قیام پاکستان کے ادھورے مقاصد

25 مارچ 2014

قوم نے گزشہ روز ہر سال کی طرح جوش و خروش اور تزک و احتشام سے یوم پاکستان منایا۔ اس مرتبہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے ٹی ٹونٹی میچ میں آسٹریلیا سے میچ جیت کر قوم کی خوشیوں کو دوبالا کر دیا۔
 23 مارچ 1940ءکو منٹو پارک لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے قائدین نے ایک قراردادکے ذریعے اسلامیانِ ہند کیلئے ایک الگ وطن کے حصول کا عہد کیا۔ دنیا کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا کہ ایک الگ وطن کے حصول کی تحریک کے محض سات سال میں مقاصد حاصل کر لئے گئے۔ اسلامی نظریاتی ریاست کے قیام کے بھی کچھ مقاصد تھے جن کا تعین بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی تقاریر میں کیا تھا۔ اسلامیہ کالج پشاور میں قائداعظم کی 13 جنوری 1948ءکی تقریر کے یہ الفاظ ایک واضح منزل کی نشاندہی کرتے ہیں ”ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کیلئے نہیں کیا تھا‘ بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے‘ جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں۔“ قیام پاکستان نے قبل 8 مارچ 1944ءکو مسلم یونیورسٹی علیگڑھ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان اسی دن وجود میں آگیا تھا جب ہندوستان میں پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا“۔
 لگتا ہے کہ قائداعظم کے انتقال کے بعد قیام پاکستان کے مقاصد ان کے ساتھ ہی دفن ہو گئے تھے۔ قائد کا تصور جمہوریت کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ اسکے باوجود بھی فوجی آمروں نے پاکستان کے 33 سال ضائع کر دیئے افسوس ہوتا ہے آمروں کا ساتھ ہمیشہ ان لوگوں نے دیا جو خود کو اقبال و قائد کا جاں نشین اور اپنی پارٹی کو بانیانِ پاکستان کی مسلم لیگ قرار دیتے رہے۔ انہوں نے پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانے کی بجائے اپنے مفادات کی تجربہ گاہ بنا دیا۔ جس کے باعث آج پاکستان اور عوام مسائل کو مصائب کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔ اکابرین نے بکھرے ہوئے عوام کو متحد کرکے ایک قوم بنا دیا‘ قائد کی رحلت کے بعد نااہل قیادت کے باعث یہ قوم انتشار اور نفاق کا شکار ہو گئی۔ سیاستدانوں اور طالع آزماﺅں کو اپنے اپنے مفادات کا آسانی سے حصول بھی شاید قوم کے انتشار میں ہی نظر آتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت کے مینڈیٹ کو بھی جعلی قرار دیا جاتا ہے۔ دس ماہ میں انتخابی عذر داریاں نہیں نمٹائی گئیں۔ پنتیس پنچرز کے سکینڈل کا جواب نہیں دیا گیا۔ دھاندلی کا الزام لگانے والوں نے دوبارہ گنتی کی درخواستیں دیں تو جیتنے والوں نے سٹے لے لیا۔ اگر ان کی جیت جینوئن ہے تو دوبارہ گنتی کا خوف نہیں ہونا چاہئے۔ سٹے لینے سے شکوک نے جنم لیا اور انتخابات کی ساکھ مشکوک ٹھہر چکی ہے۔ بہرحال مینڈیٹ جیسا بھی ہے اس کی بدولت جو حکومت میں آئے ان کو اپنی تمامتر صلاحیتیں بروئے کار لا کر عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کرنی چاہئے تھی لیکن ایسا ہوتا تو آج لوگ تھر میں فاقوں سے نہ مرتے‘ چولستان سے نقل مکانی نہ ہوتی‘ دہشتگرد فوجیوں کے گلے کاٹ کر اور شہریوں کو بموں سے اڑا کر بھی مذاکرات کیلئے اپنی شرائط نہ منواتے۔ حکمرانوں کے قابو میں ملکی حالات آرہے ہیں نہ کسی چیز کی قیمت پر کنٹرول ہے۔ ڈالر کی قیمت کم کرنے پر فخر کیا جاتا ہے لیکن اس کا ریلیف تیل‘ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کرکے عوام کو نہیں دیا جا رہا۔ حج کرائے بدستور اضافے کیساتھ وصول کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیراعظم صاحب خود کو قائد کا جاں نشین ہی نہیں قائد ثانی کہلانے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔ لیکن کسی بھی معاملے میں قائد جیسی کمٹمنٹ نہیں ہے۔ قائداعظم نے اپنی وفات سے چند روز قبل فرمایا تھا کہ ”کشمیر سیاسی اور فوجی اعتبار سے پاکستان کی شہ رگ ہے‘ کوئی خوددار ملک اور قوم یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ اپنی شہ رگ دشمن کی تلوار کے حوالے کر دے۔“ وزیراعظم نوازشریف اور انکے برادر خورد وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کیا پاکستان کی شہ رگ کے عوض اس کے دشمن بھارت کے ساتھ ویزہ فری تجارت و تعلقات کا احیاءچاہتے ہیں اور اس صورت میں کیا وہ خود ہی قیام پاکستان کے مقاصد اور نظریہ پاکستان کو دفن کرنے کا اہتمام نہیں کر رہے؟ قائداعظم نے تو 17 اگست 1947ءکو جمعة الوداع کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے پاکستان کا معاشی نظام بھی ان الفاظ میں واضح طور پر اجاگر کر دیا تھا کہ ”اگر ہم اس عظیم مملکت پاکستان کو خوش اور خوشحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پوری توجہ لوگوں بالخصوص غریب طبقے کی فلاح و بہبود پر مرکوز کرنا پڑیگی۔“ آج وطن عزیز میں بالخصوص پاکستان کی خالق جماعت کی حکمرانی میں ملک کے پسے‘ پسماندہ غریب طبقات اور عوام الناس جس طرح سنگین اقتصادی مسائل سے دوچار اور روٹی روزگار کے وسائل سے محروم کرکے راندہ درگاہ بنائے جا رہے ہیں‘ اس سے قیام پاکستان کے مقاصد پر ہی زد پڑ رہی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے لاہور پریس کلب میں میٹ دی پریس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات درست رکھنا ہونگے۔ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینا کوئی غلط بات نہیں بلکہ اچھی بات ہے۔ فوج بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کی مخالف نہیں‘ تمام ادارے حکومتی فیصلوں کے پابند ہیں۔ بھارت کے ساتھ تجارت سے پاکستان کو زیادہ فائدہ ہو گا۔ اس بیان میں کہ فوج بھارت کیساتھ مذاکرات کی مخالف نہیں اتنی ہی صداقت ہے جتنی اس ”حقیقت“ میں کہ فوج طالبان کیساتھ مذاکرات میں آن بورڈ ہے۔ جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ فوج سے توقع ہی نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ ازلی اور ابدی دشمن کے ساتھ مسئلہ کشمیر کی موجودگی میں تجارت کی حمایت کریگی۔ مسئلہ کشمیر حل کر لیں پھر کسی کو تجارت اور دوستی پر اعتراض نہیں ہو گا۔ قیام پاکستان کے مقاصد ہم اب تک حاصل نہیں کر سکے‘ انکے حصول کیلئے حکمرانوں کو قوم کی طرح محب وطن‘ فوج کی طرح کمٹڈ اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہونا ہو گا۔

عزائم اور مقاصد

اگر مسلمانوں کو اپنے عزائم اور مقاصد میں ناکامی ہو گی تو مسلمانوں ہی کی ...