیے کہ پاکستان کی حفاظت صرف افواجِ پاکستان ہی کی نہیں بلکہ ہم سب کی بھی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کا صحیح احساس اسی وقت پیدا ہوسکتا ہے جب ہم اس ملک کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت سمجھتے ہوئے اس کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے تیار رہیں گے۔