آج خفیہ مقام پر مذاکرات کا امکان‘ طالبان سے جنگ بندی میں توسیع پر بات ہو گی: حکومتی مشاورت مکمل‘ ہم نے بھی 3 نکاتی ایجنڈا تیار کرلیا: ترجمان طالبان

25 مارچ 2014

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + نوائے وقت رپورٹ) حکومتی کمیٹی کے ارکان کی آج طالبان سے براہ راست ملاقات  کا امکان ہے ۔  ذرائع کے  مطابق   حکومتی کمیٹی اور طالبان کی براہ راست ملاقات شمالی وزیرستان میں ہو گی۔ کسی خفیہ مقام پر طالبان رابطہ کمیٹی کے ارکان بھی اس ملاقات میں شریک ہوں گے۔ حساس ترین مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔ حکومتی کمیٹی کے ارکان اور طالبان  میں مذاکرات کے لئے فاٹا میں خفیہ مقام کا تعین ہو گیا ہے۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار کی زیر صدارت ہوا جس میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام بھی موجود تھے۔ اجلاس میں طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے ایجنڈا پر مشاورت کی گئی۔  ذرائع کے مطابق  مذکرات میں جنگ بندی  کی مدت میں  توسیع پر بات چیت کی جائے گی طالبان کی مذاکراتی کمیٹی مذاکرات کے دوران رابطہ کار اور ضامن کی حیثیت سے موجود ہو گی۔ ذرائع کے مطابق حکومتی کمیٹی کے اس اجلاس میں اس بات فیصلہ کیا گیا ہے طالبان سے پاکستان کے آئین کے اندر رہتے ہوئے معاملات پر بات چیت کی جائے گی، ریاست کی رٹ ماننے والوں  کے مطالبات پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی جائے گی۔  ذرائع کے مطابق  فریقین کی مذاکراتی کی کمیٹیوں کے لئے خفیہ مقام تک رسائی ممکن ہے   وفاقی وزیر داخلہ نے مذاکراتی عمل کو یقینی بنانے کے لئے متعلقہ حکام کو مکمل تعاون کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔ مذاکراتی  عمل کو تیزی  سے آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔   وزیر داخلہ  نے مذاکرات کے حوالے سے حکومتی کمیٹی کے ارکان سے تجاویز لیں۔ انہوں نے اس حوالے سے حساس اداروں سے مشاورت مکمل کر لی۔ حکومتی  اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کی  طالبان شوریٰ کے نمائندوں سے پہلی باضابطہ ملاقات سے قبل اہم پیشرفت ہوئی ہے‘ وزیر داخلہ چودھری نثار سے پاکستان میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے ملاقات  کی‘ جس میں پاکستان امریکہ تعلقات اور خاص طور پر طالبان سے مذاکرات کا معاملہ زیر بحث آیا۔  ملاقات کے دوران خطہ کی صورتحال ‘ طالبان سے جاری مذاکراتی عمل خاص طور پر زیر بحث آئے ۔ وزیر داخلہ نے امریکی سفیر کو بتایا کہ حکومت  امن کیلئے  طالبان سے مذاکرات کر رہی ہے یہ مذاکرات آئین اور قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے کئے جا رہے ہیں۔ حکومت طالبان کی کوئی غیر آئینی  یا غیر قانونی شرط قبول نہیں کرے گی۔ ذرائع کے مطابق امریکی سفیر نے اپنے بعض تحفظات  سے وزیر داخلہ کو آگاہ کیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ امریکہ پاکستان کا  اہم اتحادی ہے اور ہم امریکہ سے  اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ امریکی سفیر نے پاکستان اور پاکستانی عوام کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  امریکی حکومت اور عوام دہشت گردی کے خلاف  پاکستان کی قر بانیوں کے معترف ہیں۔ امریکہ توانائی سمیت دیگر شعبوں میں پاکستان سے اپنا تعاون جاری رکھے گا۔ طالبان سے مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کے رکن رستم شاہ مہمند نے کہا ہے کہ طالبان شوری سے مطالبات کی فہرست تیار کرلی ہے جن میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹوں اور ڈاکٹر اجمل خان کی رہائی شامل ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رستم شاہ مہمند نے کہا کہ حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات صحیح سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، کمیٹی کے ارکان نے اتوار کو مذاکرات کی جگہ جانا تھا تاہم موسم کی خرابی کی وجہ سے وہ جا نہیں سکے تھے۔ حکومتی کمیٹی نے طالبان شوری سے مطالبات کی فہرست تیار کر لی ہے۔ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ خفیہ مقام پر ہونیو الے مذاکرات کا 3 نکاتی ایجنڈا تیار کرلیا گیا ہے، مذاکرات کے لئے ٹی ٹی پی نے طالبان رہنمائوں پر مشتمل کمیٹی کا اعلان کردیا ہے۔  شاہداللہ شاہدکا کہنا تھا کہ حکومت سے براہ راست مذاکرات کیلئے ایجنڈا تیار کرلیا ہے۔شاہداللہ شاہد نے کہا کہ نائب امیر شیخ خالد حقانی کی زیر صدارت طالبان عالی شوریٰ کے اجلاس میں سیاسی شوریٰ نے اب تک ہونیوالے مذاکرات اور پیش رفت سے آگاہ کیا۔ عالی شوریٰ کے اجلاس میں تین نکات پر اتفاق ہوا ہے۔ سب سے اہم نکتہ حکومتی تحویل میں موجود غیرعسکری طالبان کی رہائی ہے۔  طالبان امیر مولوی فضل اللہ کو عالی شوریٰ کے فیصلوں سے آگاہ کردیا گیا ہے۔ شاہداللہ شاہد نے الزام لگایاکہ کچھ حکومتی عناصر مذاکراتی عمل خراب کرنے کے درپے ہیں۔ ملک بھر میں طالبان حامیوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں قیدیوں کو ایک سے دوسری جیل منتقل کیا جا رہا ہے۔
پشاور (بی بی سی + نیٹ نیوز) طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے طالبان شوریٰ سے ملاقات میں حکومت اور طالبان کے منتخب مذاکرات کاروں کے علاوہ آئی ایس آئی کا نمائندہ بھی شریک ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کورکمانڈر کانفرنس میں کہا گیا تھا کہ فوج براہ راست مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گی حکومت جو بھی فیصلہ کریگی وہ اسے قبول کریگی، البتہ ایجنسیوں کی نمائندگی جس میں سب سے بڑی ایجسنی آئی ایس آئی ہے مذاکرات میں شامل ہوسکتی ہے۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلئے حکومتی کمیٹی پورٹس اور شپنگ کے وفاقی سیکرٹری حبیب اللہ خان خٹک، ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹا ارباب محمد عارف، وزیرِاعظم سیکرٹریٹ میں ایڈیشنل سیکرٹری فواد حسن فواد اور پی ٹی آئی کے رستم شاہ مہمند پر مشتمل ہے۔ ’’کور کمانڈر کانفرنس میں کہا گیا تھا کہ فوج براہ راست مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گی اور حکومت جو بھی فیصلہ کریگی وہ اسے قبول کریگی، البتہ ایجنسیوں کی نمائندگی جس میں سب سے بڑی ایجسنی آئی ایس آئی ہے مذاکرات میں شامل ہو سکتی ہے۔‘‘ پروفیسر ابراہیم کا کہنا تھا کہ طالبان سے مذاکرات میں پہلی ترجیح مستقل امن کا قیام یا کم ازکم جنگ بندی میں توسیع کروانا ہے۔ مقامی میڈیا میں یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ حکومتی کمیٹی طالبان کی قید میں موجود سابق گورنر پنجاب اور سابق وزراء اعظم کے بیٹوں شہباز تاثیر اور علی حیدرگیلانی اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اجمل خان کی بازیابی کیلئے بات کریں گے لیکن پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ جب ہم گذشتہ بار طالبان کی شوریٰ کے ساتھ مذاکرات کیلئے گئے تو حکومت کے قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر طالبان نے جواب میں خاموشی اختیار کی تھی ان کی طرف سے نہ ہاں میں جواب ملا ہے نہ ہی ناں میں۔‘ پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ طالبان اس انتظار میں ہیں کہ پہلے حکومت ان کے غیر عسکری قیدیوں کو رہا کرنے کا سلسلہ شروع کرے تو پھر وہ بھی ایسا کریں۔ پروفیسر ابراہیم نے تسلیم کیا کہ طالبان اور فوج کے درمیان تناؤ تو ہے اور یہ پیچیدہ معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا ماضی میں فوج نے معاہدے کیے اور اگر اس وقت فوج یہ ذمہ داری حکومت کو دیتی ہے اور اپنے آپ کو حکومت کا پابند قرار دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے اس سے پیچیدگیاں حل ہوسکتی ہیں۔ پروفیسر ابراہیم  نے کہا حکومتی کمیٹی اور طالبان شوری کی ملاقات کی فاٹا میں جگہ طے ہو گئی ہے۔ مصلحتاً  اسے خفیہ رکھا جا رہا ہے۔   طالبان رابطہ کمیٹی کے رکن مولانا یوسف شاہ نے کہا کہ مذاکرات کی جگہ کا تعین ابھی  نہیں ہوا۔ رواں ہفتے قوم کو بڑی خوشخبری مل سکتی ہے۔