یہ جو تیرے ڈالروں کی چھن چھن ہے

25 مارچ 2014

آج کل آئی ایم ایف کا پاکستان سے عشق چل رہا ہے دیکھئے ناں کس طرح دیوانوں کی مانند ڈالروں کی برسات کر رکھی ہے۔ ابھی تو حکومت کا نواں مہینہ چل رہا ہے اور آئی ایم ایف نے ڈالروں کیلئے تیسری قسط بھی منظور کر لی۔ اسحاق ڈار کا آئی ایم ایف سے نکاح ثانی رنگ لایا ہے 55 کروڑ کی قسط سے اندازہ لگا لیں کہ اب تک پاکستان سوری پاکستان نہیں‘ اسحاق ڈار کو ڈیڑھ ارب سے زائد کے ڈالروں کی سلامی مل چکی ہے یعنی ایک ارب 65 کروڑ ڈالرز… اگر ان ڈالرز کو روپوں میں ضرب دیا جائے تو غش آنے لگتا ہے اسحاق ڈار کو ’’اسحاق ڈالر‘‘ کا بالکل جائز ٹائٹل دیا گیا ہے۔ اسحاق ڈار کے آنے سے ہر طرف ڈالوں کی بارش ہو رہی ہے مثلاً ابھی سعودی عرب نے اچانک ڈیڑھ ارب ڈالر دے کر پاکستان تو کیا ساری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ سعودی عرب نے بھی محنت مزدوری کرنے والوں اور جان توڑ کر کام کرنے والے سینکڑوں پاکستانیوں کو نکال دیا ہے یہ لوگ پاکستان میں بیروزگاری ، غربت اور مہنگائی سے عاجز آ کر سعودیہ گئے تھے اور اپنے وطن کو چھوڑنے کا دکھ اٹھایا تھا۔ سعودیہ میں کئی سال دھکے کھائے تھے۔ اور دن رات کو لہو کے بیل کی طرح کام کیا تھا لیکن سعودی حکومت نے پاکستانی ضرورت مند کی ضرورت اور محنت کا احساس نہیں کیا تھا لیکن اچانک حکومت وقت کو ڈیڑھ ارب ڈالر بھجھوا دئیے اسکے پس پردہ محرکات کا اندازہ ہمیں سال کے اختتام تک ہو گا۔ بہرحال یہ ڈالر بھی اسحاق ڈار کے کھاتے میں چلے گئے ہیں۔ڈالروں کا برستان ساون اسحاق ڈار اور حکومت وقت کے صحن میں ہی برسا پاکستان میں باقی کے ساڑھے اٹھارہ کروڑ سے زائد لوگوں تک ان ڈالروں کی بو بھی نہیں پہنچی۔ اسحاق ڈار نے تو شعر کی درگت ہی بنا ڈالی ہے…؟
امریکہ سے ملے یا سعودیہ سے ملے
ڈالر چاہئیے‘ جہاں سے ملے
پاکستانی عوام کی حالت پہلے سے ابتر ہے غریب پہلے سے بھی زیادہ غریب ہو گئے ہیں متوسط طبقہ پس کر رہ گیا ہے۔ امیروں کی بھی جان پر بنی ہے۔ صف خوشحالی مسلم لیگ ن کے حصے میں آئی ہے۔ شہباز شریف نے ترک وزیر اعظم طیب اردگان کو جو 8لاکھ کا گھوڑا تحفے میں دیا تھا۔ وہ گھوڑا طیب اردگان شان بے نیازی سے یہیں چھوڑ گئے تھے کیونکہ اس پر ڈاک ٹکٹ نہیں لگا تھا۔ اب حکومت پنجاب نے اس خاص الخاص گھوڑے کو استنبول پہنچانے کیلئے 30 لاکھ کا خرچہ کر ڈالا ہے۔ صرف گھوڑا پہنچانے کیلئے تین افسران کو ایک ہفتہ کے سیر سپاٹے کے ساتھ ترکی بھیجا جا رہا ہے۔ 8لاکھ کا گھوڑا30 لاکھ کے سفر و قیام و طعام کے اخراجات، شاپنگ اور اس مد میں سات لاکھ کا خرچہ الگ ہو گا۔ اس طرح ایک تحفہ45 لاکھ میں دیکر وزیر اعلیٰ کیا مفادات حاصل کرینگے۔ اسکے بارے میں کبھی پتہ نہ چل سکے گا۔ کتنی عجیب بات ہے کہ پنجاب میں پنتالیس ہزار پوسٹ گریجویٹ بیروزگار ہیں اعلیٰ تعلیم کے باوجود ان کے ذرائع آمدن پنتالیس ہزار تو کیا‘ پنتالیس سو بھی نہیں ہیں اور یہ تعلیم یافتہ طبقہ پرائیویٹ اداروں میں تین چار ہزار پر دھکے کھا رہے ہیں کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ جب سے موجودہ حکومت آئی ہے۔ اب تک امدادوں، قرضوں او ٹیکسوں کی مد میں حکومت وقت کھربوں روپے ڈالر، پونڈز ، یورو، ریال دینار وصول کر چکی ہے لیکن ان نو ماہ میں ایک دن بھی عوام نے سکھ کا سانس نہیں لیا۔ کسی نے ایک وقت کی روٹی بھی سکھ سکون اور خوشی سے نہیں کھائی۔ اس حوالے سے سید منور حسن کا بیان قابل غور ہے۔ کہتے ہیں کہ اعدادو شمار کے گورکھ دھندے سے معیشت بہتر نہیں ہو سکتی۔ جب عوام کو بنیادی سہولتیں سستی ملیں گی تب مانیں گے کہ ملک ترقی کر رہا ہے بات تو صحیح ہے کہ ملک ترقی نہیں کر رہا صرف حکومت ترقی پر ہے اور عیش و عشرت میں اضافہ مسلم لیگ (ن) کا ہوا ہے اس کی تصدیق اور تائید چیف جسٹس پاکستان تصدق گیلانی نے بھی ان الفاظ میں کی ہے کہ تھر میں لوگ غذائی قلت سے مر گئے اور حکام سیاست میں ملوث رہے اربوں ڈالروں کی وصولیوں کے باوجود نہ پٹرول سستا ہوا نہ سی این جی نہ آٹا نہ چینی بلکہ ان سب اشیاء میں نو ماہ کے دوران چھ بار اضافہ ہوا حکومت تو چیزیں سستی کرنے کے بجائے، اندھی مہنگائی کو بھی نہ روک سکی، بھوک، افلاس، مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے ان 9ماہ میں 900 افراد نے خودکشی کر لی۔سپریم کورٹ کو اس کا بھی ازخود نوٹس لینا چاہئیے۔ اسی طرح لاپتہ افراد میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا اور تعداد 1020 ہو گئی۔ دنیا کے کون سے ملک میں لوگ یوں لاپتہ ہوتے ہیں؟ اسلام آباد کچہری پر حملہ ایک شرمناک واقعہ ہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے تنبہیہ کرتے ہوئے کہا کہ کچہری پر حملہ ریاست کی ناکامی ہے۔ حکومت کب تک تماشہ دیکھتی رہے گی۔ لوگوں کی زندگیاں غیر محفوظ ہیں؟ حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں جنگل کا قانون نافذ ہے۔ یوں لگتا ہے کہ حکومت دماغ سے خالی لوگ کر رہے ہیں دو دن قبل حکومت نے خصوصی طور پر بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے پر غور کیا۔ پاکستانی حکومت کی تمام تر توجہ امریکہ اور بھارت کی خوشنودی کی طرف مبذول ہے یا پھر چین اور ترکی کے دوروں، دعوتوں، تحفوں اور معاہدوں پر ارتکاز ہے۔ ان معاہدوں میں بھی ذاتی مفادات اور اپنا بزنس پوائنٹ آف ویو کو فوکس کیا جا رہا ہے۔بلوچستان میں بھارتی دراندازی نظر نہیں آ رہی۔ سندھ کی خونریزی میں بھارتی ہاتھ دکھائی نہیں دے رہے۔ بھارتی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کے خونخوار بیانات سنائی نہیں دے رہے۔ سلمان خورشید کا رعونت بھرا لہجہ اور تحکم آمیز بیان کہ پاکستان کو مطلوب افراد ہر حال میں ہمارے حوالے کرتے ہونگے۔ہر سال بھارتی جیلوں میں تشدد سے نصف درجن پاکستان مار دئیے جاتے ہیں۔ بھارت اسلحہ خریدنے والوں میں اس وقت نمبر ون ہے۔ وہ اپنی دولت کا بڑا حصہ اسلحہ خریدنے پر کیوں لگا رہا ہے۔ صرف پاکستان کو شکست دینے کیلئے…؟ لیکن پاکستانی حکمران بھارت کے آشیر باد کیلئے مرے جا رہے ہیں کیا یہ حکومت چل سکے گی جس نے قومی ایوارڈز بھی من پسند، قصیدہ خوانوں، سفارشیوں میں بانٹ دئیے اور نوکریوں، اسمبلی ٹکٹوں اور اعزازوں کے میرٹ کو بھی ڈالروں کی طرح ارزاں اور بے توقیر کر ڈالا۔
یہ جو تیرے ڈالروں کی چھن چھن ہے
حکمرانوں کے دل کی یہ دھڑکن ہے