تعلیم و تحقیق کا معیار عالمی یونیورسٹیوں کے ہم پلہ بنایا جائے تو خزانے نچھاور کر سکتے ہیں: شہباز شریف

25 مارچ 2014

لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ نوجوان نسل ہمارا قیمتی اثاثہ اور امید کی کرن ہے اور ملک کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ پاکستان کی خواتین باصلاحیت ہیں جو طب، انجینئرنگ، تعلیم، صحت اور قومی ترقی کے دیگر شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ قوم کو اپنی باصلاحیت بیٹیوں پر فخر ہے۔ میری اپیل ہے کہ خواتین ڈگریاں حاصل کرکے گھروں میں بیٹھنے کی بجائے میدان عمل میں آئیں اور قومی تعمیر و ترقی میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔ محنت، امانت، دیانت اور عزم کے ساتھ ملک و قوم کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے اور پاکستان بین الاقوامی برادری میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔ لاہور میں 11 ماہ کی ریکارڈ مدت میں میٹرو بس جیسا عظیم الشان شاہکار بنایا جا سکتا ہے تو نظام بھی بدلا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہورکالج فار ویمن یونیورسٹی کے 11 ویں کانووکیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ گورنر پنجاب و چانسلر یونیورسٹی چوہدری محمد سرور نے تقریب کی صدارت کی۔ شہباز شریف نے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی خواتین کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے اور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طالبات مختلف شعبوں میں گرانقدر خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ یونیورسٹیوں کو تعلیم و تحقیق کا مرکز ہونا چاہیئے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی کسی بھی یونیورسٹی کا دنیا کی 500 بڑی یونیورسٹیوں میں شمار نہیں ہوتا۔ وائس چانسلرز، محکمہ تعلیم کے حکام اور ماہرین یونیورسٹیوں میں تعلیم و تحقیق کے معیار کو عالمی یونیورسٹیوں کے ہم پلہ بنائیں تو میں پنجاب حکومت کے خزانے اس مقصد کیلئے نچھاور کرنے پر تیار ہوں۔ انہوں نے ڈگریاں حاصل کرنے والی طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ شاندار کامیابی محنت کا نتیجہ ہے اور قوم کی بیٹیاں زندگی کے تمام شعبوں میں مردوں پر سبقت لے رہی ہیں۔ اسی محنت ، جذبے اور عزم سے کام کرتے رہیں تو ملک کا نظام بدل سکتا ہے۔ پاکستان کو توانائی، دہشت گردی، انتہاپسندی، کرپشن اور دیگر سنگین مسائل کا سامنا ہے اور اجتماعی کاوشوں سے ہی ملک کو ان مسائل سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔ عظیم جدوجہد اور بیش بہا قربانیوں کے بعد آزاد مملکت تو حاصل کر لی گئی لیکن بانیان پاکستان کے خواب ابھی ادھورے ہیں۔ 67 سال گزرنے کے باوجود آج بھی قیامِ پاکستان کے مقاصد حاصل نہیں کئے جا سکے۔ جرنیل، ججز، بیوروکریٹس اور اشرافیہ کو تو زندگی کی تمام سہولتیں میسر ہیں جبکہ عام آدمی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہے۔ بلاشبہ ایسی مملکت کا خواب بانیان پاکستان نے نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی ہمارے آبائو اجداد نے ا س کیلئے قربانیاں دی تھیں۔ وزیراعلیٰ نے 23 مارچ کے تاریخی دن کی اہمیت کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ دن ہے جو ہمیں اخوت، بھائی چارے اور اتحاد کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم آج محنت، امانت، دیانت اور عزم و حوصلے کے ساتھ اپنے شب و روز اس طرح ایک کر دیں جس طرح 23 مارچ 1940 کو مسلمانان برصغیر پاک و ہند نے ایک پرچم تلے اکٹھے ہو کر علیحدہ وطن حاصل کیا تھا تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اقوام عالم میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل نہ کر سکے۔ قیام پاکستان کی تاریخی جدوجہد میں لاکھوں مسلمانوں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ دیا، خون کے دریا عبور کئے یہ بیش بہا قربانیاں اس لئے نہیں دی گئی تھی کہ پاکستان میں ناانصافی کا دور دورہ ہو گا۔ کرپشن کا راج ہو اور ایک دوسرے کے گلے کاٹے جائیں۔ قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں الگ وطن اس لئے حاصل کیا گیا تھا کہ یہاں عام آدمی کو انصاف ملے، میرٹ کا دور دورہ ہو۔ محنت کی عظمت ہو، لیکن آج ہم قومی ترانہ پڑھتے ہیں، قائدؒ اور اقبالؒ کے افکار کا حوالے دیتے ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کرتے۔ ہم کسی اور سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے بے انصافی اور زیادتی کر رہے ہیں۔ ہمیں محنت، دیانت، میرٹ اور انصاف پر چلنا ہے یہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے اور اسی کا درس قائدؒ اور اقبالؒ نے بھی دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محنت، امانت، دیانت، عزم اور لگن سے کام کرکے ملک کو صحیح معنوں میں فلاحی ریاست بنانا اور فرسودہ نظام کو بدلنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں 11 ماہ کی ریکارڈ مدت میں میٹرو بس جیسا عظیم الشان شاہکار بنایا جا سکتا ہے تو نظام کو بھی بدلا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2010 کے بدترین سیلاب اور ڈینگی کی وبا کے دوران جس جذبے اور محنت سے کام کیا گیا اسی کو تمام شعبوں میں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ سخت محنت، اجتماعی بصیرت اور عزم کے ساتھ کام کرتے ہوئے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کریں گے اور پاکستان کو دنیا کا عظیم ملک بنائیں گے۔ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی کی تمام گریجوایٹس، میڈلز اور ایوارڈز حاصل کرنے والی طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی ان کی محنت کا ثمر ہے جس کا کریڈٹ ان کے اساتذہ اور والدین کو بھی جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف فروغ تعلیم کیلئے پرعزم ہیں اور انہوں نے تعلیم کے بجٹ کو دو گنا کر دیا ہے۔ انہوں نے شہباز شریف کی عوامی خدمات پر زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ تقریب میں شہباز شریف جیسا ویژنری اور محنتی لیڈر موجود ہے جو دن رات عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔ وائس چانسلر لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر صبیحہ منصور نے یونیورسٹی میں تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں اور یونیورسٹی کے آئندہ کے پروگراموں پر روشنی ڈالی۔ گورنر پنجاب اور وزیراعلیٰ نے طالبات میں ڈگریاں اور نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات میں گولڈ میڈلز تقسیم کئے۔ علاوہ ازیں شہباز شریف نے برکی روڈ پر آشیانہ اقبال کی سائٹ کا دورہ کیا اور منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ نے منصوبے پر سست روی اور کوتاہی کا مظاہرہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے قائم مقام چیف ایگزیکٹو آفیسر کو فی الفور عہدے سے ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے دیگر ذمہ دار افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا بھی حکم دیا۔ وزیراعلیٰ نے برکی سے آشیانہ اقبال کی سائٹ تک سڑک کی بروقت تعمیر نہ کرنے کا بھی سخت نوٹس لیتے ہوئے شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور متعلقہ افسران کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ مفاد عامہ کے منصوبوں میں لاپرواہی اور غفلت برتنے والے افسروں کو اپنے عہدوں پر رہنے کا کوئی حق نہیں اور میں پنجاب میں ایسے کسی افسر کو کسی صورت برداشت نہیں کروں گا جو اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں تساہل یا غفلت کا مظاہرہ کرے گا۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے کہا کہ آشیانہ ہائوسنگ پراجیکٹ کم وسیلہ خاندانوں کو اپنی چھت فراہم کرنے کا ایک انقلابی پروگرام ہے اور اس پروگرام کو ایک قومی ذمہ داری سمجھ کر آگے بڑھایا گیا ہے تاہم آشیانہ اقبال کی سائٹ کے دورے کے دوران متعلقہ افسران کی کارکردگی دیکھ کر مجھے انتہائی افسوس ہوا ہے۔ کم وسیلہ خاندانوں کو چھت کی فراہمی کے منصوبوں میں لاپرواہی اور غفلت برتنے والے افسران کو اپنے عہدوں پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔ آشیانہ ہائوسنگ سکیم کم وسیلہ خاندانوں کیلئے شروع کیا گیا ایک انقلابی منصوبہ ہے۔ عام لوگوں کواپنی چھت فراہم کرنے کے پروگرام میں کوئی کوتاہی یا سستی برداشت نہیں کروں گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ آشیانہ اقبال کا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ماڈل بنایا جائے۔ وزیراعلیٰ نے بریفنگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آشیانہ قائد میں ہزاروں بے گھر افراد کو اپنی چھت فراہم کی گئی ہے ۔ صوبائی دارالحکومت کے علاوہ ساہیوال، فیصل آباد اور پنجاب کے دیگر بڑے شہروں میں بھی آشیانہ ہائوسنگ سکیموں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ دریں اثنا شہباز شریف سے امریکن بزنس کونسل کے صدر سعد امان اللہ خان کی سربراہی میں وفد نے گزشتہ روز ملاقات کی۔ شہبازشریف نے کہاکہ امریکن بزنس کونسل کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول فراہم کیا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات فراہم کی جارہی ہیں۔ حکومت کی ٹھوس معاشی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ انتہاپسندی اور توانائی بحران کے خاتمے کیلئے مخلصانہ کاوشیں رنگ لا رہی ہیں۔ چین نے پاکستان کیلئے 32 ارب ڈالر کے تاریخ ساز سرمایہ کاری پیکیج کی پیشکش کی ہے۔ چین کے سرمایہ کاری پیکیج کے تحت توانائی سیکٹر میں 20 ہزار میگاواٹ کے بجلی کے منصوبے مکمل کئے جائیں گے۔ چین کی معروف کمپنی فیصل آباد کے انڈسٹریل زون میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے تناظر میں قائد اعظم اپیرل پارک کے قیام کا منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے بھی دن رات کوشا ں ہے اور چولستان میں قائداعظم سولر پارک کے منصوبے پر برق رفتاری سے کام جاری ہے۔ علاوہ ازیں امریکن بزنس کونسل کے صدر سعد امان اللہ خان کی سربراہی میں وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کرنے والے وفد کے ارکان نے شہباز  شریف کے صوبہ پنجاب میں عوام کی ترقی اورخوشحالی کے لئے کئے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے صوبے میں حقیقی معنوں میں گڈ گورننس کو فروغ دیاہے اوربہترین طرز حکومت کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے بلاشبہ پنجاب حکومت سب کے لئے ایک رول ماڈل کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ لاہور سمیت پنجاب میں آکر خوشگوار احساس ہوتا ہے کہ پاکستان حقیقی معنوں میں ترقی اور خوشحالی کی جانب بڑھ رہا ہے۔