23مارچ اور پیار کے پہلے شہر کے لوگ

25 مارچ 2014

ادیب مستنصر حسین تارڑ کی سالگرہ تو یکم مارچ کو تھی مگر سالگرہ کی تقریب 23مارچ یوم پاکستان کو منعقد کی گئی۔ ہم نے یوم قرارداد پاکستان کی پلاٹینم جوبلی کا آغاز کر دیا ہے۔ مستنصر تارڑ کی بھی یہ پچھترویں سالگرہ کی تھی اس اشارے میں کیا کیا نشانیاں ہیں۔ سالگرہ تو ہمارے ادیب شاعر منواتے رہتے ہیں مگر یہ تقریب بالکل مختلف اور ممتاز تقریب تھی۔ یہ تقریب کسی بڑے ہوٹل میں نہیں ہوئی۔ یہاں غیر ضروری تکلفات دیکھنے میں نہ آئے۔ شرکاء میں سب جینوئن لوگ تھے۔ واقعی یہ ایک جینوئن اور بڑے ادیب کی سالگرہ تھی۔ تقریب میں کوئی تقریر نہیں ہوئی۔ کمپیئرنگ ایک جینوئن آرٹسٹ صوفی مزاج نورالحسن کے پاس تھی۔ سب کچھ سوال و جواب کی صورت میں تھا۔ اس صورتحال میں محفل کے سب لوگ شریک تھے۔ سٹیج پر صرف تین لوگ تھے۔ بانو قدسیہٗ عبداللہ حسین او رمستنصر حسین تارڑ۔ بانو آپا نے نجانے کس بات کے جواب میں کہا کہ مستنصر لڑکپن میں اشفاق احمد کے پاس ہمارے گھر میں آیا کرتا تھا۔ مجھے اچھا لگتا تھا۔ اب بھی اچھا لگتا ہے جبکہ وہ مجھ سے بڑا ہو گیا ہے۔ اس بات کو وہ ’’مشہور‘‘ لکھنے والے نہیں سمجھ سکتے جنہوں نے لفظوں کے کاروبار کو بدبو دار کر دیا ہے۔
مستنصر جانتا ہے کہ عزت محبت اور دوستی کیسے حاصل کی جاتی ہے۔ جبکہ ہمارے کئی سینئر لکھنے والے اسے بھی فائدے کی چیز سمجھتے ہیں۔ آرٹ کے ہر شعبے کے لوگ آئے تھے۔ ہر آدمی پوری طرح تقریب میں شریک تھا۔ نورالحسن نے کہا کہ سب چاہنے والے آئے ہیں۔ حیرت ہے کہ مرد زیادہ ہیں اور عورتیں بہت تھوڑی ہیں۔ شاید عورتوں کے لئے کوئی الگ تقریب ہو۔ نورالحسن کو میں تسلی دیتا ہوں کہ اس محفل کی کمپیئرنگ بھی نورالحسن کی ہو گی۔ مستنصر کے بھائی کرنل مبشر حسین تارڑ مستنصر کے بہت ہمشکل ہیں۔ ہمراز بھی ہوں گے۔ کہنے لگے کہ مجھے عورتیں مستنصر تارڑ سمجھ لیتی ہیں۔ نجانے نورالحسن نے اس سے یہ کیوں نہیں پوچھا کہ آپ کو کبھی مردوں نے بھی مستنصر سمجھا ہے۔
عورتیں کرنل تارڑ سے فری بھی ہوتی ہیں۔ یہ اس نے خود بتایا۔ ان کے ساتھ فوٹو گراف تو وہ بنوا لیتے ہیں البتہ آٹو گراف نہیں دیتے کہ راز فاش ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ تو پھر کرنل تاڑر کو کہنا پڑتا ہے کہ میں مستنصر تارڑ نہیں ہوں۔ یہ بھی جینئوئن ہونے کی علامت ہے ورنہ یہاں لوگ وہ بننے کی کوشش میں ہیں جو وہ نہیں ہیں نہ بن سکتے ہیں۔
ہر کسے را بہر کارے ساختند
مستنصر کی بیٹی قرۃ العین امریکہ سے آئی ہے۔ بیٹا سمیر تارڑ نجانے کہاں سے آیا ہے۔ مستنصر کے پوتے پوتیاں نواسے نواسیاں بھی محفل میں تھے۔ ان کی نواسی نے انگریزی میں بات کی۔ ’’ماما مجھے کہتی ہے کہ اردو سیکھو تاکہ اپنے نانا کی کتابیں پڑھ سکوں۔ اس نے انگریزی میں اعلان کیا کہ میں اردو سیکھوں گی۔ اردو کے بہت بڑے مزاح نگار مشتاق یوسفی نے ایک بار کہا تھا کہ لوگ مجھے پڑھتے ہیں مگر میرے بچے اردو نہیں پڑھ سکتے۔ فیض احمد فیض کے نواسے عدیل ہاشمی نے کہا کہ میں نے اردو سیکھ لی ہے۔ اپنے نانا کی شاعری پڑھ لیتا ہوں مگر میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ اسے مستنصر کی نثر پڑھنا چاہئے۔ کچھ نہ کچھ اسے سمجھ میں آ جائے گا۔ عدیل نے مستنصر کی کتاب کا ایک اقتباس پڑھ کے سنایا۔ اس کے پڑھنے کے انداز سے لگ رہا تھا کہ اسے سمجھ بھی آ رہی ہے۔ عدیل یہ کتابیں پڑھے۔ اس کی ملاقات کئی لڑکیوں سے بھی ہو گی مگر وہ عشق مستنصر سے ہی کریں گی۔ مستنصر کی کتابوں میں موجود لڑکیاں عدیل جیسے نوجوانوں سے عشق نہیں کر سکتیں جبکہ عدیل اچھا خاصا نوجوان ہے۔ موبائل فون کے اشتہار دیکھنے والی لڑکیاں اسے پسند کرتی ہیں۔ موبائل فون پر اس کے ساتھ گپ شب بھی کرتی ہوں گی۔ عرفان کھوسٹ اور سرمد کھوسٹ نے بھی مستنصر کی کتابوں میں سے اقتباس سنائے۔ اس کی کتابوں کے ٹائٹل بنانے والے بہت بڑے پینٹر سعید اختر بھی محفل میں تھے۔
حیرت ہے کہ سٹیج پر مستنصر کی اہلیہ ہماری بھابی بہن کو نہ بلایا گیا۔ ویسے ہمارا خیال ہے کہ وہ بہت اچھی ہیں۔ اچھی نہ ہوتیں تو پڑھنے والوں کو اتنی شاندار کتابیں کیسے ملتیں۔ کئی عورتوں کی اپنے مردوں سے مستنصر تارڑ کی کتابیں پڑھ کے صلح ہو گئی۔ ان کا خیال ہے کہ یہ کتابیں مستنصر کی اہلیہ نے بھی پڑھی ہوں گی۔ وہ خفا نہیں ہوئی تو کوئی راز کی بات ضرور ہے۔ راز کی بات یہ ہے کہ وہ مستنصر سے محبت کرتی ہے اور محبت کرنے کے لئے اعتبار کرنا پہلی شرط ہے۔
مستنصر نے اپنی گفتگو میں سب سے زیادہ ذکر اپنی اہلیہ کا کیا۔  ان کی بصیرت کو بہت سراہا۔ بصارت پر ایمان رکھنے والی عورتوں کے لئے اس میں بڑا پیغام ہے۔ مستنصر نے بتایا کہ جب انگلینڈ سے پڑھنے کے بعد واپس آیا تو میری پہلی کتاب ’’نکلے تری تلاش میں‘‘ شائع ہو چکی تھی۔ میں نے سوچا کہ پاکستان میں صرف لکھنے پڑھنے سے رزق نہیں کمایا جا سکتا۔ میں نے کاروبار شروع کرنے کا ارادہ کیا۔ میری بیوی نے مجھے مشورہ دیا کہ کاروبار ہمارا رجحان نہیں ہے جس طرف تمہارا ذوق و شوق ہے وہی کام کرو۔ پھر یہ ہوا کہ مستنصر کی ایک ایک کتاب کے لاتعداد ایڈیشن شائع ہوئے۔ پہلے نئے ایڈیشن کی اشاعت کا نمبر لکھا ہوتا تھا۔ جب ’’پیار کا پہلا شہر‘‘ کے پچاس سے زیادہ ایڈیشن شائع ہو گئے تو مجھے اہلیہ نے ایڈیشن کی تعداد لکھنے سے منع کر دیا۔ اس میں تکبر کا خیال بھی ذہن میں آ سکتا ہے۔ اور حاسدوں کی حسرتوں کے اثرات بھی دل پر آ سکتے ہیں:
مستنصر تارڑ نے سنگ میل والے نیاز احمد مرحوم کو بہت یاد کیا۔ جتنا دیانت دار اور دلیر کوئی پبلشر ہو سکتا ہے نیاز صاحب اس سے بہت آگے نکل گئے تھے۔ اس کے بیٹے افضال صاحب موجود تھے۔ انہوں نے اپنے والد کی محبتوں کی ترجمانی کی اور برملا اظہار کیا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ چھپنے والا رائٹر مستنصر حسین تارڑ ہے۔
یہ بھی کسی کتابوں کے شوقین نے بات کی کہ پاکستان سے باہر کسی ملک میں یہ کہا گیا کہ مستنصر کا ناول ’’بہائو‘‘  پڑھے جانے والے دس بہترین ناولوں میں شمار ہوتا ہے۔ بہت بڑے  ناول نگار عبداللہ حسین محفل میں تھے۔ ان کا ہونا  ہی اس حقیقت کی تصدیق  ہے۔  میں مستنصر کے لاکھوں پڑھنے والوں میں سے ایک ہوں۔  میں اس کے ساتھ  پیار کرتا ہوں۔  پیار کے پہلے  شہر کا رہنے والا ہوں۔ مستنصر پڑھنے والوں سے ایک نامعلوم  سی رشتہ داری رکھتا ہے۔  مگر لکھنے والوں کے ساتھ گھلتا ملتا کم  ہے۔ مجھے یہ گمان ہے کہ وہ  میرے لئے کہیں دل کے دور دراز گوشے میں کوئی تعلق  ضرور محسوس کرتا ہے۔  میں اظہار محبت میں بے اختیار ہوں مگر وہ اظہار محبت میں  با اختیار ہے۔ اس نے مجھے خود بلایا  میں  انکار نہ کر سکا۔ پھر  آپ کہیں گے کہ یہ  سب باتیں مجھے  کیسے معلوم ہو گئیں  میں وہاں موجود  تھا۔ اپنی موجودگی کو بیان  نہیں کر سکتا۔  میں تو اپنی عدم موجودگی کو بیان نہیں کر سکتا۔
مستنصر  کی محفل میں صرف وہ لوگ تھے جن کے ساتھ وہ کچھ وقت گزار سکتا ہے۔ وہاں میرے جیسے لوگ بھی تھے اور وہ لوگ  بھی تھے جن کے ساتھ مستنصر  نے  کوہ پیمائی کی ہے۔  وہ مستنصر  کے سب سے قریبی دوست ہیں ان میں سے سب سے قریب شاہد عزیز خان ہے۔ پہاڑوں کی محبت  میں جتنی کتابیں مستنصر کی ہیں ان میں شاہد عزیز کا  ذکر ہے۔  ’’کے ٹو کہانی‘‘ تو آغاز ہی شاہد کے ذکر سے ہوئی ہے۔ شاہد نے مجھے محفل کی ساری  کہانی سنا دی ایک محفل کو اس نے کئی محفلوں میں بیان کر دیا۔ مستنصر نے کئی دفعہ شاہد کو لکھنے کا کہا۔  شاہد نے  مستنصر  کے لئے ایک شعر مجھے سنایا:
اس صاحب ہنر کا ہنر یاد رہے گا
جو حبس کے موسم میں ہوا بانٹ رہا ہے
مستنصر نے بتایا  کہ میں نے غار حرا  میں ایک رات اور ’’منہ ول کعبہ شریف‘‘ لکھی تو لوگوں نے مجھے نجانے کیا سمجھ لیا۔  میرے ہاتھ بھی چومنے لگے۔  مگر میں نے اپنے ارد گرد ہر آواز کو انکار کر دیا۔ میری اہلیہ بھی مجھے کئی لوگوں کے کہنے  پر دعا کے لئے کہتی ہے۔ اس کا مطلب  کہ کوئی بات تو ہے۔  بھابھی مستنصر کی اہلیہ سے مجھے  لگتا ہے کہ کچھ عورتیں اہل سے اہلیہ ہوتی ہیں اور وہ اہل دل بھی ہوں تو ان کی بات مان لی جانی چاہئے۔  ہم نے تو مان لیا  ہے کہ مستنصر ایک موتی ہے آپ اسے ملامتی صوفی کہہ لیں۔وہ جب ’’غار حرا میں ایک رات‘‘ سے کچھ سنا رہا تھا۔ حضورؐ کے ذکر پر آب دیدہ ہو گیا۔  جب اس نے کہا کہ حضور کریمؐ  کی کوہ پیمائی کا راز  مجھ پر منکشف ہوا۔ جب آدمی بلندیوں کی طرف جاتا ہے تو وہ سر اٹھا کے نہیں چل سکتا۔ وہ آگے کو جھکا ہوا ہوتا ہے۔
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی 
یا بندہ صحرائی یا مرد کہستانی