ایڈیشنل سیکرٹری کاخط پارلیمنٹ کی تضحیک ہے: قائمہ کمیٹی داخلہ

25 مارچ 2014

اسلام آباد ( خبر نگار خصوصی‘ آئی این پی) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ایڈیشنل  سیکرٹری داخلہ حامد علی   خان کی جانب سے قائمہ کمیٹی کو لکھے جانے والے خط کو پارلیمنٹ کی تضحیک قرار دیتے ہوئے انکے خلاف سینٹ میں تحریک استحقاق لانے کا فیصلہ کیا اور اجلاس میں وزارت داخلہ  کے افسران کی عدم شرکت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سفارش کی کہ جو افسران پاکستان کے آئین اور پارلیمنٹ کو نہیں مانتے‘ انکے خلاف غداری کے مقدمات درج کئے جائیں۔ یہ سفارشات پیر کو چیئرمین سنیر طلحہ محمود آریان کی سربراہی میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی  برائے داخلہ کے اجلاس میں کی گئی۔ اجلاس میں وزارت داخلہ کے کسی بھی متعلقہ افسر نے شرکت نہ کی جس پر قائمہ کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ اس دوران کمیٹی ارکان  سنیٹر طاہر مشہدی اور مختار احمد دھامرا نے کہا کہ اگر بیورو کریسی کا کوئی افسر یا وزارت  بااثر وزیر پارلیمنٹ کو ربڑ سٹیمپ بنانے کی کوشش کرے گا تو قائمہ کمیٹی اس اقدام کے خلاف  بھرپور  مزاحمت کرے گی۔ وزارت کے اقدام سے مارشل لاء کو دعوت دینے کی کوشش کی گئی ہے اور اب ہمیں وزیرداخلہ کے بجائے   قوم سے براہ راست رابطہ کرنا چاہئے جبکہ  سینٹ کے آئندہ اجلاس میں اس ایشو کو لایا جائے کہ کس طرح وزارت داخلہ قائم کیمٹی کی توہین کر رہی ہے۔ چیئرمین کمیٹی سنیٹر طلحہ محمود آریان نے کہا کہ اسلام آباد کچہری  واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور اتنی سکیورٹی کے باوجود سانحہ رونما ہونا وزارت داخلہ اور انتظامیہ کی نااہلی ہے۔