قومی اسمبلی: شیخ رشید کو طیارے سے اتارنے پر حکومت‘ اپوزیشن میں جھڑپ‘ ایوان مچھلی منڈی بن گیا

25 مارچ 2014

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ آن لائن+ آئی این پی) وزیر داخلہ چودھری نثار کی قومی اسمبلی میں تقریر پر ایوان میں ہنگامہ ہوگیا اور حکومتی و اپوزیشن ارکان کے درمیان جھڑپ کے دوران حکومتی و اپوزیشن ارکان نے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کردی، نازیبا الفاظ کا استعمال  ہوا اور تو تکرار سے ایوان مچھلی منڈی بن گیا۔ چودھری نثار اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی تقاریر کے دوران نو، نو اور گو گو کے نعروں سے ایوان گونجتا رہا، ارکان نے ڈیسک بجائے۔ محمود خان اچکزئی کی خصوصی درخواست پر معاملہ رفع دفع کرایا گیا۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا حکومت شیخ رشید کی طرف سے جمع کرائی جانے والی تحریک استحقاق کا نوٹس لے، امریکہ کے کہنے پر شیخ رشید کو جہاز سے کیوں اتارا گیا، امریکہ بہادر کے کہنے پر ہمیں غلام بنا لیا گیا ہے، یہ ریاست ہے یا امریکہ کی زرخیز غلام، حکومت فوری طور پر اسکا فیصلہ کرے اور امریکی سفیر کو دفتر خارجہ بلا کر احتجاج کرے، یہ شیخ رشید کی نہیں بلکہ تمام پارلیمنیٹرین کی توہین ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا  یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ ماضی میں عمران خان کے ساتھ بھی ایسا کیا گیا۔ امریکہ پاکستان کے درمیان تعلقات مستحکم چاہتے ہیں مگر اپنی عزت، وقار اور ملکی سلامتی کو داؤ پر نہیں لگانا چاہتے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے کہا حکومت نے اس بات پر اتفاق کرلیا ہے اس معاملے کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا ہے مگر جس طرح سے ایک معزز ممبر کو جہاز سے اتارا گیا ہے یہ معاہدہ ماضی کی حکومتوں میں ہوا تھا اور اسکے اصل محرکات ایوان میں پیش کردئیے تو بہت سارے لوگوں کے چہرے بے نقاب ہو جائیں گے۔ میں نے سچ کو پارلیمنٹ کے سامنے رکھ دیا تو ماضی میں حکومت کرنے والے شرفاء کے چہرے بے نقاب ہوں گے، آج جو لوگ امریکہ کے خلاف تقریریں کر رہے ہیں، وہ بتائیں رات کے اندھیرے میں انکے دور حکومت میں پاک سرزمین پر حملہ ہوا اور یہاں پر ایک کھیل کھیلا گیا، آج امریکہ کیخلاف تقریریں کرنے والے  جب حکومت میں تھے تو ایک لفظ تک نہیں بول سکتے تھے، یہ باڑہ نہیں قومی اسمبلی ہے اور نہ ہم اس کو باڑہ بننے دیں گے،آج جو ہمیں امریکہ کی مخالفت کا درس دے رہے ہیں وہ کل تک ان کے حواری تھے، یہاں پر بلیک واٹر کیا کرتی رہی اور اس نے کیا گل کھلائے، 300  غیرملکیوں نے یہاں پر گھر کرائے پر لئے ہوئے تھے، ہم نے پاکستانی اور امریکی کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کئے، ہم نے اپنے وطن کی تضحیک کبھی نہیں ہونے دی، انکی تقریر پر ایوان میں نعرے شروع ہوگئے۔ چودھری نثار پر پیپلز پارٹی کے ممبران اسمبلی ایاز سومرو اور عبدالستار بجارانی نے براہ راست فقرے کسنے شروع کردئیے۔ اس موقع پر سپیکر نے مائیک اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے حوالے کیا اور ان سے کہا  وہ معاملے کو رفع دفع کریں۔ خورشید شاہ نے کہا آج جو لوگ معاہدات اور این آر او کی بات کر رہے ہیں ہم نے ماضی کے قصے چھیڑنے شروع کردئیے تو اس پارلیمنٹ میں شرفاء کے چہرے بے نقاب کریں گے، ہمارے پاس بھی فوٹو موجود ہیں۔ جنرل سے معافی مانگ کر ملک سے فرار ہوئے تھے، ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم حقائق پیش کریں، ہماری شرافت کو کمزوری نہ سمجھا جائے،  حکومت کے وزیر تیس مارخان بننا چاہتے ہیں تو ہم ساٹھ مار بنیں گے۔ چودھری نثار نے کہا چالیس سال گزر گئے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو کو جہان فانی سے گزرے ہوئے، انکے قصے سنا کر جو لوگ سیاست کرنا چاہتے ہیں اب لوگ انکے ان قصوں سے بے وقوف نہیں بنیں گے۔ اس موقع پر خواجہ سعد رفیق نے معاملہ رفع دفع کرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہمیں ذوالفقار علی بھٹو کی ذات سے کوئی اختلاف نہیں وہ ایک قومی لیڈر تھے۔ شیخ رشید احمد نے کہا حکومت تمام سیاسی جماعتوں، پارلیمنٹرین و دفتر خارجہ کے سینئر لوگوں پر مشتمل کمیٹی بنائے اور اس معاملے کو دیکھا جائے۔ بعدازاں سپیکر نے اس تحریک استحقاق کو متعلقہ سٹینڈنگ کمیٹی کے سپرد کردیا۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا قومی اسمبلی کو اکھاڑہ نہ بنائیں، ارکان تہذیب کے دائرے میں رہ کر بات کریں۔ آئی این پی کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے کہا وکلا کے مطالبات حل نہ کئے گئے تو ان کا احتجاج طول پکڑے گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا وکلا کے مطالبہ پر فی الفور توجہ نہ دی تو یہ صرف اسلام آباد تک محدود نہیں رہیگا۔ خورشید احمد شاہ نے بھی مئوقف اختیار کیا اس معاملے کو سلجھایا جائے ورنہ یہ طول پکڑے گا۔ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا احتجاج کرنا وکلاء کا حق ہے ان کے مطالبات پورے کئے جائیں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر  پرویز رشید نے کہا  پارلیمنٹ ہائوس کے باہر احتجاج کرنے والے وکلاء کے تمام مطالبات تسلیم کر لئے گئے ہیں، دہشت گردی کا نشانہ بننے والے ملک کے سرکاری و عام آدمی کو یکساں معاوضہ دینے کا مقدمہ خود وزیراعظم کی وطن واپسی پرا ن کے سامنے پیش کرونگا، ڈسٹرکٹ کورٹس کو رینجرز کے ذریعے سکیورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے بات ہو چکی ہے، آئندہ بجٹ میں مستقل کورٹ کی عمارت کی تعمیر کیلئے فنڈز مختص کئے جائیں گے، جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ آنے پر اسلام آباد کچہری واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے آتے ہوئے وکلا کے احتجاج کے باعث روکے جانے پر مسلم لیگ (ن) کے رکن میاں عبدالمنان نے تحریک استحقاق پیش کر دی۔ سپیکر نے تحریک کو کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ سٹیٹ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی پہلی سہ ماہی رپورٹ برائے سال 2013-14ء قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی۔ خیبر پی کے سے قومی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے والے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سابق صدر ایوب خان کے پوتے عمر ایوب خان نے قومی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔