نشست وبر خاست(۱)

25 مارچ 2014

٭حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد اسی جگہ پر چار زانوہوکر تشریف فرما رہتے ۔ یہاں تک کہ سورج اچھی طرح طلوع ہوجاتا ۔ (ابو دائود )٭حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں صحنِ کعبہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے (مبارک)ہاتھوں کے ذریعے گوٹھ مار کر بیٹھے ہوئے دیکھا۔(ترمذی) ٭حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کاارشاد ہے کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بائیں پہلو پر تکیہ سے ٹیک لگائے ہوئے دیکھا ۔(ترمذی ) ٭حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کاارشاد ہے کہ میں ایک مرتبہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگا ہ میں حاضر ہوا تو آپ تکیہ سے ٹیک لگا کر تشریف فرماتھے۔ آپ نے وہ تکیہ اپنے پہلو سے نکال کر مجھے عنایت کیا اور ارشادفرمایا کہ ’’اے سلمان اگر کوئی مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی سے ملاقات کرنے کیلئے جائے اور وہ ازرہِ تکریم اسے اپنا تکیہ پیش کردے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس (بندئہ مومن ) کی مغفرت فرمادیگا۔ (مستدرک) ٭حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت اپنی چٹائی کا حجرہ بنالیاکرتے اور اس میں نماز پڑھتے ۔اور دن کے وقت اسے اکٹھا فرمالیتے اور اس پر جلوہ افروز ہواکر تے (بخاری) ٭ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خد مت اقدس میں حاضر ہوتے تو ہم میںسے ہر شخص جہاں جگہ پاتاوہیں پر بیٹھ جاتا۔ (ابو دائود)٭حضرت عبداللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا، (جب تم مجلس میں آئو ) تو تم میں سے کوئی شخص دوسرے کو اٹھا کر اسکی جگہ نہ بیٹھے (ہاں تم ایک دوسرے کیلئے وسعت پید اکرو آنے والوں کیلئے ) جگہ نکا لو اور (فراخ دلی سے ) جگہ دے دو۔ (ابو دائو د )
٭حضرت واثلہ بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت مسجد نبوی میں تشریف فرماتھے ۔آپ اس کیلئے اپنے مقام سے کچھ سرک گئے ۔ اس نے عرض کیا۔ یارسو ل اللہ جگہ کافی کشادہ ہے۔ آنجناب کو سرکنے اور زحمت فرمانے کی ضرورت نہیں ۔آپ نے ارشاد فرمایا مسلمان کا حق یہ ہے کہ جب اس کا بھائی اسے دیکھے تو(اس کی نشست کی خاطر ذرا) سرک جائے ۔ (ابو دائود) ٭حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا جب کوئی شخص کسی کام سے اٹھے اور اپنی جگہ چھوڑ کر جائے توواپس آنے کے بعد وہی اس جگہ کا زیادہ مستحق ہے۔ ٭حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ شخص ملعون ہے (جو نمایاں ہونے کیلئے) حلقے کے درمیان میں بیٹھے ۔(ابو دائود)