سال گزر گیا‘ بہاولپور چڑیا گھر کی آمدن کا معاملہ حل نہ ہوا

25 مارچ 2014

لاہور (چودھری اشرف) بہاولپور چڑیا گھر کی سابق انتظامیہ اور ٹھیکیدار کی ملی بھگت سے 56 لاکھ روپے حکومتی خزانے میں جمع نہ کرانے کا معاملہ معمہ بن گیا۔ ایک سال بیت جانے کے باوجود محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی جانب سے کارروائی مکمل نہیں کی جا سکی۔ ذرائع نے بتایا بہاولپور ڑیا گھر کی انتظامیہ اور ٹھیکیدار کی ملی بھگت سے گیٹ اِنکم اور دیگر ٹھیکوں سے حاصل ہونیوالی آمدن کو کئی ماہ تک حکومتی خزانے میں جمع نہیں کرایا گیا جبکہ محکمہ کے بعض حکام اس نااہلی پر اپنے ملازمین کو بانے کیلئے تمام ملبہ ٹھیکیدار پر ڈالنے کی کوشش میں ہیں۔ ذرائع نے بتایا بہاولپور چڑیا گھر کی گیٹ انکم کے حصول کیلئے ٹکٹوں کی فروخت کا پرائیویٹ افراد کو ٹھیکہ دے رکھا ہے، ٹھیکیدار اور انتظامیہ آپس میں مل کر کئی ماہ تک گیٹ انکم سمیت کینٹین اور پارکنگ کے ٹھیکہ کی رقم جمع نہیں کرا رہے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے گیٹ انکم امور مختلف ٹھیکوں کی فیس 50 لاکھ روپے سے زائد ہونے کے بعد انتظامیہ کی ملی بھگت سے ٹھیکیدار کو بھگا دیا گیا۔