ملک بھر میں پولیو مہم شروع، پشاور میں خاتون ورکر اغوا کے بعد قتل

25 مارچ 2014

اسلام آباد + پشاور (نوائے وقت رپورٹ + اے ایف پی) ملک بھر میں 3 روز انسداد پولیو مہم شروع کر دی گئی جبکہ پشاور میں خاتون پولیو ورکر کو اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق 3 روزہ انسداد پولیو مہم کے دوران 3 کروڑ 40 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین پلائی جائے گی اس حوالے سے حکومت نے چاروں صوبائی حکومتوں کی معاونت سے ایک لاکھ 18 ہزار پولیو ورکرز ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین پلائیں گی۔ فاٹا، جنوبی وزیرستان، پشاور اور دیگر علاقوں میں ان ٹیموں کی حفاظت کے لئے تخت انتظامات  کئے گئے ہیں کراچی میں پولیو مہم آج  شروع ہو گی اور 75 لاکھ بچوں کو 4 روز کے دوران ویکسین پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ پولیو  ٹیموں کے ہمراہ پولیس اہلکار متعین ہوں گے۔ ادھر صوابی میں اساتذہ  نے پولیو مہم میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ ٹیچرز ایسوسی ایشن کے ضلعی صدر لطیف خان نے ہنگامی اجلاس کے بعد بتایا اساتذہ کا کام سکولوں میں پڑھانا ہے پولیو ویکسین پلانا نہیں۔ ادھر پشاور میں خاتون پولیو ورکر کو اغوا کے بعد گولیاں مارکر قتل کر دیا گیا، 32 سالہ لیڈی ہیلتھ وزیٹر سلمیٰ غنی جو پانچ بچوں کی ماں تھی، کی گولیوں سے چھلنی نعش پشاور کے نواحی علاقے دائود زئی میں  نہر کے  پاس گندم کے کھیت میں دبی ہوئی ملی جسے پولیس نے تحویل میں لے کر خیبر ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا۔ سلمیٰ غنی کو 5 مسلح افراد نے شہر میں انکے گھر کے باہر سے اغوا کیا تھا۔ پشاور پولیس کے سینئر افسر رحیم شاہ نے بتایا کہ سلمیٰ غنی کو کئی گولیاں ماری گئیں تاہم انکا قتل اسکا پولیو مہم میں حصہ لینے کی وجہ سے ہوا یہ ابھی واضح نہیں اے ایف پی کے مطابق پاکستان میں پولیو ٹیموں پر حملوں میں اب تک 56 افراد مار جا چکے ہیں۔ واضح رہے سلمیٰ غنی کے اغوا کے خلاف گزشتہ رات درجنوں افراد نے موٹروے پر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے ٹریفک بلاک کر دی تھی پولیس نے سلمی کے شوہر کریم خان کی رپورٹ پر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ سلمیٰ کئی سال سے اپنے علاقے میں پولیو ورکر کے طور پر کام کر رہی تھی۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کی رہنما اور اقوام متحدہ کی انسداد پولیو کے حوالے سے خیرسگالی سفیر آصفہ بھٹو زرداری نے لیڈی ہیلتھ ورکر کے اغواء اور قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے وفاقی اور خیبر پی کے  حکومت سے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹوئیٹر پر پیغام میں انہوں نے کہا جس طریقے سے سفاک افراد نے پشاور میں ایک لیڈی ہیلتھ ورکر کو اغواء کر کے قتل کیا یہ انتہائی قابل مذمت اقدام ہے۔ انہوں نے کہا  حکومت ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی ہے اور پولیو ٹیموں کے تحفظ کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے حالانکہ ملک بھر میں پولیو رضاکاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ادھر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے بیان میں خاتون پولیو ورکر کے بیہمانہ قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے کھلی بربریت قرار دیا اور کہا طالبان اس سے قبل بھی کئی ورکرز کو نشانہ بنا چکے ہیں حکومت ان کی  کارروائیوں کا نوٹس لے اور لیڈی ہیلتھ ورکر کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔