جدید ٹیکنالوجی پر بننے والی پاکستان کی مہنگی ترین فلم ۔۔۔۔۔۔ ”سلطنت“

25 مارچ 2014

سیف اللہ سپرا
پاکستان کی فلم انڈسٹری جو گزشتہ دو دہائیوں سے روبہ زوال ہے میں اب کچھ بہتری کے آثار پیدا ہو رہے ہیں سال 2013ءمیں کچھ اچھی فلمیں بنی ہیں جن ”میں وار“، ”میں ہوں شاہد آفریدی“ ، ”عشق خدا“ شامل ہیں۔ ان فلموں نے اچھا بزنس کیا۔ اس سال بھی کچھ اچھی فلمیں بن رہی ہیں۔ جن میں ہدایت کار فیصل بخاری کی ”سلطنت“، ہدایت کار حمزہ علی عباسی کی ”کمبخت“ اور فلمساز زیبا بختیار کی ”021“ اور فلمساز غفور بٹ کی ”دی سسٹم“ شامل ہیں فلم سلطنت کی عکسبندی مکمل ہو گئی ہے آج کل اس کی پوسٹ پروڈکشن کا کام ہو رہا ہے گزشتہ دنوں فلم ”سلطنت“ کی ٹیم کے کچھ ارکان کے ساتھ گفتگو ہوئی جس کے منتخب حصے قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش کئے جا رہے ہیں۔
فلم کے ڈائریکٹر فیصل بخاری نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی فلم انڈسٹری کے حالات گزشتہ دو دہائیوں سے اچھے نہیں ہیں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ محنت کا فقدان ہے آج لوگ محنت سے جی چراتے ہیں ماضی میں لوگ محنت کرتے تھے اس لئے ماضی میں بنائی گئی فلمیں آرٹ کا بہترین نمونہ ہیں اور ماضی میں تیار کئے گئے فلمی نغمے آج بھی سماعتوں میں گھولتے ہیں اور مقبول ہیں آج بھی جس فلم پر محنت ہوئی وہ ہٹ ہوئی اور لوگوں نے اسے دیکھا۔ میری فلم ”بھائی لوگ“ ، ”میں ہوں شاہد آفریدی“ اسی دور میں بنیں اور ہٹ ہوئیں ”بھائی لوگ“ کے بعد میرے ذہن میں ”سلطنت“ فلم بنانے کا آئیڈیا آیا۔ دوبئی میں مقیم پاکستانی بزنس مین اسلم بھٹی فلم پروڈیوس کرنا چاہتھے تھے میں نے ان کے ساتھ فلم ”سلطنت“ کا آئیڈیا ڈسکس کیا جو انہیں پسند آیا۔ اس کے بعد میں نے معروف فلم رائٹر پرویز کلیم کی خدمات حاصل کیں۔ انہوں نے اس فلم کا سکرپٹ لکھا۔ انہوں نے فلم کے سکرپٹ پر بہت محنت کی ہے اور اچھا سکرپٹ لکھا ہے میں سمجتھا ہوں کہ فلم میں جس سب سے اہم چیز اس کا سکرپٹ ہوتا ہے سکرپٹ کی حیثیت فلم میں وہی ہے جو ایک عمارت تعمیر کرتے وقت بنیاد کی ہوتی ہے اگر بنیاد مضبوط ہو گی تو اس پر تعمیر ہونے والی عمارت بھی مضبوط ہو گی۔ جب میں فلم کے سکرپٹ سے مطمئن ہو گیا تو پھر میں نے اس کے میوزک پر کام شروع کیا میوزک کے لئے میں نے مصروف موسیقاروں ایم ارشد، نوید نوشاد اور چھکولہری کی خدمات حاصل کیں۔ انہوں نے کوالٹی کا میوزک تیار کیا۔ اس کے بعد اچھے گلوکاروں سے گانے گوائے جن میں گلوکارہ شاہدہ منی اور گلوکارہ صنم ماروی شامل ہیں اس کے بعد میں نے کاسٹ کا انتخاب کیا اور کوشش کی کہ ایسے اداکاروں کا انتخاب کروں جو کرداروں پر پورا اتریں ان فنکاروں میں جاوید شیخ، مصطفے قریشی، احسن خان، نیر اعجاز، صلہ حسین، راحیلہ آغا، اور شویتا تیواڑی شامل ہیں۔ فلم کی عکسبندی مکمل ہو گئی ہے آج کل فلم کی پوسٹ پروڈکشن کا کام ہو رہا ہے جو جلد مکمل ہو جائے گا میری کوشش ہے کہ فلم عید الفطر پر ریلز کی جائے اور اس کی ریلیز کے لئے معروف فلمساز اور ڈسٹری بیوٹر چودھری اعجاز کامران کے ساتھ معاہدہ کیا ہے میں فلم کے حوالے سے ایک چیزکا ضرور ذکر کروں گا کہ یہ فلم پاکستان کے علاوہ مصر، تھائی لینڈ اور دوبئی کے خوبصورت مقامات پر عکسبندی کی گئی ہے اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے ۔ میرے خیال میں یہ پاکستان کی مہنگی ترین فلم ہے مجھے امید ہے کہ فلم بینوں کو یہ فلم پسند آئے گی۔
فلم کے رائٹر پرویز کلیم نے کہا کہ پوری جو کائنات ہے اس پر انسان نے لکیریں کھینچ کر اپنی اپنی سلطنیں بنا لیں حالانکہ یہ سلطنت اللہ تعالیٰ کی ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جس نے زمین کو اپنا مان کر اس سے محبت کی وہ زمین کے نیچے چلا گیا سلطنت کا موضوع یہی ہے کہ یہ سلطنت اللہ کی ہے اور اس پر بہت سے کھیل تماشے ہوتے آئے ہیں جن میں محبتیں، نفرتیں، دوستیاں، دشمنیاں، تشدد، استحصال، غاصبانہ قبضے شامل ہیں اور یہ سارے سلسلے جاری و ساری ہیں اس زمین پر برائی اور اچھائی برسر پیکار ہیں کسی سکالر نے کہا تھا کہ دیوار پر ایک لکیر کھینچ دینے سے اس کے چھوٹے اور بڑے ہونے کی دلیل آپ نہیں دے سکتے جب تک اس کے مدمقابل دوسری لکیر نہ کینچ دی جائے زمین پر بھی دو لکیریں موجود ہیں ایک اچھائی کی اور ایک برائی کی اس کا فیصلہ فلم سلطنت میں سلور سکرین پر ہو گا کہ بڑی لکیر کون سی ہے اور چھوٹی لکیر کون سی ہے۔
معروف اداکار مصطفے قریشی نے کہا کہ فلم ”سلطنت“ ایک معیاری فلم ہے اس وقت فلم انڈسٹری کو ایسی فلموں کی ضرورت ہے میں نے فلم انڈسٹری کا عروج دیکھا ہے اب زوال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر فلم ”سلطنت“ جیسی معیاری فلمیں بنائی جائیں تو فلم انڈسٹری کا زوال ختم ہو سکتا ہے میں نے بھی اس فلم میں کام کیا ہے امید ہے کہ فلم بینوں کو میرا کام پسند آئے گا۔
 فلم ”سلطنت“ کے ہیرو احسن خان نے کہا ہے کہ فیصل بخاری نے بہت بڑی فلم بنائی ہے اور ہمیشہ بڑی فلمیں بناتے ہیں ایک بڑے کیمرہ مین اور بڑے ڈائریکٹر ہیں انہوں نے اس فلم پر بھی بہت محنت کی ہے میں اس فلم کا حصہ ہوں جب بھی کسی اچھی فلم میں کام کی آفر ہو گی تو اس میں ضرور کام کروں گا۔
 پاکستان فلم ڈسٹری بیوٹر ایسوسی ایشن کے چیئرمین چودھری اعجاز کامران نے کہا کہ اس وقت پاکستان فلم انڈسٹری کے حالات بہت خراب ہیں اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ اچھی فلمیں بنائی جائیں تاکہ انڈسٹری کے حالات بہتر ہوں اب اچھی فلمیں بننا شروع ہو گئیں ہیں جن میں فلم ”سلطنت“ بھی شامل ہے یہ ایک معیاری فلم ہے میرا ادارہ اس فلم کو ریلیز کر رہا ہے امید ہے کہ یہ فلم انڈسٹری کا بحران کم کرنے کے لئے مدد گار ثابت ہو گی۔