وفاق المدارس العربیہ نے قومی سلامتی پالیسی کو مسترد کر دیا

25 مارچ 2014

کوئٹہ (آن لائن) وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے رہنمائوں نے قومی سلامتی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ہمیں اعتماد میں لے کر ہمارے تحفظات اور خدشات کو دور نہیں کیا جاتا اس وقت تک اسے قبول نہیں کرسکتے مدارس کے تحفظ کیلئے ملک بھر میں تحفظ مدارس دینیہ امن کانفرنس آج کوئٹہ میں منعقد ہوگی جس میں ملک بھر سے جید علماء کرام اور دیگر دینی شخصیات شرکت کریں گی۔ ان خیالات کااظہار وفاق المدارس کے مرکزی سیکرٹری جنرل قاری حنیف جالندھری، قاری امداداللہ، قاضی عبدالرشید، مفتی سید محمدہارون آغا، مفتی سید مطیع اللہ آغا، مفتی صلاح الدین سمیت دیگر کے ہمراہ سوموار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا قاری محمدحنیف جالندھری نے کہا کہ تمام دینی مدارس میں طلباء وطالبات ایک ہی چھت تلے دینی اور عصری تعلیم سے روشناس ہورہے ہیں جس میں قومیت کا کوئی تصور نہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے قومی سلامتی پالیسی پارلیمنٹ میں پیش کی ہے جس کے بارے میں وفاق المدارس کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اس پر ہمارے تحفظات اور خدشات ہیں کیونکہ اس میں ابہام پایاجاتا ہے کہ دینی مدارس کی اکثریت تو صحیح کام کررہی ہے لیکن کچھ انتہاء پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں یہ تاثر سراسر غلط اور بے بنیاد ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان مدارس کا شواہد کے ساتھ نام لے کر نامزد کریں جن سے ہم اپنا ناطہ توڑ کر عوام کو بتائیں گے کہ یہ مدارس منفی سرگرمیوں میں ملوث ہیں ان کا وفاق المدارس سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کا تمام نظام جامع اور متحرک ہے جس میں عصرحاضر کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کیا جاتا ہے مستقل نصاب کمیٹی جو جید علماء اور ماہر تعلیم شخصیات پر مشتمل ہے ہمہ وقت جائزہ لیتی رہتی ہے اور جو بھی چیز اس میں تبدیل کرنی ہوگی اسے نصاب یا عصر حاضر کے مطابق کیاجاتا ہے مدارس میں انگلش، سائنس، مطالعہ پاکستان، ریاضی، اردو عصری تعلیم میٹرک تک کا نصاب کمپیوٹر کورسز کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے۔ وزیر داخلہ کی جانب سے وفاق المدارس کو اعتماد میں لینے کا بیان سامنے آیا ہے اگر یہ کام وہ پالیسی اسمبلی میں پیش کرنے سے قبل کام کرتے تو آج یہ بیان دینے کی ضرورت نہ پڑتی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ ہم نے کبھی بھی حکومت، این جی اوز یا کسی بیرونی ممالک سے امداد نہیں ملی بلکہ پاکستانی عوام ہی ہمیں امداد فراہم کرتے ہیں۔ ہم نے کوشش کی ہے کہ غیر ملکی طلباء کو مدارس میں جس طرح یونیورسٹیوں میں تعلیم کیلئے این او سی جاری کیا جاتا ہے انہیں بھی این او سی کے ذریعے تعلیم کیلئے پاکستان آنے کی اجازت دی جائے۔