حب حادثہ: 30 افراد کی تدفین، پٹرول سمگلنگ کیخلاف لواحقین کا مظاہرہ

25 مارچ 2014

کراچی+ اوتھل+ کوئٹہ(ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) گڈانی ٹریفک حادثے میں جاں بحق افراد کی تدفین کر دی گئی۔ قبل ازیں لواحقین نے قومی شاہراہ پر دھرنا دیکر میتیں لیکر آنے والی ایمبولینسوں کو روک دیا تھا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہونے اور غیر قانونی ایرانی پٹرول و ڈیزل کی سمگلنگ پر پابندی عائد کرنے تک لواحقین نے تدفین سے انکار کر دیا تھا۔ صوبائی حکومت کے ترجمان جان محمد بلیدی نے مظاہرین کو فون پہ یقین دہانی کرائی جس پر مظاہرین نے دھرنا ختم کر کے سوختہ میتوں کی تدفین کی اجازت دی۔ 30 افراد کی نعشیں کراچی سے ایدھی ایمبولینسوں کے ذریعے حب لائی گئیں تو لواحقین فوری طور پر حب تھانے پہنچ گئے اور تھانے کے سامنے دھرنا دیکر قومی شاہراہ بلاک کردی جس کی وجہ سے کراچی کوئٹہ شاہراہ ٹریفک کے لئے مکمل طور بند ہو گئی اور مسافر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اس دوران مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ادھر مظاہرین حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے اور واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے۔ مذاکرات کے بعد ضلعی انتظامیہ نے بابو شیخ گوٹھ حب کے قبرستان میں ہزاروں افراد کی موجودگی میں سوختہ میتوں کی تدفین کر دی۔ ادھر بلوچستان حکومت نے سانحہ حب کے بعد صوبے میں تیل اور ڈیزل بسوں میں لے جانے پر پابندی عائد کر دی۔ فیصلہ وزیراعلیٰ کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔ سانحہ گڈانی کے ذمہ دار ٹرانسپورٹروں کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔