جمہوری اندازِ انصاف

25 مارچ 2014

کہتے ہیں انصاف وہ ہوتا ہے جو ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔پنجاب اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اسے خادمِ اعلیٰ جیسا بیدار مغزحکمران ملا ہے جو انصاف کے معاملے میں کبھی لاپرواہی نہیں کرتے۔ابھی حال ہی میں جنوبی پنجاب کی تحصیل جتوئی کے ایک گائوں میں ایک نوجوان بچی آمنہ بی بی نے انصاف نہ ملنے کی وجہ سے خود سوزی کرلی جو یقیناً مہذب اور اسلامی معاشرے کے منہ پر تھپڑ کے مترادف ہے۔بہرحال خوشی کی بات یہ ہے کہ خادمِ اعلیٰ صاحب فوری طور پر موقع پر پہنچے۔متاثرہ خاندان کیساتھ افسوس کیا۔ 5لاکھ کا چیک دیا اورمتوفیہ کے بھائی کیساتھ ملازمت کا وعدہ کیا۔ جناب خادمِ اعلیٰ نے موقع پر پولیس افسران کیخلاف سخت کاروائی کے احکامات صادر فرماتے ہوئے کہا:’’ کسی کو خوف خدا نہیں ۔انصاف کا جنازہ نکال دیا گیا۔میں بچی کو تو واپس نہیں لا سکتا لیکن متاثرین کو انصاف ضرور دلائونگا۔‘‘
یہ تو ہے تصویر کا ایک رُخ ۔آئیں اب تصویر کی دوسری جانب بھی دیکھتے ہیں ۔ اس میں پہلی بات تو یہ ہے کہ وقفہ وقفہ سے جناب خادم اعلیٰ کی فیملی 1985 سے مسندِحکمرانی پر براجمان ہے۔ ہماری تاریخ میں کسی بھی حکمران کو حکمرانی کا اتنا طویل عرصہ نصیب نہیں ہوا۔ جناب نواز شریف صاحب اور شہباز شریف صاحب دونوں مدبر سیاستدان اور سلجھے ہوئے حکمران ہیں۔مخلص اور پر خلوص لیڈرز تو دنوں میں قوم کی تقدیر بدل دیتے ہیںاور یہاں اتنا طویل عرصہ حکمرانی او ر پھر بھی ایسا نظام کہ غریب لوگوں کو انصاف کے حصول کیلئے موت گلے لگانی پڑے۔یہ کیسا اندازِ حکمرانی ہے۔ اسکا ذمہ دار کون ہے؟پولیس نہیں سنتی،عدلیہ نہیں سنتی،وڈیرے اور جاگیردار نہیں پرواہ کرتے تو یقیناً یہ سب باتیں اچھی حکمرانی ہی کے زمرے میں آتی ہیں۔
شریف فیملی کا تعلق ایک صنعتی فیملی سے ہے اور یہ وہ فیملی ہے جو مزدوری سے ابھر کر حکمرانی تک پہنچی اور اب ماشاء اللہ بین الاقوامی ٹائیکون کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ایسے لوگ کچھ خصوصی صلاحیتوں سے مالا مال ہوتے ہیں جس میں سب سے اہم چیزبہترین ایڈمنسٹریشن ہے اور بہترین ایڈمنسٹریشن وہ ہوتی ہے جو لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کیے بغیر اُن کے دل مسخر کرے ۔خوف پھیلانے سے وفاداری نہیں جیتی جا سکتی۔شریف فیملی کی یہی سب سے بڑی کمزوری ہے کہ انداز حکمرانی مغل بادشاہوں جیسا ہے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے شریف فیملی نے اپنے اقتدار کی ابتداء فیصل آباد کے چیف انجینئر کو چھٹی پر سے بلا کر ہتھکڑی لگوا کر کی اور اسکی پرزور انداز میں تشہیر بھی ہوئی۔بعد میں یہ تکلیف دہ خبریں پھیلنی شروع ہوئیںکہ جناب خادمِ اعلیٰ صاحب جہاں بھی تشریف لے جاتے سب سٹاف کے سامنے نہ صرف سینئر افسران کی بے عزتی کرتے ہیں بلکہ گالی دینے یا تھپڑ تک مارنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔اب آمنہ بی بی کا کیس ہی دیکھ لیں۔ محترم وزیر اعلیٰ صاحب وہاں موقع پر تشریف لے گئے۔جس انداز میں پبلک کے سامنے آرپی او، ڈی پی او اور باقی افسران سے سلوک کیا گیاوہ یقیناً ایک صوبائی منتظم اعلیٰ کو زیب نہیں دیتا ۔ یہ نہیں کہ فرض کی کوتاہی کی سزا نہ ملے لیکن قانون کے مطابق ملنی چاہیے ۔اس انداز میں تو کبھی بھی سرکاری افسران کی وفاداری حاصل نہیں کی جا سکتی۔ خوف و ہراس پھیلانے سے ماتحتوں میں نفرت پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی خوف زدہ لوگ کبھی صحیح کام کر سکتے ہیں۔
کیایہ حیران کن بات نہیں کہ شریف فیملی کے طویل دور حکمرانی میں اتنی زیادہ سزائوں کے باوجود اچھی گو ر ننس کہیں نظر نہیں آتی بلکہ تنزلی ہی ہوئی ہے۔ نا انصافی، رشوت خوری اور نااہلی بڑھی ہیں اور یہ اس لئے ہوا ہے کہ افسران میں خود اعتمادی پیدا ہی نہیں ہونے دی گئی۔بقول سینئر سرکاری افسران وزیر اعلیٰ صاحب نے معطل شدہ اور او ایس ڈی افسران کا قبرستان بنا رکھا ہے جو یقیناً اچھی حکمرانی پر دھبہ ہے ۔افسران سے بات چیت سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ احساسِ بے عزتی کے ساتھ ساتھ احساسِ نا انصافی بھی بہت زیادہ ہے۔افسران میں واضح دو گروپس نظر آتے ہیں۔اول وہ جنہیں ہر قسم کی پشت پناہی حاصل ہے ۔وہ نا اہلی،سستی اور بڑی بڑی بلنڈرز کے باوجود ہر قسم کی مراعات سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ ہر قسم کی سزا سے بھی مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ سروس میں دوسرے گروپ کا تعلق ان عام گھرانوں سے ہے جو اپنی اہلیت اور ذہانت پر منتخب ہو کر سروس میں آئے ۔ ملک کا بہترین دماغ مقابلے کے امتحانات میں حصہ لیکر اعلیٰ سروسز کیلئے منتخب ہوتا ہے ۔اپنی محنت سے وہ سروس میں ترقی کرتا ہے۔ 15 سے 20سال کی سروس کے بعد وہ ڈی پی او یا آر پی او کے عہدہ تک پہنچتا ہے اور پھر انہیں یوں عوام کے سامنے بے عزت کرنے سے سیاسی پوائنٹ سکورنگ تو ہو جاتی ہے۔ عوام میں بھی بلے بلے ہو جاتی ہے لیکن کام کرنے والے افسران کا مورال تو گٹوں میں آجاتا ہے۔ یاد رہے کہ ہر جرم کی پشت پر کوئی نہ کوئی معزز سیاستدان ہی ہوتا ہے۔
انصاف کی حکمرانی کی بنیاد میرٹ ہے اور سرکاری اداروں میں میرٹ دور دور تک نظر نہیں آتی۔اس میں تو کسی کو کوئی شک نہیں کہ تھانے بکتے ہیں اور سرکاری اداروں میں ایک چپڑاسی سے لے کر اعلیٰ ضلعی افسر تک کسی نہ کسی سیاستدان کی خوشنودی سے ہی تعینات ہوتا ہے۔ وہ بھلا کسی منتخب ممبر یا بڑے سیاستدان کی حکم عدولی کیسے کر سکتا ہے؟ سیاستدانوں نے ان سرکاری افسران سے ہر وہ کام لینا ہے جس سے علاقے میں انکا ٹہکہ رہے اور انکے ووٹ بنک میں اضافہ ہواور یہ بدمعاشوں کی سر پرستی کے بغیر ممکن نہیں۔ایک دفعہ ڈیرہ غازی خان کے مزاری بلوچوں کے مقابلے میں ایک عام آدمی الیکشن میں کھڑا ہوگیا۔اُسے پکڑ کر اسکی ناک کاٹ دی گئی اور وہ تڑپ تڑپ کر مر گیا۔اسی طرح ایک سنئیر ڈی سی او کو فوری عہدے سے ہٹا کر او ایس ڈی بنا دیا گیا کیونکہ وہ حکومت وقت کے صوبائی ممبر کی مرضی کے مطابق لوکل باڈیز الیکشن میں حد بندی نہ کرسکا۔ یہ بھی سننے میں آیا کہ ایک ڈی سی او کی اس لئے سرزنش اور شاید تبدیلی ہوئی کہ اس کے ضلع میں ایک حکومتی امیدوار الیکشن ہار گیا ۔دوسرا جمہوریت کی بنیاد ہمیشہ مقامی ممبران ہوتے ہیں معاشرتی مسائل ہمیشہ اسی لیول پر حل ہوتے ہیں لیکن ہمارے انصاف اور جمہوریت پسند حکمرانوں نے جمہوریت کے دوران پچھلے 6سالوں سے لوکل باڈیز الیکشن ہی نہیں کرائے اور غصہ سرکاری افسران پر۔موجودہ حالات میں بعض مقامات پر توسیاسی وڈیرے فرعونوں سے کم نہیں ۔ پاکستان کی تباہی کے ذمہ دار سیاستدانوں اور فوجی آمروں کے ’’سیاسی مفادات‘‘ ہی تو ہیں جو طالبان کی طرح کسی قانون کے پابند نہیں۔ ہمارا تو وہ بد قسمت ملک ہے کہ سیاسی مفادات کیلئے آدھا ملک بھارت کے حوالے کر دیا گیا ۔جب انصاف سیاستدانوں اور وزراء کے ہاتھوں میں ہو اور وہ خادم اعلیٰ کے چہیتے ہوں تو بے شک پوری پولیس فورس اور پوری انتظامیہ معطل کر دیں، او ایس ڈی بنا دیں یا با لکل پھانسی لگا دیں گورننس میں کبھی بہتری نہیں آئیگی۔یاد رہے کہ قانون کا احترام ہمیشہ ٹاپ سے شروع ہوتا ہے سرکاری افسران یا ادنیٰ ملازمین سے نہیں۔