پاکستان‘ انجکشنوں کے ذریعے منشیات استعمال کرنیوالوں کی وجہ سے ایڈز بڑھا رہا ہے: عالمی ادارہ صحت

25 مارچ 2014

 اسلا م آباد‘ نیویارک (آن لائن) عالمی ادارہ صحت نے انکشا ف کیا ہے کہ  پاکستان میں ایڈز انجکشنوں کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والوں کی وجہ سے بڑھ رہا ہے  اس صورتحال کے تدارک کے لیے زیادہ سے زیادہ خصوصی تھراپی مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے۔کینیڈا کے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے’ سی آ ئی ڈی اے ‘ کے تعاون سے منشیات کے عادی افراد کے حوالے سے مرتب کردہ   ایک جائزے کے مطابق پاکستان کی 180 ملین کی آبادی میں سے چار لاکھ بیس ہزار افراد انجکشنوں کے ذریعے نشہ اپنے جسم میں داخل کرتے ہیں۔ انسداد منشیات کے قومی پروگرام ’NACP ‘ کے سید محمد جاوید نے  بتایاکہ متعدد نشئی   ایک  دوسرے کی ایچ آئی وی سے متاثرہ سرنجیں استعمال کرتے ہیں۔  ڈر ہے  ان کے ذریعے ایڈز دیگر شہریوں تک بھی پہنچ سکتا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ پڑوسی ملک افغانستان میں ہیروئن کی آسانی سے دستیابی بھی پاکستانی شہروں کے لئے مسئلہ بنی ہوئی ہے اور اس صورتحال سے متاثر ہونے والے شہروں میں خیبر پی کے کا صوبائی دارالحکومت پشاور بھی شامل ہے۔ ’’پشاور میں بیس فیصد  منشیات  کے عادی افراد  میں ایچ آئی وی وائرس کی نشاندہی ہوئی ہے اور یہ خطرناک صورتحال ہے‘‘۔  عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ سے زائد افراد ایچ آئی وی وائرس کا شکار ہیں۔ ’’2010ء   میں عالمی بینک نے منشیات کے عادی اور ایڈز کے شکار افراد کو سہولت فراہم کرنے کے لئے دی جانے والی امداد روک دی تھی کیونکہ یہ رقم سیلاب  متاثرہ افراد کی بحالی  پر خرچ کی جا رہی تھی۔ اسی وجہ سے مسئلہ مزید گھمبیر ہو گیا‘‘۔عالمی ادارہ صحت کے ایک ڈاکٹر عبدالحمید  کا کہنا ہے کہ پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کو منشیات سے چھٹکارا دلانے اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی  پروگرام موجود نہیں ہے۔ پہلے ڈبلیو ایچ او اور امدادی اداروں کا خیال تھا کہ پاکستان میں ایچ آئی وی وائرس اْن تارکین  وطن  کی وجہ سے پھیل رہا ہے جو متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک سے اپنے  شہر والوں  کو ملنے پاکستان آتے ہیں۔ تاہم ایک جائزے نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان میں ایڈز انجکشنوں کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والوں کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔  پاکستان میں آج کل ART کہلانے والے اس طرح کے 13 خصوصی  تھراپی مراکز قائم ہیں، جن میں اب تک پانچ ہزار افراد کا علاج کیا جا چکا ہے۔