مذاکرات میں وزیراعظم کی نیت پر شک نہیں، طاقت کے استعمال کیخلاف ہیں: فضل الرحمن

25 مارچ 2014

کراچی(آئی این پی+ این این آئی )جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے طالبان اور حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں وزیراعظم کی نیت پر شک نہیں۔ ہم ہر صورت طاقت کے استعمال کے خلاف ہیں تاہم  وزیر دفاع جس قسم کے بیانات دیتے ہیں اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے وہ پاکستان کے نہیں بلکہ بھارت کے وزیر دفاع ہیں۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ جامعہ بنوری سے کچھ فاصلے پر قائم (جے یو آئی )کے نئے سیکرٹریٹ کے افتتاح کے موقع پر خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا حکومت مذاکرات کے لئے جس راستے پر چل رہی ہے، اس سے مقاصد کے حصول پر  یقین نہیں۔ آپریشن پر 2008 سے آج تک پارلیمنٹ سمیت کسی فورم پر اتفاق رائے پایا نہیںجاسکا۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ مذاکرات قبائلی جرگے کی مدد سے ہوں تو ذمہ داری سے کہتا ہوں اس کے مثبت نتائج نکلیں گے۔ جب ان سے سوال کیا گیا طالبان تو آئین کو نہیں مانتے ان سے کیسے مذاکرات ہوں گے۔ اس پر انہوں نے کہا جو ملکی آئین اور عدالتوں کو نہیں مانتا وہ قومی مجرم ہے اس طرح کوئی ادارہ یا سیاسی جماعت آئین کو پامال کرے تو وہ بھی پاکستان کی نفی  ہوگی۔ انہوں نے کہا ہم اسلحہ کی جنگ پر یقین نہیں رکھتے اور تمام مسائل کا حل جمہوری طریقوں سے ممکن  ہے۔ موجودہ دور میں جو نام نہاد دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری ہے ہماری ضرورت نہیں بلکہ مغرب یا امریکہ کی ضرورت ہے جو ایک مقصد کے تحت پوری دنیا پر سیاسی بالادستی اور وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور امریکہ مغرب مختلف فرقوں کے درمیان اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ اور قومیت پرست آپس میں دست گریباں ہوں تو اس پر خاموشی اختیار کرتا ہے۔ آج  کوئی شخص ایک بیوی کی موجودگی میں  دوسری شادی کرے تو طوفان کھڑا کردیا جاتا ہے اور کوئی حرام کاری کرے تو مغرب اور امریکہ اس کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور مغرب اس حرام کاری کو ترقی کہتا ہے۔ این این آئی کے مطابق انہوں نے کہا بین الاقوامی قوتیں فرقہ واریت کو ہوا دے رہی ہیں مغرب دینی اشتعال دلانا چاہتا ہے تاکہ دینی طبقہ مشتعل ہو کر بندوق اٹھائے اور دلیل سے بات نہ کرے۔ کراچی بدامنی کا بنیادی مسئلہ معاشی و اقتصادی ہے۔ ٹارگٹ آپریشن کی بجائے اصل مسئلے کے حل کی طرف توجہ دینی ہو گی۔ حکومت طالبان مذاکرات میں حکومت کی نیت پر کوئی شک نہیں لیکن طریقہ کار سے اختلاف ہے۔