حکومت ....؟

25 مارچ 2014

 انسانیت جب اپنے اوصاف گنوادے تو حیوانیت جنم لیتی ہے اور حیوانیت میں درندگی چھپی ہوتی ہے اور جب یہ درندگی سڑکوں بازاروں اور گلی کوچوں میں دندناتی پھرے تو کہیں معصوم بچیوں کے ساتھ سفاکانہ سلوک جیسے عناصر جنم لیتے ہیں کہیں خواتین کو کاری کرکے قتل کردیاجاتا ہے اور کہیں انصاف کی تلاش میں بھٹکتی لڑکیاں خودکشی یا خود سوزی جیسا ارتکاب کرنے لگتی ہیں۔ تب یہ واقعات ایک سوال چھوڑ جاتے ہیں کیا چند عناصر کو اُن کے عہدے سے معطل یا گرفتار کرنے سے نظام میں تبدیلی لانا ممکن ہے۔کیا اربابِ اقتدار عوامی مسائل سے با خبر ہیں یا اُن کو کوئی سروکار نہیں ؟ پہلے کہیں اِکّا دُکّا ایسے واقعات جنم لیتے تھے لیکن اب معمول بن گیا یہ صرف اسی صورت میں ہوتا ہے کہ جب لاقانونیت بڑھ جائے اور جرم کا احساس مٹ جائے او ر جب جرم کا احساس تک مٹ جائے تو ایسی تھکی ماندی سوسائٹی جنم لیتی ہے جہاں انہونی اور شرمناک واقعات جنم لیتے ہیں۔ ساغر صدیقی نے کہا ....
 معبدوں کے چراغ گل کردو
 قلب انساں میں اندھیرا ہے
 اور یہ اندھیر ااُس وقت جنم لیتا ہے جب اپنی اقدار ،نظریات اور اساس کو پسِ پشت ڈال دیاجائے اگر ہم نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں اُس طرزعمل میں تبدیلی کی ضرورت ہے جو اخلاقی اقدار سے پیدا ہوتا ہے۔ اسلام تلوار کے زور سے نہیں پھیلا، محمد بن قاسم، طارق بن زیاد اور قیتبہ بن مسلم چند ساتھیوں کے ساتھ روانہ ہوئے لیکن انہوں نے اپنے کردار اور طرز عمل سے اخلاقی اقدار کو زندہ رکھا۔ وہ قومیں جو صدیوں سے دبی آرہی تھیں اس طرزعمل پر حیران رہ گئی وہ طرز عمل کیا تھا؟ تمام انسانیت کو امان دی گئی خواتین کا احترام کیا گیا۔ جان و مال عزت و آبرو کا تحفظ دیا گیا۔ مورخین کے نزدیک اچھی اور صالح حکومت جرائم کی بیخ کنی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
 حضرت عمرؓ کب کسی شخص کو ریاست کا والی بنا کر بھیجتے تو ایک ہدایت نامہ اُس کے ساتھ جاتا تھا۔
1۔ والی سب کیلئے دروازے کھلے رکھے گا۔ ایسا نہ ہو کہ ضرورت مند اور حاجتمند بغیر انصاف کے واپس پلٹ جائیں۔ 2۔ والی ترکی گھوڑے پر سوار نہیں ہوگا ایسا نہ ہو کہ وہ خودکو عام لوگوں سے اعلیٰ و ارفع سمجھنے لگے۔ 3۔ ریشمی کپڑا نہیں پہنے گا۔ چھنا ہوا آٹا نہیں کھائے گا تاکہ اُسکے اندر تکبر پیدا نہ ہوسکے۔ آج ہمیں اس معاشرے میں ان باتوں کا فقدان نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انصاف کے حصول کیلئے صبر ایوبؑ، عمر خضر اور دولتِ قارون کی ضرورت ہے۔
جب نظام حکومت اسلام کی اساس پر دیکھا جائے تو ”جواب دہی“ کا تصور ابھرتا ہے اور ” جواب دہی“ کے محرم سے ایسی سوسائٹی کی بنیاد پڑتی ہے جس میں عوام کو ان کے حقوق مل سکیں۔ اگر کسی نظام حکومت میں حقوق العباد جیسا عنصر ناپیدا ہوجائے تو وہی کچھ ہوتا ہے جس سے ہمارا معاشرہ گزر رہا ہے۔حجاج بن یوسف ایک عورت کی فریاد پر سندھ کو فتح کرتا چلا گیا۔ مسلمان حکمرانوں کا دور آمرانہ تھا لیکن عورت کو تحفظ حاصل رہا۔ یہ کیسا نگر ہے؟ جہاں دن دیہاڑے عزتوں کو پامال کیاجاتا ہے اور پھر مظلوموں پر موت کی نیند طاری کردی جاتی ہے کیا ہم میں کوئی حجاج بن یوسف یا محمد بن قاسم نہیں ہے؟یا یہ کہ ہم مادی ترقی، دنیاوی منفعت اور اقتدار کے حصو ل کی تگ و دو میں اتنا سریت بھاگ رہے ہیں کہ اپنی اساس اور اخلاقی اقدار سے بہت دور چلے گئے ہیں۔یہ مقام عبرت اور لمحہ فکریہ ہے۔ خلفائے راشدین تو خشیت الٰہی سے ساری ساری رات گریہ زاری میں مصروف رہتے تھے۔ ہم بے خوفی کے دور سے گزر رہے ہیں لہٰذا ہمارا رشتہ اپنی اساس اور ربوبیت سے کمزور ہوگیا ہے۔ جب ایسی صورتحال پیدا ہوجائے تو بیرونی طاقتیں ہماری غیرت کو للکارتی ہیں تب ڈاکٹر عافیہ جیسے واقعات بھی جنم لیتے ہیں تو حکمرانوں پر اثرانداز نہیں ہوتے۔