پرویز رشید کے مغالطے

25 مارچ 2014

  عرفان صدیقی بہت زیادہ بولتے تھے،کھلاڑی چوکے چھکے لگا رہاہو تو وہ آﺅٹ بھی اسی تیزی سے ہوتا ہے، پرویزرشید نے اس نکتے پر غور نہیں کیا اور وہ عرفان صدیقی کی راہ پر چل نکلے ہیں ، ہر روز خبروں میں ہیں اور مسلسل بولتے چلے جا رہے ہیں، عرفان صدیقی طالبان کا علم بلند کرنے کے چکر میں تھے ، پرویز رشید نے اس سے بھی بڑا جھندا اٹھا لیا ہے، پتہ نہیں کیوں، وہ بھارت کی تجارت کے گن گا رہے ہیں ، انڈیا میں الیکشن نہ ہو رہے ہوتے تووفاقی کابینہ بھارت کے لئے موسٹ فیورڈ نیشن کا نوٹی فیکیشن جاری کر چکی ہوتی ۔مگر وفاقی کابینہ میں پھوٹ پڑ گئی اور کچھ ہمارے فارن آفس کی غیرت جاگی، کچھ یوم پاکستان کے موقع پر نظریہ پاکستان کے احیا کے جلسے جلوسوںنے رنگ دکھایا، یوں بھارت کے ہم نواﺅں کو بغلیں بجانے کا موقع نہیں مل سکا بلکہ وہ بغلیں جھانک رہے ہیں۔
لاہور پریس کلب اور لاہور ایڈیٹرز کلب میں وزیر اطلاعات نے ایک ہی بات کی کہ بھارت کے ساتھ تجارت کے مسئلے پر ان کی حکومت پر کوئی دباﺅ نہیں ہے، نہ فوج کی طرف سے اور نہ مذہبی انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے، ان کی توجہ لاہور کی مال روڈ پر حافظ سعید اور کراچی میں امیر حمزہ اور سنی تحریک کے جلوسوں کی طرف مبذول کروائی گئی جن کا ایک ہی نعرہ تھا کہ بھارت کے ساتھ تجارت نا منظور۔حافظ سعید کی جماعت تو سرکاری ادارہ نہیں ہے لیکن فوج بہر حال ایک سرکاری محکمہ ہے ، وزیر اطلاعات نے کہا آپ ان سے میرے حوالے سے پوچھ لیں کہ کیا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں وزیر اعظم کو دی جانے والی بریفنگ میں فوج نے انڈیا کے ساتھ تجارت کی حمائت نہیں کی تھی۔چھٹی کے روز فوج کے کسی ترجمان کو تلاش کرنا ممکن نہیں تھا اور وہ بھی عین اس وقت جب فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی طرف سے سابق اور حاضر فوجیوں کے اعزاز میں ضیافت کا اہتمام کیا گیا تھا۔پھر بھی ایک ذریعے سے پتہ چلا کہ این ڈی یو ایک تعلیمی ادارہ ہے ، فوج کا پالیسی ساز ادارہ نہیں ہے، وہاں کورس کرنے والے کسی بھی موضوع پر کوئی مقالہ لکھ سکتے ہیں اور دیکھا یہ جاتا ہے کہ کیا اس مقالے میں کوئی جان ہے یا نہیں، دلائل کا انبار لگایا گیا ہے یا نہیں، یعنی یہ تو ایک کالج کا مباحثہ ہوا جس میں ایک شخص کسی موضوع کے حق میں بول رہا ہوتا ہے اور دوسرا مقرر اس کے خلاف طومار کھڑا کرتا ہے۔ ایک اعلی سطحی ذریعے سے بے حد تاخیر سے رابطہ ممکن ہوا تو پتہ چلا کہ فوج یہ چاہتی ہے کہ بھارت سے کور ایشو طے ہونا چاہئے ورنہ اس سے کوئی معاملہ زیادہ دیر نہیں چل سکتا اور دوستی ا ور امن کی آشائیں ادھوری رہ جائیں گی، یہ ایک مناسب راستہ ہے اور محترم ڈاکٹر مجید نظامی جو پاکستان کے نظریاتی مورچے کے سپاہ سالار ہیں ،کئی بار لکھ چکے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ انڈیا کشمیر کامسئلہ کشمیریوں کی امنگوں اور یو این او کی قراردادوں کے تحت طے کر لے پھر جسے بھارت سے تجارت کا شوق ہے ، وہ پورا کرتا رہے۔
فوج کی سوچ بھارت کے بارے میں کیا ہے، اس کا سراغ لگانے کے لئے آئی ایس آئی کی سرگرمیوں کا کھوج لگانے کی ضرورت نہیں ، یوم پاکستان پر ایک عرصے کے بعد صبح سویرے ہمارے توپخانے نے سلامی دی تو اسے تمام ٹی وی چینلز نے براہ راست نشر کیا، کسی زمانے میں یہ توپیں فورٹریس اسٹیڈیم سے فائر داغا کرتی تھیں، اس مرتبہ برکی میں عزیز بھٹی شہید کی جائے شہادت کے عین قریب سے گولے فائر کئے گئے جن کی گھن گرج سن کرچھ میل دور بھارتی شہری بھی ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھے۔جہلم کے قریب ٹلہ جوگیاں میں فوج کی ایک فائرنگ رینج ہے، یہاں بھی جنرل راحیل شریف آئے تو میڈیا نے اس فائر پاور کی کوریج کی اور کچھ بعید نہیں کہ اگلے یوم پاکستان کی پریڈ ایک بار پھر اسلام آباد کی کھلی سڑکوں پر منعقد کی جائے۔ فوج ایک حکومتی ادارہ ضرور ہے لیکن اس کا کیاا میج ہونا چاہئے ، اس کا فیصلہ کسی اور کے ہاتھ میں نہیں ،خود جی ایچ کیو کے ہاتھ میں ہے۔ہمارے ہسپتالوں میں کس قسم کی مشینری ہونی چاہئے، آپریشن تھیئٹرز کس معیار کے ہوہنے چاہیئں ، اس کا فیصلہ خود ڈاکٹر کرتے ہیں، حکومت خود تو آپریشن تھیئٹر میں چھریاں کلہاڑے لے کر آپریشن نہیں کر سکتی۔
پرویز رشید نے اگر یہ کہا تو صحیح کہا کہ سارے فیصلے سول حکومت کررہی ہے، انہیں اپنی حکومت کا رعب داب قائم رکھنے کے لئے یہی کہنا چاہئے اور جمہوری نظام میں یقینی طور پر جمہوری طور پر منتخب حکومت ہی کو فیصلے کرنے چاہیئں لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ حکومت کو اپنے ماتحت اداروں پر کاٹھی ڈال کر سوار ہو جا نا چاہئے۔
وزیر اطلاعات سے ایڈیٹرز نے سوال کیا کہ ساری دنیا سے مہمان پاکستان آتے ہیں لیکن جس طرح سعودی ا ور بحرینی مہمانوں کی آ مد پر چیخ وپکار کی گئی ہے، اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔لوگ یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ اگر سعودیہ اور بحرین نے کوئی مدد طلب کی ہے تو اس میں گناہ کیا ہے، یہ سنتے سنتے لوگوں کے کان پک گئے ہیں کہ پاکستان عالم ا سلام کا قلعہ ہے اور جب اس قلعے کی حفاظت کے لئے کوئی مدد مانگتا ہے تو ہم اکڑ گئے ہیں کہ کسی کو مدد نہیں دیں گے ۔میں نے اس سوال میںا ضافہ کیا کہ ہم اپنی فوج نہ سعودی عرب بھیجنے کوتیار ہیں ، نہ بحرین اور شام میں، اور نہ ملک کے اندر ہم اسے شمالی وزیرستان میں استعمال کرنے کے حق میں ہیں ، نہ کراچی کے قتل عام کو روکنے کے لئے اسے ڈیوٹی دینے کو تیار ہیں اور نہ بلوچستان میں بیرونی مداخلت کی سرکوبی کے لئے اس کوگرین سگنل دیتے ہیں تو پھر یہ تو بتایا جائے کہ ہم نے اس فوج کا کرنا کیا ہے، ہمارے ہمسائے بھارت میں ہماری کل فوج سے بھی دو لاکھ زیادہ فوج صرف کشمیر میں بیٹھی ہے، وہ نوجوانوں کی نسل کشی کر رہی ہے، کشمیری خواتین کی اجتماعی عصمت دری کرتی ہے اور کبھی سری لنکا کو پریشان کرتی ہے، کبھی نیپال کو آنکھیں دکھاتی ہے اور کبھی مالدیپ پر کشتیاں لے کر چڑھ دوڑتی ہے، ابھی روس نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ، اپنی فوج کریمیا میں داخل کر دی، امریکی فوجیں ساری دنیا میں دندنا رہی ہیں ، نیٹو کی افواج لیبیا، عراق، مصر، شام، افغانستان، یمن اور نہ جانے کہا ں کہاںمورچے جمائے بیٹھی ہیں اور ہم اپنی فوج کو کسی لاکر میں بند کئے بیٹھے ہیں ، صرف اس ڈر سے کہ کہیں یہ مارشل لا نہ لگا دے۔
پرویز رشید اس حکومت کے ترجمان ہیں ،ان کا کام بولنا ہے مگر عرفان صدیقی بھی حکومت کی قسمت کے ترجمان بن بیٹھے تھے، اب انہیں ایسی چپ لگ گئی کہ ڈھونڈے سے نہیں ملتے، برادرم پرویز رشید بھی اتنا بولیں جتنے کو لوگ سچ سمجھیں ، محض بولتے رہنے سے گوئبلز بھی کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔