نظریہ پاکستان مارچ، وقت کی اہم ضرورت

25 مارچ 2014

نظریہ پاکستان مارچ کے حوالے سے جماعة الدعوة کے امیر حافظ سعید نے سینئر کالم نگاروں کی ایک مشاورتی مجلس سجائی تھی اپنی باری آنے پر میں نے عرض کیا تھا کہ اگر نظریہ پاکستان مارچ کا مقصد اس ملک میں نفاذ اسلام کی راہ ہموار کرنا ہے تو ایسی ہر کوشش کو شدید مزاحمت کا سامنا ہو گا۔ میں نے بہت کھل کر اس کی شدید مزاحمت کی نوعیت کی بھی نشاندہی کی لیکن اگر اس کا مقصد پاکستان کے خلاف بھارت کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کے جاری سلسلے کے حوالے سے پاکستانی راہ عامہ کو ہموار کرنا ہے تو پھر اس ملک کے تمام دیوبندی‘ بریلوی اور شیعہ سب اپنے تحفظات کے باوجود آپ سے اظہار یکجہتی میں بخل سے کام نہیں لیں گے اور فرقہ واریت سدراہ نہیں بنے گی۔
وطن عزیزکو درپیش اندرونی وبیرونی سازشوں کے مقابلے کیلئے ملک میں اتحاد ویکجہتی کا ماحول پیدا کرنے اور نوجوان نسل کو قیام پاکستان کے حقیقی مقاصد سے آگاہ کرنے کیلئے جماعت الدعوة نے جو ملک گیر احیائے نظریہ پاکستان مہم شروع کر رکھی ہے اور جس کے تحت ملک میں ہر ضلع اور تحصیل کی سطح پر جلسوں، ریلیوں اور کانفرنسوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ پاکستان معرض وجود میں آنے کے بعد سے ہی اغیار کی سازشوں کا شکار رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ماضی میں اسے فوجیں داخل کر کے دولخت کیا گیا۔ جنگیں مسلط کی گئیں۔ چین اور سرکریک جیسے مسائل پیدا کیے گئے۔ آج بھی ملک کے مختلف شہروں اور علاقے تخریب کاری اور دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں۔ وطن عزیز میں جاری دہشت گردی، دھماکوں اور علیحدگی کی تحریکوں کی سازشوں میں بھارت ملوث ہے جس کے واضح ثبوت پارلیمنٹ کے ان کیمروں اجلاسوں اور حکومتی ذمہ داران کے بیانات کے ذریعہ کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ وہ ایک طرف آئے دن سرحد پار جارحیت کا ارتکاب کرتا ہے۔ ملک میں فتنہ، فساد، قتل وغارت گری پروان چڑھا رہا ہے۔ کشمیر میں جنگی بنیادوں پر ڈیم تعمیر کر رہا ہے تو دوسری طرف پاکستان میں تمام تر ذرائع وسائل استعمال کرتے ہوئے نوجوان نسل کے اذہان وقلوب سے نظریہ پاکستان کو کرچنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جناب حافظ سعید کے محولہ بالا خیالات جن کے ایک ایک لفظ حب الوطنی کی خوشبو، ایک ایک جملے میں پاکستان اور پاکستانیوں کی خیرخواہی کا جذبہ جھلک رہا ہے۔ یہ ایک ایسی بروقت آذان ہے جس پر کان دھرے جانے چاہئیں۔
 آج نظریہ پاکستان کی نفی اور اسے متنازع بنانے کی مذموم کوشش خود پاکستانی کہلانے والے دانشوروں اور کالم نگاروں کی جانب سے ہو رہی ہے جس سے اسلام دشمن عناصر قوت پکڑ رہے ہیں۔ آنکھوں پر تعصبات کی پٹی باندھ کر اور مادی مفادات کے چکر میں بعض کالم نگار کس کی ”شریعت اور کس کا اسلام“ کی رٹ لگا کر شعوری یا لاشعوری طور پر نفاذ اسلام کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ میڈیا پر بالخصوص الیکٹرانک میڈیا پر ایک خاص نقطہ نظر کے حاملین کی اجارہ داری قائم ہو چکی ہے جو رائے عامہ کو ذہنی الجھاﺅں کا شکار کرنے کی پوری اہلیت رکھتے ہیں۔ ان حالات میں حافظ سعید کا نظریہ پاکستان کے احیار کیلئے نعرہ مستانہ وقت کا تقاضہ ہے۔ اس حوالے سے ان کی عملی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا جانا چاہیے۔ سینئر کالم نگاروں نے جناب الطاف حسین قریشی اور جناب مجیب الرحمان شامی کے اٹھائے گئے اس نکتہ پر مکمل اتفاق رائے کا اظہار کیا کہ پاکستان کو امن وخوشحالی کا گہوارہ بنانے کیلئے تحریک پاکستان کے جذبہ کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک اس ملک میں نفاذ اسلام کے مقصد کا تعلق ہے۔ اس حوالے سے میرے تحفظات ہیں اور اس سلسلے میں ٹھوس دلائل ہیں جن کا اظہار آج ممکن ہے۔ مگر فسادِ خلق کا خوف آڑے ہے لیکن آنے والے کل میں اور بہت جلد آنے والے کل میں علمی ہی نہیں سیاسی اور مذہبی سطح پر اس سلسلے میں مباحثہ ناگزیر ہو گا۔