ڈی جی پاکستان رینجرز سندھ اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف

25 مارچ 2014

وفاق میں میاں محمد نواز شریف کی حکومت کے قیام کے بعد سے صوبائی حکومت سندھ کے تعاون اور قومی اتفاق رائے سے ٹارگٹڈ آپریشن پاکستان رینجرز سندھ سے کرانے کا فیصلہ کیا گیا! امید تھی کہ حالات بہتر سے بہتر ہوتے جائیں گے لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے کیوں نہیں ہوئے؟؟ رینجرز کو مکمل اختیارات نہ دینا بھی ایک وجہ ہے؟ کیا طاقتور سیاسی گروپوں اور ان کے لگائے ہوئے پولیس فورس اور بعض ڈی ایس پی اور محدود ایس پی حضرات‘ سیاسی دبا¶ اپنی جانوں کو خطرات ماضی میں 100 پولیس والوں کو چن چن کر قتل کرنے کی حقیقت یا حکومتی لاپروائی‘ سیاسی مجبوریوں‘ ترقیوں‘ تنزلیوں وغیرہ کے خوف کی بناءپر اپنے فرائض ایمانداری‘ میرٹ‘ غیر جانبداری سے ادا کرنے سے قاصر ہو چکے ہیں؟بڑا ثبوت یہ ہے کہ آئی جی سندھ کئی مرتبہ تبدیل کیا جا چکا ہے اور نئے آئی جی کی تقرری پر وزیراعظم‘ وفاقی اسٹیبلشمنٹ اور صوبائی وزیراعلیٰ قائم علی شاہ میں ”تنازعہ“ پڑ گیا ہے اگر آئی جی پولیس اپنا وفادار اور تابعدار ہی لگایا جانا مقصود ہے تو پھر کراچی کے خون خرابہ نعشیں گرنے کو کوئی نہیں روک سکتا یہ ہی ماضی سے ہوتا آیا ہے!! مذہبی گروپوں کے ”مسلح ونگز“ کو ختم کرنے میں آزاد ہو!! اگر قومی مفاد‘ سلامتی‘ پاکستان کا استحکام عزیز ہے تو یہ ”کڑوا گھونٹ“ آصف علی زرداری‘ مخدوم امین فہیم‘ الطاف حسین و دیگر قیادت کو پینا پڑے گا ورنہ یہ تمام قادتیں کراچی کے عوام کے قانون شکنوں کے ہاتھوں ہونیوالے خون میں برابر کی ذمہ دار ہوں گی۔
کراچی میں مستقل امن و امان قائم کرنے کیلئے اب روایتی اقدامات اور ”لیپا پوتی“ نہیں چل سکتی نہ ہی ملک کراچی میں سنگین خون خرابہ کا متحمل ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف کراچی آپریشن کے ”بڑے کھلاڑی“ ڈی جی رینجرز سندھ پھر جنرل رضوان اختر نے ”اصل بیماریاں“ کھل کھلا کر قوم کو بتا دی ہیں پہلے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی صدارت میں کراچی میں ”امن کی بحالی“ کی میٹنگ میں وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے سامنے کہہ دیا کہ سیاسی دبا¶ سے مشکلات درپیش ہیں اور بعض طاقتور سیاسی گروپ مجرموں کی سرپرستی کرتے ہیں اور قانونی کارروائی میں رکاوٹ ڈالتے ہیں جس سے رینجرز آپریشن مطلوبہ نتائج نہیں دے پا رہا پھر میجر جنرل رضوان اختر نے پریس کانفرنس میں واشگاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ قانونی اختیارات صرف کاغذ کے ٹکڑے پر ہیں عملاً صرف تلاشی اور گرفتاری کے محدود اختیارات سے امن و امان کا قیام ممکن نہیں تفتیش کے اختیارات ہمارے پاس نہیں ملزمان پولیس کے پاس جاتے ہیں تو وہاں سے تفتیشی عمل سے رہا ہو جاتے ہیں۔ مجرموں کو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے!! بڑے بڑے سیریز کلرز اور ”سرغنے“ پیار سے جرم کا اقرار نہیں کرینگے! عدالتی کارروائی کے دوران سینکڑوں بڑے جرائم پیشہ ملزمان ماتحت عدالتوں سے ضمانت پر رہا ہو چکے۔ حکومت سندھ سے 5 تھانوں (کراچی) کی نگرانی اور تفتیش کا اختیار مانگا لیکن ہمیں قانونی اختیارات نہیں دیئے گئے!!
یہ انکشافات اور پالیسی فیصلہ سازی میں لاپروائی‘ غفلت‘ سستی‘ کرپشن‘ سیاسی دبا¶ سے رینجرز آپریشن کے مطلوبہ نتائج نہ آنا وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف‘ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کیلئے فوری اقدامات کے متقاضی ہیں۔ ملک کے دونوں ”بڑوں“ کو آئی ایس آئی‘ رینجرز انٹیلی جنس (سندھ) آئی بی‘ ایف آئی اے‘ ملٹری انٹیلی جنس کے ڈائریکٹروں سے اصل خفیہ رپورٹیں لیکر چار گھنٹے کی میٹنگ کراچی میں کرنی چاہئے اگر یہ تمام ادارے ”اندرونی حقیقت“ کی اصل رپورٹیں لیکر چار گھنٹے کی میٹنگ کراچی میں کرنی چاہئے اگر یہ تمام ادارے ”اندرونی حقیقت“ کی اصلی رپورٹیں وزیراعظم کو دے دیں یا وزیراعظم ان سے خود لے لیں تو ایک دو دن کی کانفرنس کے بعد ”نئی کراچی سکیورٹی پالیسی“ بنائیے جائے جس میں صوبائی حکومت کو 2 ماہ میں مطلوبہ نتائج کا وقت دیا جائے اور رینجرز‘ آئی ایس آئی کے مشترکہ آپریشن کمانڈ کا فیصلہ لے لیا جائے۔