قسم اٹھانا جھوٹ بولنے کی دلیل ہے؟

25 مارچ 2014

دو روز پہلے حویلی لکھا پریس کلب میں پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو کے ساتھ ملاقات ہوئی تو انہوں نے 1992ء میں پنجاب اسمبلی کے پارلیمانی وفد کے دورہ چین میں میری ہم سفری کا ذکر چھیڑ کر ماضی کے بند دریچوں میں محفوظ کئی یادیں تازہ کر دیں۔ یہ حویلی لکھا پریس کلب‘ یونین آف جرنلسٹس اور الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن کے عہدیداروںکی حلف برداری کی مشترکہ تقریب تھی جس میں بطور مہمان خصوصی عہدیداروں سے حلف لینے کی کٹھن ذمہ داری مجھ پر عائد ہو گئی۔ برادرم ڈاکٹر اجمل نیازی کو بھی تقریب کا بطور مہمان خصوصی حصہ بننا تھا مگر ان کے آنکھوں کے معالجین نے انہیں سفر کی اجازت نہ دی چنانچہ ان کے حصے کی حلف کی عبارت بھی مجھے دہرانا پڑی۔ ان کا ادا کردہ خلیل جبران کا ایک فقرہ میرے ذہن میں محفوظ رہ گیا۔ ”اس نے جب قسم اٹھائی تو مجھے یقین آ گیا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔“ حویلی لکھا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے عہدیداروںسے حلف لیتے وقت یہ فقرہ بے اختیار میری زبان پر آ گیا اور پھر مجھے اپنے صحافی بھائیوں کو اٹھائے گئے حلف کے تقاضے نبھانے اور اس کے ایک ایک لفظ کی پاسداری کرنے کا درس دینا پڑا۔ پریس کلب کے چیئرمین محمد متین آسی ‘ سینئر نائب صدر محمد احمد سجاد‘ یونین آف جرنلسٹس کے صدر غلام باہو قادری اور دوسرے عہدیداروں و ارکان کو اب بہرصورت اس حلف کی پاسداری کرنی ہے ورنہ حلف کے تقدس کے حوالے سے کی گئی میری باتیں ”مرد ناداں پر کلام نرم نازک بے اثر“ والا معاملہ ہی بن جائیں گی، اگر قسم اٹھانا جھوٹ بولنے کی دلیل بن جائے تو پھر سچ کی تلاش میں مایوسی و نامرادی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ میڈیا کو معاشرے کی آنکھ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس طرح اسے معاشرے کا چہرہ دکھانے والا آئینہ بھی قراردیا جاتا ہے۔مگر اس کردار میں میڈیا کی اپنی کوئی صفت نظر نہیں آتی۔ بے جان شیشے کے آگے جو بھی چہرہ آئے گا وہ ہو بہو ویسا ہی دکھایا جائے گا۔ حکمران اشرافیہ اور زور آور طبقات کو میڈیا کا بے جان شیشے والا یہ کردار بھی اس لئے اچھا نہیں لگتا کہ اس میں ان کے اپنے کردار کے باعث بگڑا ہوا وحشتناک چہرہ من و عن ویسا ہی نظرآ جاتا ہے اگر میڈیا اپنے عہد کے مطابق مکمل غیر جانبداری پر مبنی اپنا یہ کردار ہی ادا کرتا رہے تو بے شک اس کردار کا سامنا کرنے والے مکروہ چہرے اسے توڑتے پھوڑتے رہیں مگر اس کا یہ کردار مٹایا نہیں جا سکے گا کیونکہ ٹوٹے ہوئے آئینے کے کسی ٹکڑے میں بھی مکروہ چہرہ مکروہ ہی نظر آئے گا۔ سو جب تک آئینے کی شکل میں موجود میڈیا کا کوئی ایک ٹکڑا بھی موجود رہے گا وہ تقدس کے لبادے اوڑھے مکروہ چہروں کو بے نقاب کرتا ہی رہے گا۔ یقینی بات ہے‘ یہ ذمہ داری مکمل ایمانداری اور غیر جانبداری کے ساتھ فرائض بجا لانے کے لئے اٹھائی گئی قسم کی لاج رکھ کر ہی نبھائی جا سکتی ہے اور اب تو انصاف کی عملداری میں بھی میڈیا کا نمایاں کردار بن گیا ہے اس لئے اب میڈیا کی فعالیت کے ساتھ انصاف کی عملداری کسی معاشرے کے زندہ رہنے کی علامت ہے۔ اگرچہ میڈیا کو شرمو شرمی معاشرے کے چوتھے ستون کا درجہ دے دیا گیا ہے مگر معاشرے کا یہی ستون معاشرے کو اپنے پاﺅں پر کھڑا رکھنے کی ضمانت ہے کہ اس میں معاشرے کی آنکھ کا کردار بھی سمویا ہوا ہے جو معاشرہ کو لگے کسی بھی روگ کی اپنے درد کے اظہار کے ساتھ نشاندہی کرتا ہے اور اس روگ کو مٹانے کا متقاضی رہتا ہے جبکہ انصاف کی عملداری کو رواں رکھنے کے بھی میڈیا کی فعالیت کے باعث ہی راستے کھلتے ہیں۔ بے شک میڈیا نے اپنی یہ ذمہ داری نبھانی ہی نبھانی ہے۔ چاہے حالات جو بھی ہوں اور چاہے کھٹنائیاں جیسی بھی ہوں اس کا قلم اور کیمرے کی آنکھ رک نہیں سکتی۔ بے شک میڈیا کا یہی خاصہ ہے کہ
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خونچکاں
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
اگر اسی میڈیا کے حالات کار بھی بہتر ہو جائیں تو اس کے فریضے کی ادائیگی میں اور بھی اٹھان پیدا ہو جائے ‘ اقتصادی طور پر مطمئن میڈیا یقیناً صحت مند معاشرے کی علامت ہو گا ورنہ بیمار معاشرے کی ہر بیماری کے سارے اسباب میڈیا کی آنکھ اور قلم کے ذریعے اجاگر ہوتے ہی رہیں گے جس پر کسی کے جزبز ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے۔
بات میاں منظور وٹو کے دورہ چین کے حوالے سے شروع ہوئی تھی کہاں سے کہاں جا پہنچی گویا
ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا
بات پہنچی تیری جوانی تک
میاں منظور وٹو اپنے دورہ چین کا موجودہ حکمرانوں کے چین کے دوروں اور ان دوروں میں کئے جانے والے معاہدوں کے ساتھ موازنہ کر رہے تھے۔ 1992ء میں انہوں نے سپیکر پنجاب اسمبلی کی حیثیت سے پنجاب اسمبلی کے پارلیمانی وفد کی قیادت کرتے ہوئے چین کے صوبہ جیانگ سو کا ایک ہفتے کا دورہ کیا۔ میں پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی کے صدر کی حیثیت سے اس وفد کا حصہ تھا اور اس دورے کی جن کامرانیوں کا تذکرہ میاں منظور وٹو نے حویلی لکھا پریس کلب کی تقریب میں اپنی تقریر کے دوران کیا میں ان کامرانیوں کا عینی شاہد ہوں۔ اس دورے میں جیانگ سو اور پنجاب جڑواں صوبے قرار پائے اور اس بنیاد پر پنجاب کے ساتھ جیانگ سو کے بے لوث تعاون کی پرتیں کھلیں۔ زراعت‘ صنعت اور توانائی کے شعبوں میں چین کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع جیانگ سو ‘ پنجاب معاہدے کی بدولت ہی حاصل ہوا تھا اور آج اس تعاون کی بنیادیں مستحکم ہو چکی ہیں سو پاک چین تعاون کی موجودہ فضا میں میاں منظور احمد وٹو کی یہ خواہش جائز ہے کہ ”ہمیں بھی یاد کر لینا چمن میں جب بہار آئے“ ان کی یہ خواہش ضرور پوری ہونی چاہئے۔
ہمارے معاشرے اور اس میں کی جانے والی سیاست کا یہی تو المیہ ہے کہ یہاں جس کام کا حلف اٹھایا جاتا ہے اس کے سوا باقی سارے کام کئے جاتے ہیں۔ اس کلچر میں اگر میاں منظور وٹو کے پارٹی لیڈر آصف علی زرداری کے ساتھ یہ ”نیک نامی“ منسوب ہے کہ معاہدے کوئی قرآن و حدیث تو نہیں ہوتے کہ ان کی پاسداری کی جائے تو میاں منظور وٹو کی خواہش کی پاسداری بھی ہماری مروجہ سیاست کے اسی رنگ میں ہو گی۔ اس سیاست میں تو ایک ہی کام کی چھ چھ تختیاں لگا کر اپنا اپنا کریڈٹ کھرا کر لیا جاتا ہے اس لئے اگر خالص اپنا کریڈٹ خالص اپنے ہی کھاتے میں رکھوانا ہے تو پھر اپنے حلف کو نبھانے والی سیاست کا چلن اختیار کیجئے اور جس کام کا حلف اٹھایا ہے‘ وہی کام سرانجام دیجئے‘ سیاست کا چلن بھی اچھا ہو جائے گا اور معاشرے کا تنومند چہرہ بھی جاذب نظر ہو کر میڈیا کی آنکھ اور قلم کے ذریعے اپنی اصلی شکل میں جاذب نظر ہی رہے گا۔ آج بدعہدی ہی وہ مرض ہے جو اس میں مبتلا حرص و ہوس کے پتلوں کو بظاہر تنومند رکھتا ہے مگر انہیں حقیقت میں گھن کی طرح کھاتا رہتا ہے۔ آپ نے اس مرض کا شافی علاج نہیں کرنا تو اس مرض کے باعث مکروہ بننے والا آپ کا چہرہ میڈیا کی آنکھ اور آئینے میں ویسا ہی نظر آئے گا جیسا اصل میں ہے۔ سو اس آئینے کو توڑنے کا جتن کرنے کے بجائے اپنے چہرے کو فی الحقیقت جاذب نظر بنا لیجئے۔ اس کے لئے میڈیا کی فعالیت ہی آپ کی معاون ہے۔