معاشی صورتحال کے باعث ایئر پورٹ بنانے کی کوئی تجویز نہیں: وزیر پارلیمانی امور

25 مارچ 2014

اسلام آباد (آن لائن + آئی این پی) وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا ہے موجودہ معاشی صورتحال  دیکھتے ہوئے ملک بھرمیں کہیں بھی ائیرپورٹ بنانے کی کوئی تجویز نہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری راجہ جاوید اخلاص نے کہا یوٹیوب پر گستاخانہ مواد کو روکنے کا وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پاس کوئی میکنزم نہیں، حکومت جلد ایوان میں سائبر کرائم بل ایوان میں لارہی ہے جس سے انٹرنیٹ پرکرائم کی روک تھام ہوسکے گی۔ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا وزارت ریلوے نے سکریپ کی مد میں دو ارب 12کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد ریونیو کمایا ہے اور گزشتہ تین سال کے دوران ریلوے کو 154 ارب روپے سے زائد کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے، ریلوے  کے خسارے میں بتدریج کمی واقعہ ہورہی ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران رکن اسمبلی مہرین رزاق بھٹو کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت بلیغ الرحمن نے بتایا وزارت کے پاس طلبہکا ڈیٹا موجود ہے یہ کہنا غلط ہے وزارت کے پاس ڈیٹا موجود نہیں ، پہلے دو مہینوں میں 17 طلباء واپس آئے۔ صاحبزادہ محمد یعقوب کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 2010 ء سے قبل کوئی یونیورسٹی  رینکنگ فہرست شامل نہیں کی گئی۔ جاوید لطیف کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری راجہ جاوید اخلاص نے بتایا سروس ٹریبونلز ایکٹ بہت جلد ایوان میں پیش کردیا جائیگا۔ طاہرہ بخاری کے سوال کے جواب میں شیخ آفتاب نے بتایا ملک بھرمیں ابھی نئے  ائیرپورٹ بنانے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔ شکیلہ لقمان کے سوال کے جواب میں خواجہ سعد فیق نے بتایا ریلوے کا خسارہ 33 ارب روپے سے کم کرکے 24 ارب روپے تک لے آئیں گے۔ قومی اسمبلی  کو حکومت کی طرف سے  آگاہ کیا گیا مئی 2013ء تک پی آئی اے کو 15ارب 90کروڑ جبکہ رواں سال پہلے 6ماہ میں 18ارب 38 ارب سے زائد کا خسارہ ہوا، حکومت نے پی آئی اے کو قرضے کی ادائیگی اور جہاز کرائے پر حاصل کرنے کیلئے 16ارب روپے جاری کر دیئے، رواں سال چین سے 23لوکوموٹو درآمد ہوں گے، 3ماہ میں مال گاڑیوں کی تعداد 25سے بڑھا کر 45کر دیں گے۔ حکومت نے اب تک انٹرنیٹ پر 31ہزار819 قابل اعتراض  اور فحش ویب سائیٹس بند کی ہیں،9 ماہ میں نجی چینلز کو 15کروڑ 94لاکھ روپے سے زائد کے سرکاری اشتہارات جاری کئے گئے۔ این این آئی کے مطابق سعد رفیق نے بتایا چین سے 40 انجن آئندہ دو ماہ میں پاکستان ریلوے کو مل جائیں گے‘ یہ انجن مسافر بردار گاڑیوں میں استعمال کئے جائیں گے‘ ریلوے سمیت تمام اداروں میں جیالوں اور متوالوں کو بھرتی کر کے اداروں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔