منگل ‘ 23 ؍ جمادی اوّل 1435ھ‘ 25؍ مارچ 2014ء

25 مارچ 2014

عمر اکمل کو شاندار کارکردگی پر شادی کا تحفہ !
اب یہ تو کوئی عمر اکمل سے پوچھے کہ بھائی یہ تحفہ آپ کو کیسا لگا کیونکہ مشہور مثال ہے شادی ایک ایسا قلعہ ہے کہ باہر والے اس کے اندر اور اندر والے اس سے باہر جانا چاہتے ہیں۔ یوں تو اب ہمارے عمر اکمل کی آزادی کے دن تھوڑے ہی رہ گئے ہیں اور جلد ہی انہیں کرکٹ کے ساتھ ساتھ اب گھریلو ذمہ داریوں پر بھی توجہ دینا پڑے گی۔ کہاں وہ اب تک … ؎
پنچھی بنوں ’’اُڑتا پھروں‘‘ مست گگن میں
آج میں آزاد ہوں دنیا کے ’’جھنجٹ‘‘ سے
گاتے پھرتے تھے اور اب کہاں مُکھڑے پر اصلی ہو یا نقلی مسکراہٹ سجائے دلہن کے ساتھ بستی بستی نگر نگر کی سیر کریں گے اور اس کے بعد بچوں کو بھی کرکٹ سکھاتے نظر آئیں گے۔ اب شادی کی خوشی میں کہیں وہ آنے والے میچوں سے توجہ نہ ہٹا دیں۔ ان کے گھر والوں کو چاہئے تھا کہ سیریز ختم ہونے کے بعد ہی وہ ایسے ’’توبہ شکن‘‘ اقدامات کرتے۔ عوام ابھی انہیں اسی طرح تیز رفتاری سے رنز بناتے دیکھنا چاہتے ہیں۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
بے نظیر، جان ایف کینیڈی، شاہ فیصل اور اندرا گاندھی کے قتل کی سازشیں بے نقاب نہ ہو سکیں!
اور یہ سازشیں بے نقاب ہو بھی کیسے سکتی تھیں جب بے نقاب کرنے والے خود ہی ان میں ملوث ہوں تو بھلا وہ اپنے چہرے سے نقاب کہاں سرکنے دیں گے۔ عوام بھی ان کے قاتلوں کی نشاندہی کے باوجود بے بس ہیں ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے کیونکہ یہی قاتل ان مقتولین کے سیاسی مجاور بنے بیٹھے ہیں۔ بقول شاعر … ؎
میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
یہ ہمارے تفتیشی ڈرائی کلینر اداروں کا کمال ہے کہ ان کے کمال مہربانی سے قاتلوں کے دامن پہ دھبہ نظر آ رہا ہے نہ دست و بازو پہ خون کی چھینٹیں، گویا یہ قتل نہیں تھے۔ معجزے اور کرامتیں تھیں کہ جو دستِ قاتل سے ظاہر ہوئے اور کسی کو کچھ پتہ بھی نہ چل سکا۔ آج برسوں بیت گئے مرنے والوں کی یاد مناتے مناتے مگر کسی کے وارث نے قاتلوں کو بے نقاب نہیں کیا، عدالت کے کٹہرے میں نہیں کھینچا، ہاں البتہ ان کی یاد میں مگرمچھ کے آنسو ہر سال بہائے جاتے ہیں۔ رہے عوام تو وہ جانتے ہیں کہ کس طرح عالمی سازش کے تحت بڑی بڑی نامور شخصیات کو چشمِ زدن میں فنا کے گھاٹ اتارا جاتا ہے، خاک اور خون میں نہلایا جاتا ہے اور قاتلوں کے ہاتھ نہیں روک سکتا کوئی کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ سب کو اپنی جان پیاری ہوتی ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
آئین اسلامی  ہے طالبان کو قائل کریں گے: پروفیسر ابراہیم!
معلوم نہیں پروفیسر خیالوں کی کونسی دنیا میں رہتے ہیں اور روایتی غائب دماغ پروفیسر جیسی باتیں کرتے ہیں، انہیں طالبان نے اپنی طرف سے کمیٹی میں اس لئے شامل کیا ہے کہ وہ طالبان سے نہ صرف سو فیصد متفق ہیں بلکہ طالبان اور ان کے درمیان مکمل ذہنی و روحانی ہم آہنگی پائی جاتی ہے یقین نہ آئے تو خود دیکھ لیں۔ طالبان بھی ہمارے سکیورٹی والوں کو واجب القتل قرار دیتے ہیں اور پروفیسر ابراہیم کی جماعت والے بھی ہمارے شہدا کو شہید ماننے کیلئے تیار نہیں۔ یوں عملاً یہ دونوں ایک ہیں۔ اب پروفیسر چونکہ سیاستدان بھی ہیں اور سیاسی جماعت کے صوبائی امیر بھی، اس لئے شاید وہ رعایت لفظی سے کام لے رہے ہیں ورنہ اصل میں تو … ؎
ونجلی دی تان وچ روح میری بولدی
جند ساڈی اِکو ہوئی پاویں دو بُت وے
کی عملی تصویر ہمارے سامنے ہے۔ گزشتہ روز ہی کراچی میں جماعت اسلامی کے جلسے میں سیّد منور حسن بھی فرما گئے ہیں کہ ’’طالبان ہمارے بھائی ہیں‘‘ اس بات سے کسی کو بھی انکار نہیں بے شک وہ ہمارے بھائی ہیں مگر ’’برادرانِ یوسف‘‘ کی طرح جو ہمیں اندھے کنویں میں دھکیلنے میں بھی عار نہیں سمجھتے اور ہمارے آئین اور قانون تک کو تسلیم نہیں کرتے۔ اب کیا پروفیسر ابراہیم اور کیا سیّد منور انہیں قائل کر سکیں گے۔ پہلے وہ ان لاکھوں پاکستانیوں کو تو قائل کریں جو طالبان کے ہاتھوں مرنے والوں کے وارث ہیں اور یہی جماعت ان سے ووٹ طلب کرتی ہے الیکشن میں۔ پھر بے شک طالبان کی وکالت کرتے پھریں۔ جن کے آنے کے بعد نہ الیکشن ہوں گے نہ جماعت اور اس کے ووٹر کیونکہ سب کو امیر المومنین مُلا عمر کے دستِ مبارک پر بیعت کرنا ہو گی۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
میٹرو منصوبے کے بعد مسلم لیگ (ن) پنڈی سے ایک بھی نشست جیتنے کا خیال دل سے نکال دے : شیخ رشید !
یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد شیخ رشید کو الیکشن جیتنے کا خیال دل سے نکالنا ہو گا یا مسلم لیگ کو ساری نشستیں جیتنے کا خیال دل میں لانا ہو گا۔ بے شک مری روڈ کو راولپنڈی کا دل کہنا مناسب ہے مگر جب دل کی شریانیں تنگ پڑنے لگیں تو پھر بائی پاس آپریشن تو کرانا ہی پڑتا ہے۔  مری روڈ اپنی تمام تر تجارتی سرگرمیوں کے باوجود جس طرح دکانداروں اور ریڑھی بانوں کی تجاوزات، ٹریفک کے اژدھام اور ناجائز پارکنگ کی وجہ سے راجہ بازار بن چکی تھی اس کا بھی تو کوئی حل نکالنا ہی تھا۔ اب اگر نیچے مری روڈ اور اوپر فلائی اوور میں میٹرو بس کا سلسلہ ہائے روزگار چلے تو فائدہ عوام کو ہو گا اور عوام کے صدقے حکومت کو ہو گا، آنیوالے الیکشن میں اپنے ووٹوں سے فیصلہ کر دینگے البتہ اس تعمیر کیلئے ہونے والی توڑ پھوڑ کا ہمیں بھی اندازہ ہے کیونکہ اہل لاہور میٹرو بس منصوبے اور اب آزادی چوک فلائی اوور اور انڈر پاسز کے منصوبے کے ہاتھوں ہونے والی توڑ پھوڑ کا مزہ پہلے ہی چکھ چکے ہیں۔