مسئلہ کشمیر: بھارت ٹال مٹول کر رہا ہے‘ امریکہ کردار ادا کرے: ڈاکٹر نوازشریف‘ معاملات دیکھیں گے‘ کیری: تعاون کریںگے‘ فرانسیسی صدر

25 مارچ 2014

دی ہیگ (وقار ملک+ ذیشان شمسی+ وقت نیوز+ ایجنسیاں) وزیراعظم ڈاکٹر محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں بھارت ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔ وہ مسئلہ کشمیر حل نہیں کرنا چاہ رہا، اس ہچکچاہٹ کی وجہ سے تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے تیسری قوت کو شامل ہونا چاہئے۔ یہ ضروری ہو گیا ہے کہ امریکہ جیسی کوئی تیسری قوت اس مسئلے کے حل میں کردار ادا کرے، جنگوں کے زمانے گزر چکے ہیں، اب مسائل مذاکرات سے حل ہوتے ہیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل حل ہونے چاہئیں۔ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے تیسری قوت کو شامل کرنا چاہتے ہیں تاہم بھارت اس بات پر آمادہ نہیں، خطے میں قیام امن کیلئے امریکہ کو کردار ادا کرنا ہوگا، افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہو رہی ہے جو خطے میں قیام امن کی کوششوں کو متاثر کرسکتی ہے، پرامن افغانستان خطے اور پاکستان کے مفاد میں ہے، طالبان سے مذاکرات کے دوران ڈورن حملے بند ہونے چاہئیں، پاکستان کو درپیش چیلنجز سے موثر طور پر نمٹ رہے ہیں، امریکہ پاکستان کا اہم اتحادی ہے، اس نے ہر مشکل مرحلے پر پاکستان کی بھرپور مدد کی ہے، پاکستان کو اس وقت کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے جنہیں امریکہ کے ساتھ مل کر حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومت نیک نیتی سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے اور آج حکومتی مذاکراتی کمیٹی شمالی وزیرستان کا دورہ کرے گی جہاں وہ طالبان قیادت کے ساتھ براہ راست بات چیت کرے گی۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ کوشش کریں گے کہ طالبان سے مذاکرات کے دوران ڈرون حملے نہ ہوں اس سے پہلے بھی مذاکرات شروع ہونے کے بعد ڈرون حملے نہیں کئے گئے، پاکستان کی جوہری سلامتی پر مکمل اعتماد ہے، جوہری عدم پھیلائو کے حوالے سے پاکستان امریکہ ورکنگ گروپ کام کر رہا ہے، امریکہ پاکستانی عوام کو خوشحال دیکھنا چاہتا ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کے ساتھ ملکر کام کر رہے ہیں، توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے بھی پاکستان سے تعاون کر رہے ہیں، ہیگ میں وزیراعظم نوازشریف سے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی ملاقات قریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی، ملاقات میں پاکستان امریکہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور دیگر اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات کے بعد وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے جان کیری نے کہاکہ امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کیلئے پرعزم ہے، امریکہ کے بھی پاکستان کے ساتھ ایسے ہی مفادات ہیں جیسے پاکستان کے امریکہ کے ساتھ ہیں، امریکہ باہمی دلچسپی کے امور پر پاکستان کی امداد جاری رکھے گا، جان کیری نے کہاکہ پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات ان کا ذاتی عزم ہے، امریکہ پاکستان کے ساتھ گہری شراکت داری جاری رکھے گا کیونکہ دونوں اقوام پاکستان میں امن اور خوشحالی کے لئے کام کررہی ہیں، شدت پسندوں سے لڑائی‘ معیشت کی مضبوطی پاکستان کی توانائی کے چیلنجز اور تعلیم میں اضافے پر تعاون جاری رکھیں گے، پاکستان میں توانائی بحران کے حل کیلئے ہر ممکن مدد کریں گے،  انہوں نے پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے سٹریٹجک ڈائیلاگ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف خاموشی سے معیشت کی بہتری کے لئے کام کر رہے ہیں، جان کیری نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے وزیراعظم نوازشریف کے فارمولے کی تائید کرتے ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہاکہ انہوں نے جان کیری سے ملاقات میں مسئلہ کشمیر کے حل کی ضروت پر زور دیا۔ افغانستان میں امن پاکستان کے لئے ضروری ہے، امریکہ کی جانب سے ڈرون حملوں کی بندش کا خیرمقدم کرتے ہیں تاہم یہ حملے مستقل بند ہونے چاہئیں، پاکستان کو درپیش چیلنجز سے موثر طور پر نمٹ رہے ہیں، جان کیری سے ملاقات مثبت اور تعمیری رہی، امریکہ پاکستان کا اہم اتحادی ہے، اس نے ہر مشکل مرحلے پر پاکستان کی بھرپور مدد کی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اہم  ترین اتحادی ہے، پاکستان کو  دہشت گردی کی وجہ سے  معاشی اور دیگر شعبوں میں جن  مشکلات  اور چیلنجز کا سامنا ہے  ان سے  نمٹنے کیلئے  امریکہ اور پوری عالمی برادری کو پاکستان کی مدد کرنی چاہئے‘  ہماری حکومت  ان مشکلات پر قابو پانے کیلئے موثر اقدامات کر رہی ہے، امید ہے جلد ہی قابو پالیا جائیگا، جان کیری پاکستان کے مخلص دوست ہیں  پاکستان کی مدد کیلئے ہمیشہ انہوں نے  اہم کردار ادا کیا ہے۔ ملاقات میں دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعلقات، دہشت گردی کی جنگ سے متعلق معاملات، خطے کی مجموعی سلامتی کی صورتحال سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ جان کیری نے کہاکہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہر سطح پر تعاون کر رہے ہیں، پاکستان کی معیشت کو بحال کرنے کے معاملات کو امریکہ آگے بڑھانا چاہتا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔ وزیراعظم  نواز شریف نے کہا کہ  پاکستان بھارت کے ساتھ  تعلقات بڑھانا چاہتا ہے دوطرفہ  تعلقات میں مسئلہ کشمیر اصل رکاوٹ ہے۔  پاکستان مسئلہ  کشمیر  کا پرامن  حل چاہتا ہے۔  جان کیری نے یقین دلایا کہ  مسئلہ کشمیر  کے حوالے   سے معاملات کو دیکھیں گے۔  نواز شریف نے  کہا کہ  جان کیری  نے پاکستان کے ایٹمی کمانڈ اینڈ کنٹرول  سسٹم  کی تعریف کی، کہا پاکستان کا کنٹرول  اینڈ کمانڈ  سسٹم آئیڈیل ہے۔ دنیا کو پاکستان کے ایٹمی  کنٹرول اینڈ کمانڈ سسٹم سے سیکھنا چاہئے۔  وزیراعظم نے کہا کہ جان کیری نے پاکستان کی اقتصادی  پالیسیوں کی تعریف کی جان کیری سے تمام ایشوز  پر بات ہوئی۔  پاکستان افغان سرحد، دراندازی پر بات ہوئی،  خطے میں امن کیلئے افغان امن کونسل سے بات  کرنا چاہتے ہیں،  طالبان  کے ساتھ مذاکرات اور بھارت سے تعلقات  پر بات ہوئی۔ افغانستان سے بہتر ہونے والے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔ امریکہ پاکستان کی بجائے  بھارت کے میزائل  پروگرام  کا جائزہ لے۔  طالبان کے ساتھ نیک نیتی سے مذاکراتی عمل کو آگے لے جانا چاہتے ہیں۔  افغانستان کی طرف  سے سرحد پر حملے  کئے جاتے ہیں۔  افغانستان  کا امن خطے  کیلئے اہم ہے،  پاکستان پرامن  اور خوشحال افغانستان  دیکھنا چاہتا ہے۔ جان کیری نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی سکیورٹی پر مکمل اعتماد ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 13ورکنگ گروپوں کی سطح پر سٹرٹیجک مذاکرات ہو رہے ہیں، جوہری سلامتی کے موضوع پر  دو روزہ  بین الاقوامی کانفرنس ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں  شروع ہوگئی۔ کانفرنس میں  پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم محمد نواز شریف کررہے ہیں ۔وہ رات ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم پہنچے خصوصی معاون سید طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری بھی وزیراعظم کے ساتھ ہیں۔ اجلاس میں دنیا کے ترپن ممالک کے رہنما شرکت کریں گے۔کانفرنس میں53 ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت ، اقوام متحدہ کے نمائندے اور جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے اہلکار شریک ہیں۔نیوکلیئر سکیورٹی سمٹ یا این ایس ایس کے نام سے امریکی صدر باراک اوباما کے ایما پر 2009ء میں شروع کی جانے والے اس سربراہ کانفرنس کا مقصد دنیا بھر میں جوہری شعبے میں دہشت گردی کے خطرے کا مقابلہ کرنا ہے۔ ڈاکٹر محمد نوازشریف جوہری عدم پھیلائو کانفرنس میں شرکت کیلئے دی ہیگ پہنچے تو اعلیٰ حکام نے انکا پُرتپاک استقبال کیا۔ ہالینڈ کے وزیراعظم کی طرف سے وزیر اکنامک افیئرز نے انہیں اپنے ساتھیوں سمیت خوش آمدید کیا۔ وزیراعظم کی طرف سے گلدستہ پیش کیا۔ ہالینڈ کی پارلیمنٹ کے ارکان بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وقت نیوز کے مطابق جان کیری نے کہا کہ ہم نے ڈرون حملے روکدئیے ہیں تاہم شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں کے بارے میں بدستور تحفظات ہیں، یہ لوگ افغانستان میں امریکی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔ نوازشریف نے اس جانب توجہ دلائی کہ افغانستان کی سرحد کے پار سے دہشت گردی کے حملے میں ایف سی کے 23 جوان شہید ہوئے، میں نے اس پر صدر کرزئی سے بات کی تھی، ہم ڈرون حملوں کی مستقل بندش چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ کیری نے میزائل پروگرام پر تحفظات ظاہر کئے۔ میں نے واضح کیا کہ یہ پروگرام ڈیٹرنس کیلئے ہے، ہم اسلحہ کی دوڑ میں شریک نہیں۔ وزیراعظم نے یہ تسلیم کیا کہ بھارت کو پسندیدہ ترین قرار دینے کا معاملہ اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث موخر کیا گیا ہے، اس حوالے سے سٹیک ہولڈرز سے اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے کہا ہے، یہ معاملہ بھارتی الیکشن تک موخر کیا ہے ہم کسی ایک پارٹی کی فیور نہیں کرنا چاہتے۔
دی ہیگ (نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) وزیراعظم   ڈاکٹر محمد نواز شریف نے  نیوکلیئر سپلائر گروپ سمیت تمام برآمدی جوہری سمجھوتوں میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے، ہمارے جوہری اثاثے مکمل طور پر محفوظ ہیں، جوہری عدم پھیلاؤ پر یقین رکھتے ہیں، جوہری دہشتگردی کے خطرے سے بچنے کیلئے سب کو ملکر کام کرنا ہوگا، جوہری سلامتی کے لئے دوسرے ممالک کو تربیت فراہم کر سکتے ہیں، پاکستان 40سال سے ایٹمی بجلی گھر چلا رہا ہے اس کے پاس ڈھانچہ، افرادی قوت اور مکمل صلاحیت موجود ہے۔ دی ہیگ میں تیسری جوہری سلامتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف  نے  کہا کہ پاکستان 40سال سے محفوظ ترین جوہری پروگرام پر عمل پیرا ہے، جوہری تحفظ کے حوالے سے پاکستان نے ہمیشہ تعمیری کردار ادا کیا، یہ ہماری قومی ذمہ داری اور عالمی ترجیح ہے، جوہری سہولتیں اور مواد محفوظ بنانے کیلئے اقدامات جاری رہنے چاہئیں، تاکہ جوہری مواد کی دہشتگردی سے بچا جا سکے، پاکستان کے پاس سول جوہری توانائی پیداوار کے لئے تجربہ، افرادی  قوت ڈھانچہ موجود ہے ہم سب کو ہسپتالوں، صنعت اور تحقیق کیلئے تابکاری مواد کی ضرورت ہے تاہم ہمیں ان کے خطرات سے بھی آگاہ رہنا ہو گا، پاکستان جوہری تحفظ کو بے حد اہمیت دیتا ہے کیونکہ یہ ہماری قومی سلامتی کا معاملہ ہے، پاکستان ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے، ہم جوہری عدم پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ کم سے کم جوہری ہتھیاروں پر یقین رکھتے ہیں، ہمارے خطے کی ترقی کے لئے امن اور استحکام ناگزیر ہے، یہی وجہ ہے کہ میں نے ہمیشہ جوہری عدم پھیلاؤ روایتی طاقت میں توازن اور تصادم کے حل کے مختلف طریقوں کی بھرپور وکالت کی ہے، ہماری جوہری سلامتی کے پانچ ستون ہیں، جن میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کی قیادت میں مضبوط کمان اینڈ کنٹرول سسٹم، انٹیلی جنس کا مضبوط نظام اور اس مواد سے بھرپور عالمی تعاون شامل ہے، ہماری جوہری مواد اثاثے مکمل طور پر محفوظ ہیں، اس حوالے  سے حفاظت کا مربوط نظام قائم کیا گیا ہے، جوہری سلامتی اور تحفظ کے حوالے سے ہم نے خصوصاً تربیتی کورسز کے لئے مرکز قائم کئے، پاکستان اپنی تربیتی سہولتیں اور اس حوالے سے دوسرے اقدامات خطے سمیت دنیا بھر کے ملکوں کے ساتھ شیئر کرنے کیلئے تیار ہے، ہم نے جوہری اور تابکاری مواد کی غیر قانونی نقل وحرکت روکنے کیلئے مختلف مقامات تابکاری مواد کا پتہ لگانے کیلئے مربوط نظام قائم کیا ہے، پاکستان جوہری تحفظ کے حوالے سے عالمی ادارے کے ساتھ ملکر کام کر رہا ہے۔ میں چار سال قبل جوہری سلامتی کا یہ عمل شروع کرنے پر صدر بارک اوباما کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ماضی کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم فیصلوں اور عزائم کے ساتھ مشترکہ طور پر بین الاقوامی تعاون کو فروغ اور جوہری سلامتی کا کلچر قائم کرسکتے ہیں، پاکستان نے اس عمل میں تعمیری کردار ادا کیا، ہم سب جوہری سلامتی چاہتے ہیں جو ہماری قومی ذمہ داری اور عالمی ترجیح ہے، ہمیں ایسے اقدامات جاری رکھنا ہوں گے جن سے تمام جوہری تنصیبات اور مواد کو محفوظ بنایا جاسکے اور کسی بھی جوہری دہشتگردی کے خطرے پر قابو پایا جاسکے۔ ہمیں سب کو اپنے ہسپتالوں، صنعت اور تحقیق کیلئے تابکاری ذرائع کی ضرورت ہے لیکن ہمیں تابکاری کے خطرات سے بھی خبردار رہنا چاہئے۔ پاکستان جوہری سلامتی کو بڑی اہمیت دیتا ہے کیونکہ اس کا قومی سلامتی سے براہ راست تعلق ہے، قابل اعتماد ،کم از کم عسکری صلاحیت پر یقین رکھتے ہیں۔ اقتصادی ترقی کیلئے ہمارے خطے کو امن و استحکام کی ضرورت ہے تاکہ عوام اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ میں جوہری تحمل، روایتی فورسز کے توازن اور تنازعات کے حل کی وکالت کرتا ہوں۔ ہمارے سلامتی سمجھوتے میں جسمانی تحفظ، مواد پر کنٹرول اور محاسبہ کے ساتھ ساتھ سرحد پر کنٹرول اور تابکاری ہنگامی حالات کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ ہمارا جوہری مواد، تنصیبات اور اثاثے مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ پاکستان کے جوہری سیکورٹی سمجھوتے کی بنیاد مختلف سطح پر دفاع کی ہے، جس میں اندرونی، بیرونی دفاع کے ساتھ ساتھ سائبر خطرے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ ہم نے سینٹر آف ایکسیلینس قائم کیا ہے جو جوہری سلامتی، جسمانی تحفظ اور انفرادی صلاحیت میں اضافے کیلئے خصوصی کورس کراتا ہے۔ پاکستان  اپنے خطے اور اس سے باہر دلچسپی رکھنے والے ملکوں سے تربیتی سہولیات میں تعاون کیلئے تیار ہے۔ ہم نے تابکاری پر نظر رکھنے کیلئے نظام بھی نافذ کیا ہے جو مختلف داخلی اور خارجی مقامات پر قائم ہے تاکہ تابکاری اور جوہری مواد کی غیر قانونی نقل وحرکت روکی جاسکے۔ قومی سلامتی کیلئے بین الاقوامی تعاون کے تحت آئی اے ای اے کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس کا مرکزی کردار ہے۔ ہمارے پاس تجربہ، افرادی قوت اور سول نیوکلیئر انرجی پیدا کرنے کا ڈھانچہ موجود ہے۔ وزیراعظم کی حیثیت سے میں محسوس کرتا ہوں کہ پاکستان کو سنگین توانائی کے خسارے کا سامنا ہے، اب جبکہ ہم اپنی معیشت کو بحال کر رہے ہیں تو ہمیں بین الاقوامی تعاون اور آئی اے ای اے کے تحفظ کے ساتھ جوہری توانائی میں معاونت کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی سمجھوتوں اور فورمز کو چاہئے کہ وہ جوہری سلامتی کیلئے قومی اقدامات کا ساتھ دیں۔ پاکستان جوہری مواد کے فزیکل تحفظ کے کنونشن(سی پی پی این ایم) میں فریق ہے، ہم آئی اے ای اے کے ساتھ ملکر تابکاری ذرائع اور جوہری مواد کی غیر قانونی نقل وحرکت کیخلاف ملکر کام کر رہے ہیں، ہم باقاعدہ طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1540کمیٹی کو ان اقدامات کے بارے میں رپورٹس دیتے رہتے ہیں جو حساس مواد اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر کنٹرول کیلئے کئے جاتے ہیں۔ میں اس سربراہ اجلاس میں یہ اعلان کرنا چاہوں گا کہ ہم سی پی پی این ایم کی 2005ترمیم کی توثیق پر غور کر رہے ہیں اور مختلف تقاضے پورے کرنے کیلئے فعال جائزہ لے رہے ہیں۔ ہم مستقبل کی طرف دیکھتے ہیں، ہمیں چاہئے کہ  جوہری سلامتی کے حوالے سے اب تک ہونے والی پیشرفت کو مزید مضبوط بنائیں، ہمیں سیاسی عزم برقرار رکھنا، دوہرے رویے سے گریز اور رکنیت کو توسیع دینا ہوگی تاکہ اپنے فیصلوں کو زیادہ سے زیادہ قبول کرا سکیں۔ دریں اثنا وزیراعظم نوازشریف اور فرانسیسی صدر فرانسوا اولاندے میں ہیگ جوہری کانفرنس میں ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنمائوں نے دفاع اور معیشت کی بحالی کے حوالے سے تعاون پر اتفاق کیا۔ فرانسیسی صدر نے کہا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف پاکستان کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کردار ادا کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ معیشت کی بحالی کیلئے دہشت گردی کا سدباب ضروری ہے بھارت سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ ملاقات میں دوطرفہ امور اور افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم اور جرمن چانسلر انجیلا مرکل کی ملاقات آج ہو گی۔ وزیراعظم نوازشریف آج ہی ہالینڈ سے برطانیہ روانہ ہو جائیں گے۔ وزیراعظم نوازشریف سے امریکہ، چین اور ترک صدور نے بھی ملاقاتیں کیں۔ امریکی صدر بارک اوباما نے وزیراعظم نوازشریف سے گرمجوشی کے ساتھ ہاتھ ملایا اور حال دریافت کیا۔