حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں: ساجد نقوی

25 مارچ 2014

حافظ آباد (نمائندہ نوائے وقت) قائد ملت جعفریہ  علامہ ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ اس وقت ملکی حالات بڑے تشویشناک ہیں اور ملک کو بہت سے گھمبیر مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ جس ملک میں سزائے موت ختم کر دی جائے وہاں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ امن و امان کے قیام کیلئے قانون پر عمل درآمد بہت ضروری ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں قانون نام کی کوئی چیز ہے اور نہ ہی انصاف کہیں نظر آتا ہے۔ ملک میں بے گناہ، معصوم لوگوں بالخصوص شیعہ عوام کا قتل عام کیا جا رہا ہے لیکن حکومت اس کو روکنے کیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں کر رہی، جب تک معصوم لوگوں کے قاتلوں کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا جاتا اُس وقت تک امن قائم نہیں ہو گا۔ ملک اسد علی اعوان کی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتی اور طالبان مذاکراتی کمیٹیوں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں اور بہت سے لوگ اس سے مطمئن بھی دکھائی نہیں دیتے۔ ملک میں امن قائم ہونا چاہئے چاہے وہ مذاکرات سے ہو یا کسی اور طریقہ سے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت ایسے عناصر کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا جائے جن کے ہاتھ معصوم اور بے گناہ لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں ، نجانے ایسے قاتلوں کو کیوں شیلٹر دیا جارہا ہے اور اُنہیں سزا کیوں نہیں دی جا رہی۔ اُنہوں نے کہا کہ 33ایجنسیاں ملک میں امن و امان قائم کرنے میں بالکل ناکام ہو چکی ہیں اگر وہ اپنے فرائض صحیح طریقے سے سر انجام دے رہی ہوتیں تو اسلام آباد جیسے حساس ترین شہر میں دہشت گردی کی وارداتیں نہ ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی حکمرانوں کی ایک یلغار پاکستان آئی ہے اور ہمارے حکمران ان سے تحفے تحائف لے رہے ہیں۔