لودھراں: 5 لڑکیوں کو ونی کرنے کیلئے بااثر افراد کا خاتون پر تشدد، کپڑے پھاڑ ڈالے

25 مارچ 2014

لودھراں (نامہ نگار) 5 نوجوان لڑکیوں کو ونی پر مجبور کرنے کی خاطر مقامی سیاسی اثرو رسوخ کے حامل بااثر افراد نے کھیتوں میں محنت مزدوری کرتی ہوئی خاتون کو زبردست تشدد کا نشانہ بنایا، کپڑے پھاڑ ڈالے‘ پولیس تھانہ صدر خاموش تماشائی بنی رہی۔ مقامی سیاسی اثرورسوخ کے حامل حنیف وغیرہ کی بیوہ بہو نازو مائی کو زیبو مائی کے چچا نذیر احمد نے گھر سے بھگا کر کورٹ میرج کر لی جس کے دکھ میں حنیف وغیرہ نے مسلح ہو کر زیبو مائی پر کھیتوں میں کام کرتے ہوئے دن دیہاڑے حملہ کر دیا اسے شدید زخمی کر ڈالا اور کپڑے بھی پھاڑ ڈالے۔ حنیف کا مؤقف ہے ہماری ایک عورت کے بدلے زیبو مائی اپنی پانچ نوجوان لڑکیوں کو ونی کرے جس سے زیبو مائی انکاری ہے۔ اطلاع پولیس تھانہ صدر لودھراں کو دی گئی لیکن تھانہ صدر لودھراں کے ایس ایچ او شمس خاں مقامی سیاسی دباؤ میں ہیں اور وہ بااثر شخص حنیف وغیرہ کو تھانے میں پروٹوکول دے رہے ہیں اور محنت کش مظلوم خاتون زیبو مائی کے اہل خانہ اس کے شوہر صدیق اور دیگر اہل خانہ سے ناانصافی کی جا رہی ہے جس کے باعث وہ تھانہ صدر لودھراں کے باہر سراپا احتجاج ہیں۔ مقامی بااثر شخص حنیف انہیں دھمکیاں دے رہا ہے زیبو مائی وغیرہ اپنا سامان اٹھا کر علاقہ بدر ہو جائیں ورنہ انہیں جان سے مار دیا جائے گا جبکہ زیبو مائی اور اس کی پانچ نوجوان لڑکیوں نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے اگر انہیں ’’ونی‘‘ پر مجبور کیا گیا تو وہ خود کشی کر لیں گی۔ 

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...