حامد کرزئی الزام تراشی کے بجائے ثبوت سامنے لائیں

25 مارچ 2014

افغانستان نے حسب روایت سرینا ہوٹل پر حملے کا الزام بھی پاکستان کے سر تھوپ دیا۔ حامد کرزئی کی زیر صدارت نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں الزام لگایا گیا کہ سرینا ہوٹل پر حملے سے کچھ دیر قبل پاکستانی سفارتکار سپورٹس کلب میں کھیلنے کیلئے آئے تھے انہوں نے ہوٹل کی راہداریوں کی فلمبندی کی جس پر ہوٹل انتظامیہ نے اعتراض کیا۔ افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی تعداد ساڑھے تین لاکھ کے قریب ہے جبکہ افغان فوج بھی 3 لاکھ کی تعداد میں وہاں موجود ہے اس کے باوجود پاکستانی انٹیلی جنس اگر وہاں کارروائیاں کر سکتی ہے تو پھر کرزئی انتظامیہ کو اقتدار سے علیحدہ ہو جانا چاہئے۔ حامد کرزئی اور افغان انٹیلی جنس ادارے اپنی کوتاہی کو چھپانے کیلئے پاکستان پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔ افغان طالبان اس قدر طاقتور ہو چکے ہیں کہ کرزئی اور انکی سکیورٹی طالبان کا مقابلہ کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ حامد کرزئی طالبان کا مقابلہ کریں اور بغیر ثبوت کے پاکستان پر الزام تراشی سے گریز کریں۔ پاکستانی سفارتکار اگر سرینا ہوٹل سپورٹس کلب میں کھیلنے آئے تھے تو اس کا حملے سے تعلق کیسے جوڑا جا سکتا ہے۔ حامد کرزئی افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کی بجائے پاکستان پر ہی الزام تراشی کر رہے ہیں۔ آئے روز افغانستان سے جتھوں کی شکل میں مسلح افراد ہماری چوکیوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ حامد کرزئی پہلے انہیں روکنے کے اقدامات کریں اور پھر پاکستان کے ساتھ ثبوت سے باتیں کریں۔