پنجاب میں زرعی اراضی پر 6 پاور پلانٹس لگانے کا فیصلہ‘ 80 ہزار خاندان متاثر ہونگے

25 مارچ 2014

لاہور (نیوز رپورٹر) حکومت پنجاب نے صوبے میں لاکھوں ایکڑ غیر زرعی رقبے کو چھوڑ کر انتہائی زرخیز زمین پر تقریباً 8ہزار میگاواٹ کے کوئلے سے چلنے والے 6پاور پراجیکٹس لگانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے صوبے کی6ہزار ایکڑ زرعی اراضی سے 80 ہزار سے زائد خاندان محروم ہو جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے بجلی کے بحران کو ختم کرنے کے لئے پانی سے سستی ترین بجلی بنانے کی بجائے متبادل ذرائع سے مہنگے ترین ریٹس پر بجلی بنانے کا کام شروع کر دیا ہے جس کا آغاز سب سے پہلے پنجاب کے کسانوں کی زمین پر شب خون مار کر کیا جائے گا۔ محکمہ توانائی پنجاب کے اعلیٰ حکام نے کوئلے پر چلنے والے 6 پاور پلانٹس کے لئے شیخوپورہ، جھنگ، مظفر گڑھ، رحیم یار خان ، بلوکی اور ساہیوال میں ہزاروں ایکڑ بنجر  اور غیرآباد زمین کو چھوڑ کر زرعی رقبے کا انتخاب کر لیا ہے۔ کسانوں کو عنقریب سیکشن4 کے تحت اس زمین سے زبردستی بے دخل کردیا جائے گا، مذکورہ علاقوں میں کسانوں کو شدید تشویش کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے بھارت ایک طرف پہلے ہی پنجاب کا پانی بند کر کے ہمارے ملک کو صحرا میں بدل رہا ہے اس میں صرف زراعت ہی متاثر ہو رہی ہے۔ حکومت پنجاب بھی کسانوںسے زمینیں چھین کر ان کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ دونوں کے اہداف زرعی اراضی ہی ہے۔ حکومت کا ارادہ ہے وہ 1320 میگاواٹ کے 6کول پاور پلانٹس جس کی صلاحیت تقریباً 7920 میگاواٹ ہو گی مذکورہ اضلاع میں لگائے گی۔ 1320میگاواٹ کا ایک پاور پلانٹ حکومت پبلک سیکٹر میں خود لگائے گی جبکہ 5دیگر جگہوں پر پاورپلانٹس ملکی یا غیر ملکی کمپنیاں لگائیں گی ہر پاور پلانٹ کے لئے ایک ہزار ایکڑرقبہ درکار ہوگا۔ حکومت کا ان بے دخل کئے جانے والے کسانوں کے لئے زرعی زمینوں کا کوئی متبادل انتظام موجود نہیں۔ عوام اپیل کرتی ہے حکومت زرعی رقبے کی بجائے بنجر رقبے پر پاور پلانٹس لگائے۔