روشن روشن ”نظریہ پاکستان !“ (1 )

25 مارچ 2014
روشن روشن ”نظریہ پاکستان !“ (1 )

ایوانِ کارکنانِ پاکستان لاہور میں تقریباتِ یومِ قراردادِ لاہور 1940ء(قراردادِ پاکستان) کے دوسرے روز منعقدہ نشسّت سے صدارتی خطاب کرتے ہُوئے تحریکِ پاکستان کے مجاہد اور چیئرمین ”نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ“ ڈاکٹر مجید نظامی نے کہا کہ ”23 مارچ ہماری تاریخ کا اہم دِن ہے اور مَیں اِسے یومِ آزادی 14 اگست سے بھی اہم دِن مانتا ہُوں اور آپ لوگ دیکھ رہے ہوں گے کہ جو لوگ نظریہ¿ پاکستان کا مذاق اُڑاتے تھے آج وہ بھی اِس کے حامی ہو گئے ہیں۔“ جنابِ نظامی سے قبل ”نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ “ کے چیف کوارڈینیٹر میاں فاروق الطاف اور سیکرٹری جنرل سیّد شاہد رشید نے اپنے اپنے خطاب میں ”23 مارچ 1940ءکو ہی قائدِاعظمؒ کی خواہش پر ”نوائے وقت“ کے اجراءاور نظریہ¿ پاکستان کی ترویج واشاعت کے لئے جناب حمید نظامی(مرحوم) اور اُن کے بعد 1962ءسے ڈاکٹر مجید نظامی کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کِیا اور کہا کہ ”جناب مجید نظامی نے جو جدوجہد کی اُس کا نتیجہ یہ نکِلا کہ صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم، گورنر صاحبان، وزرائے اعلیٰ، پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہان اور پاکستان کی مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتیں یومِ پاکستان منا رہی ہیں اور پوری قوم بھی۔“
دراصل جو لوگ ”نظریہ¿ پاکستان“ کا مذاق اُڑاتے تھے آج کے دَور میں ”نظریہ¿ پاکستان“ اُن کے لئے ”نظریہ¿ ضرورت“ بن چکا ہے لیکن ایسے لوگ جب ”نظریہ¿ پاکستان“ کی بات کرتے ہیں تو مصّورِ پاکستان علّامہ اقبالؒ اور بانی¿ پاکستان حضرت قائدِاعظمؒ کا نام لینے سے اِس طرح گُریز کرتے ہیں کہ جیسے مشرقی بیویاں اپنے شوہروں کا نام لینے سے شرماتی ہیں۔ گذشتہ سال 31 مارچ کو لاہور میں (علّامہ اقبالؒ کے نام سے منسوب) اقبال پارک میں مینارِ پاکستان کے زیرِ سایہ جمعیت عُلما¿ اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل اُلرحمن نے اپنی ”اسلام زندہ باد کانفرنس“ سے خطاب کرتے ہُوئے کہا کہ ”مَیں مینارِ پاکستان پر پاکستان کے عوام کو یہ یاد دِلانے آیا ہوں کہ 23 مارچ 1940ءکو اِس مقام پر منظور کی گئی قرارداد کے مطابق پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا۔“ مولانا صاحب نہیں جانتے کہ پاکستان کے عوام کو پہلے سے ہی یاد تھا کہ ”اسلام کے نام پر بنائے جانے والے پاکستان کی مخالفت کرنے والے لوگ کون تھے؟ اِسی وجہ سے حسبِ سابق 11 مئی 2013ءکے عام انتخابات میں انہوں نے اُن مذہبی جماعتوں کو بھاری مینڈیٹ نہیں دِیا۔
اِس بار بھی مولانا فضل اُلرحمن نے 23 مارچ کو کراچی میں ”پیغامِ امن کانفرنس“ سے خطاب کرتے ہُوئے کہا کہ ”نظریہ¿ پاکستان“ کو محفوظ رکھنے میں دِینی مدارس نے اہم کردار ادا کِیا ہے۔“ سبحان اللہ! صُورت تو یہ ہے کہ دِینی مدارس میں تو ”نظریہ¿ پاکستان“ (مطالعہ¿ پاکستان کا مضمون) پڑھایا ہی نہیں جاتا۔ اِس لئے کہ پھر اِس مضمون میں دو قومی نظریہ کے علمبرداروں سر سیّد احمد خانؒ، علّامہ اقبالؒ اور قائدِاعظمؒ کی قومی خدمات کے بارے میں بھی پڑھانا پڑتا ہے۔ اگر دِینی مدارس کا ”نظریہ¿ پاکستان کو محفوظ رکھنے میں کردار ہوتا تو اُن میں سے تربیت پا کر خودکُش حملہ آوار اور دہشت گرد پیدا نہ ہوتے۔ جناب مجید نظامی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ”نظریہ¿ پاکستان ہی پاکستان کی بنیاد ہے“ اور اُس کے ساتھ ہی ”نظریہ¿ پاکستان“ کی وضاحت کرتے ہُوئے کہا ”افسوس66 سال گُزر جانے کے بعد بھی قائدِاعظمؒ اور علّامہ اقبالؒ کے وژِن کے مطابق پاکستان کو جدید، اسلامی، جمہوری اور فلاحی مملکت نہیں بنایا جا سکا۔“
ہماری مذہبی جماعتیں اسلامی مملکت کے قیام کی بات تو کرتی ہیں، لیکن ”جمہوری اور فلاحی مملکت“ اُن کا نصب اُلعین کبھی نہیں رہا۔ اسلامی، جمہوری اور فلاحی مملکت خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر بن خطابؓ نے قائم کی تھی۔ اُس فلاحی مملکت میں غیر مُسلم بیواﺅں اور یتِیموں کو بھی وظائف مِلتے تھے۔ سارے یورپ میں (عیسائی) جمہوری اور فلاحی مملکتیں قائم ہیں۔ وہاں کے اکثر دانشور اُس نظام کو ”حضرت عُمرؓ کا نظام“ بھی کہتے ہیں۔ پاکستان میں یہ نظام قائم کرنا مسلم لیگ کی ذمہ داری تھی لیکن مختلف دھڑوں میں بٹ جانے والی مسلم لیگ اِس پوزیشن میں کبھی نہیں رہی۔ محترم مجید نظامی نے مختلف ادوار میں مسلم لیگی دھڑوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی۔ 23 مارچ کی تقریب سے خطاب کرتے ہُوئے بھی انہوں نے کہا کہ ”مَیں ایک متحدہ مسلم لیگ دیکھنا چاہتا ہوں۔ خدا کرے کہ میری زندگی میں ہی یہ دِن آجائے۔“ ڈاکٹر مجید نظامی نے کہا کہ ”مَیں اِس تقریب میں میاں شہباز شریف اور گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کو Miss کر رہا ہوں کیونکہ دونوں ہی اِس تقریب سے غائب ہیں، اُن کے خیال میں وہاں بڑے لوگوں کی مجلس ہو رہی ہے لیکن مَیں یہ کہنا چاہتا ہُوں کہ یہاں اِس تقریب میں موجود خواتین و حضرات اُن سے کئی درجہ بڑے لوگ ہیں۔“ جب کوئی دوست یا عزیز مجلس سے غائب ہُو اور اُس کی کمی شِدّت محسوس کی جاتی ہو تو اُسے یاد کر کے کہا جاتا ہے کہ ”مَیں اُسے ''Miss'' کر رہا ہوں۔
در اصل ڈاکٹر مجید نظامی صاحب کو میاں شہباز شریف اور چودھری محمد سرور سے بہت ہی زیادہ اُمّیدیں ہیں۔ کہ وہ نہ صِرف پنجاب بلکہ پاکستان کے عوام کی بھی خدمت کے لئے کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھیں گے۔ میاں شہباز شریف اِس وقت (پنجاب مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے) علّامہ اقبالؒ کی کُرسی پر بیٹھے ہیں اور چودھری محمد سرور جن کے بزرگوں نے جالندھر (مشرقی پنجاب) میں تحریکِ پاکستان میں جانی و مالی قربانیاں دی ہیں اگر وعدہ کرنے کے باوجود 14 اگست سے بھی اہم دِن (23 مارچ 1940ئ) کے یادگار دِن کی تقریب سے غائب ہوں گے تو گلِہ تو بنتا ہے۔ لاہور سے اسلام آباد تک میٹرو بس سروس کا منصوبہ اچھا تو ہے لیکن اُس کے افتتاح کے لئے کسی اور ”شُبھ گھڑی“ کا انتظار کِیا جا سکتا تھا؟ اِس تقریب میں شریک خواتین و حضرات فی الحقیقت بہت ہی بڑے لوگ تھے۔ علّامہ اقبالؒ اور قائدِاعظمؒ کے روحانی فرزندان اور دُختران جن کے چہرے روشن، روشن ”نظریہ¿ پاکستان“ سے دمک رہے تھے۔ (جاری ہے)