مذاکرات پر فوج کے تمام شعبے متفق ہیں جنگ آخری آپشن ہوگا: خواجہ آصف

25 مارچ 2014
مذاکرات پر فوج کے تمام شعبے متفق ہیں جنگ آخری آپشن ہوگا: خواجہ آصف

اسلام آباد (آئی این پی+ ثناء نیوز) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ فوج کے تمام شعبہ جات طالبان کیساتھ مذاکرات پر متفق ہیں‘ اب تک جو بھی فیصلے ہوئے دہشت گردی ختم کرنے کیلئے ہوئے‘ کسی بھی ملک میں اپنی فوج نہیں بھیج رہے‘ لاپتہ افراد کی بڑی تعداد بازیاب کروالی گئی ہے‘ امن قائم کرنے کیلئے جنگ آخری آپشن ہوگا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں مذاکرات کیلئے دعاگو ہوں تاکہ جنگ سے بچا جاسکے۔ امن قائم کرنے کیلئے جنگ آخری آپشن ہوگا۔ آرمی کے تمام شعبہ جات مذاکرات پر متفق ہیں۔ کسی کو بھی اس سے اختلاف نہیں۔ جو بھی فیصلہ ہوگا وہ وزیراعظم کی مشاورت سے ہوگا کیونکہ اب تک جتنے بھی فیصلے ہوئے ہیں وہ سب دہشت گردی ختم کرنے کیلئے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کیساتھ ہمارا عسکری تعاون بہت پرانا ہے اس کے باوجود وزیراعظم نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہم کسی بھی ملک میں اپنی افواج نہیں بھیجیں گے۔ سعودی عرب سے ملنے والی امداد کو اس ضمن میں نہ لیا جائے کیونکہ ایٹمی دھماکوں کے وقت بھی سعودی عرب نے ہماری امداد کی تھی۔ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ حکومت طالبان مذاکرات میں روشنی کی کرن دکھائی دے رہی ہے۔ حکومت اور فوج مذاکرات پر متفق ہیں اس لئے مذاکرات کا آغاز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ فوج جن سے نبردآزما ہے ان کے کوئی قانون قاعدے نہیں ہیں ہماری فوج نے اس غیر اعلانیہ جنگ میں بے شمار قربانیاں دیں۔ لاپتہ افراد کے مقدمات میں عدالت قانون اور آئین کے تقاضے ضرور پورے کرے۔لاپتہ افراد کی بازیابی پر ضرور فوکس کیا جائے مگر اس پر فوکس کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں ہماری فوج اور سویلین نے جو قربانیاں دی ہیں ان لوگوں کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ جو لوگ لاپتہ افراد کی بات کرتے ہیں وہ شہداء کو فراموش نہ کریں توازن برقرار رکھیں یہ ان کے ذہن میں رہنا چاہیے کہ بم دھماکوں میں مارے جانے والوں کے ورثاً کس حال میں زندگی بسر کر رہے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ لاپتہ افرادبازیاب ہوں آئینی وقانونی تقاضے پورے ہونے چاہیں  جنگ ڈکٹیٹروں نے شروع کی تھی خواجہ آصف نے کہا کہ ہم 75فیصد لاپتہ افراد کا کھوج لگا چکے ہیں یا ان کو بازیاب کر اچکے ہیں 8افراد ایسے ہیں جن کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا یہ ڈھائی 3سالہ پرانے کیسز ہیں۔ اگر وہ پاکستان میں ہیں تو مل جائیں گے لیکن اگر افغانستان میں چلے گئے ہیں تو پھر کیا ہوسکتا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ شام کی جنگ میں ملوث ہونے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر وفاقی وزیر دفاع نے کہا کہ پچھلے 5سے 6ماہ میں کوئی بھی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہیں ہوئی اگلے 3ماہ میں گدو، اوچھ ، ندی پور کے پاور منصوبوں سے 1500سو میگا واٹ بجلی سسٹم میں آئے گی۔ اگلی گرمیوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کچھ نہ کچھ کمی آئے گی میر ی عوام سے درخواست ہے کہ وہ مئی کے مہینے میں اے سی کا استعمال نہ کریں۔ چند لاکھ خاندانو ں کے اے سی چلانے کی وجہ سے کروڑ ہا انسان بجلی سے محروم ہوجاتے ہیں اگر بجلی کا صرف کفایت شعاری سے ہوتو لوڈشیڈنگ میں خاطر خواہ کمی واقع ہوسکتی ہے۔ انشاء اللہ آئندہ ماہ رمضان پچھلے رمضان سے بجلی کے حوالے سے بہتر گزرے گا انہوں نے کہا کہ ڈالر سستا ہونے سے بجلی کی قیمت بھی کم ہوئی تاہم فوری ریلیف دینا آسان نہیں۔