سیاسی زکوٰة فنڈ!

25 مارچ 2014

ایک خبر نے مجھ سمیت 20کروڑ پاکستانیوں کو چونکا دیا۔ خبر یوں تھی کہ پاکستان کے پارلیمنٹرین نے اپنے اپنے اثاثے ڈیکلیئر کیے ہیں۔ میرا یقین ہے کہ یہ رپورٹ پڑھ کر آپ بھی میری طرح حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکیں گے۔ اس ایک رپورٹ کے اندر اتنے لطیفے ہیں کہ ایک مزاحیہ کتاب تشکیل دی جا سکتی ہے۔ اربوں روپوں کے پراپرٹی مالکان نے چند ہزار کے اثاثے جب کہ کھربوں روپوں کے مالک لوگوں نے چند لاکھ کے اثاثے ظاہر کیے ہیں۔ میں نے تفصیل کے ساتھ یہ خبر پڑھی تو مجھ پر یہ حقیقت افشاءہوئی کہ پاکستان قومی اسمبلی چاروں صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے اراکین بچارے بہت لوئر مڈل کلاس طبقے یا پھر غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔مجھے یہ جان کر دکھ ہوا کہ سینکڑوں ممبران اسمبلی کے پاس اپنا گھر تک نہیں ہے۔ مجھے بہت فکری ہوئی کہ سردی کے اس موسم میں کھلے آسمان تلے ان بچاروں کا اور ان کے بچوں کا کیا حال ہوگا اور جس کسمپرسی میں ہمارے سیاستدان زندگی گزار رہے ہیں ان کے لیے فوری ریلیف کا کوئی انتظام ہونا چاہیے۔
میں پچھلے 30سال سے یورپ ،امریکہ، کینیڈا جیسے ملکوں میں سکونت پذیر ہوں اور یہاں کے پولیٹکل سسٹم کو بھی خوب سمجھتا ہوں یہاں جرمنی ، فرانس، اٹلی، سوئٹزرینڈ، ہالینڈ ،انگلینڈ،امریکہ میں بھی سیاست دان ہی نہیں سرمایہ دار، جاگیردار، بیوروکریٹ ،اسٹیبلشمنٹ سمیت اکثر لوگ ٹیکس فائل کرتے وقت ہیرا پھیری کرتے ہیں اور اکثریت پکڑی بھی جاتی ہے اور سزائیں بھی ہوتی ہیں، پابندیاں بھی لگتی ہیں لیکن ان واقعات کا اوسط ایک فی صد سے زیادہ نہیں ہے جبکہ وطن عزیز میں 200ملین کی آبادی میں سے ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ نہیں ہے۔ یعنی آٹے میں نمک کی مقدار سے بھی کم۔ خاص طور پر پاکستان کا تاجر طبقہ دوکاندار ہمیشہ ٹیکس دینے سے کتراتے ہی ہیں۔ فیکٹری مِل اونر اربوں روپے بینک سے قرضے لے کر دو سال بعد اتنے غریب ہو جاتے ہیں کہ ان کو بینکوں کے قرضے ری شیڈول اور معاف کروانے پڑ جاتے ہیں۔ پاکستان کا کوئی بھی ایسا سیاسی خانوادہ ،سرمایہ دار خاندان، بیوروکریٹس ، ریٹائرڈ فوجی افسران ایسا نہیں ملے گا کہ جس نے قرضے معاف نہ کروائے ہوں اور اصلیت یہ ہے کہ انکے پاس ملیں، فیکٹریاں،کارخانے سبھی قرضے کے پیسوں کا ہے ان سب سرمایہ دارانہ طبقے کے بچے یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں پڑھے ہیں۔ ان کے پاس غیرملکی پاسپورٹس ہیں ان طبقات کی بیگمات شاپنگ بھی بیرون ملک کرنا پسند کرتی ہیں۔ سابق وزیراعظم گیلانی کی بیوی فوزیہ گیلانی نے صرف ایک دن میں جوتوں کی شاپنگ پر 50لاکھ روپے صرف کیے تھے۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کرپٹ بزنس مین ان لوگوں کے بچوں اور اہل خانہ کو لاکھوں روپوں کی شاپنگ کرواتے ہیں تو کیا وہ مفادات کے بغیر ہے؟یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق مشہور ہے کہ ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کو دھوتا ہے۔ ملک کی دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں سمیت پوزیشن پر موجود مذہبی و سیاسی پارٹیوں کے مالکان و سربراہان کرپشن کی دلدل میں اس حد تک دھنسے ہوئے ہیں کہ ان کو اپنے پاس دولت کا حساب تک نہیں ۔ میرے ایک دوست کہہ رہے تھے اگر اثاثوں کے یہ اعدادوشمار ٹھیک ہیں تو ملک کے سب امراءکے پاس 5ارب روپے سے بھی کم دولت ہے تو کھربوں روپوں کی باقی دولت کہاں چھپا کر رکھی گئی ہے یقینا سوئٹزرلینڈ،امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے بینکوں کا حجم بڑھایا ہے۔
ہارورڈ آکسفورڈ ،کیمبرج، زیورخ و ٹورنٹو کی یونیورسٹیوں میں ان کی اولاد پڑھتی ہے جہاں فی کس طالب علم سالانہ دو کروڑ سے زائد خرچہ آتا ہے لیکن ان بڑے بڑے اداروں میں پڑھنے اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد ان کا رخ اپنے پروفیشن کی طرف نہیں ہوتا بلکہ وہ باپ کی چھوڑی ہوئی سیٹ پر الیکشن کا ڈرامہ کرکے اسمبلیوں تک پہنچ جاتے ہیں۔دلکش پلان تیار کرتے ہیں مثلاً بی بی شہید کے پہلے دور میں سوشل ورکس پروگرام ،نوازشریف کے دور میں پیلی ٹیکسی پروگرام، چوہدر برادران کے دور میں سرسبز پنجاب اور پیپلزپارٹی کے گذشتہ دور حکومت میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جبکہ شہباز شریف نے پنجاب میں لیپ ٹاپ اسکیم اور اب پھر پورے ملک میں نوجوانوں کو قرضہ دینے کی اسکیم شروع کی ہے۔ ان پراجیکٹ کا حجم اربوں کھربوں پر مشتمل ہوتا ہے اور نتیجہ ”چوراں دے کپڑے تے ڈانگاں دے گز“ جیسے ہی حکومت ختم ہوتی ہے، پروگرام بند کر دیئے جاتے ہیں تاکہ نیا آنیوالا اپنے شکار کو اپنے انداز میں لوٹ سکے۔ اگر نیت صاف ہو تو ان پیسے سے اب تک اتنی انڈسٹری لگ سکتی تھی کہ جس سے اب تک لاکھوں بے روزگاروں کو ملازمت مہیا کی جا سکتی تھی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مستقل حل تلاش کیا جاسکتا تھا۔ یہ تو چند بڑے بڑے پروگرامز تھے ورنہ حکومتوں نے ایسے منصوبے بھی تشکیل و ترتیب دیئے جو صرف کاغذوں اور کتابوں تک ہی محدود رہے مگر عوام سے اربوں روپے چھین لیے گئے۔ دنیا بھر میں عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے لیے حکومتوں نے ٹیکس کا فول پروف نظام تشکیل دیا ہوتا ہے۔ (جاری)


 جب آپ یورپ ،عرب ممالک ،نارتھ امریکہ، آسٹریلیا ،جاپان جاتے ہیں تو وہاں کے نظام کو دیکھتے ہیں ۔ ہسپتال فائیوسٹار، سڑکیں جیسے شیشے کی بنی ہوئی اور سوشل ویلفیئر کا ایسا نظام کے خلفائے راشدین کا دور یاد آ جائے۔ مگر یہ کیسے ممکن ہوتا ہے ان سب آسائشوں کو پانے کیلئے ہر آدمی ٹیکس ادا کرتا ہے حتیٰ کہ جو شخص حکومت سے زکوةیا مدد یا سوشل ویلفیئر حاصل کرتا ہے وہ بھی ٹیکس ادا کرتا ہے اپنی کمائی پر۔نظام ایسا رائج کر دیا گیا ہے کہ بچے سٹیٹ کی ملکیت تصور کیے جاتے ہیں اور 18سال تک ان کی نگہداشت ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے بوڑھوں کو اپنے بیٹوں، بیٹیوں کا محتاج نہیں ہونا پڑتا۔ ان کا پنشن کا نظام اور اولڈ ہوم کا نظام اتنا لگژری ہے کہ آپ انتظار کرتے ہو کہ یا خدا میں جلدی بوڑھا ہو جاﺅں تاکہ سینئر سٹیزن کی لائف انجوائے کر سکوں۔ ان تمام سہولتوں کی موجودگی میں کوئی پاگل ہی ہوگا جو رشوت لے گا یا رشوت دے گا۔ مگر اس سوشل مضبوط نظام کی جڑیں یورپ کا سسٹم ہے اور وہ سسٹم ٹیکس کی بنیادوں پر قائم ہے۔ ملکہ برطانیہ ہو یا ہالینڈ کی ملکہ یا سویڈن کا شاہی خاندان سبھی ٹیکس ادا کرتے ہیں بلکہ اکثر ملکوں میں قتل کی سز اکم ہے لیکن ٹیکس چوری اور فراڈ کی سزا دوگنی ہے۔ جب کہ وطن عزیز میں ٹیکس ادا کرنے والے کو بے وقوف سمجھا جاتا ہے بلکہ بے شمار لاءفرمیں کام کر رہیں جو آپ کو ٹیکس چوری کرنے کے خوبصورت طریقے بتاتی ہیں۔بیماری کی صرف نشاندہی ہی نہیں ضروری نہیں بلکہ تشخیص اور علاج بھی بتانا چاہیے اس پر ہم نے کافی غوروفکر کیا ہے دوست احباب سے مشاورت بھی کی ہے ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ کونسا ایسا عمل کیا جائے جس سے عوام اور قومی خزانہ محفوظ رہ سکے؟ کس حد تک۔
-1 تمام بیوروکریٹس‘ عسکری قیادت‘ سرمایہ داروں‘ جاگیرداروں‘ ،خارخانے داروں‘ مل اونرز‘ سائنسدان‘ وڈیرے‘ نوابوں‘ مخدوموں‘ چودھریوں کیلئے ایک سیاسی زکوة فنڈ تشکیل دیا جائے جس میں ان لمیٹڈ فنڈز ہوں جن کی مذکورہ طبقات کو فنڈ جاری کیے جائیں اور سیاسی مستحقین کو سیاسی زکوة دی جائے۔
-2 ان مذکورہ طبقات کے بچوں کی یورپ اور امریکہ سمیت دنیا بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم و تربیت کے لئے سرکاری خزانے سے فنڈ جاری کئے جائیں اسی زکوة فنڈ سے تاکہ ان کی اولاد ہارورڈ آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کر سکے۔
-3 ان طبقات کی بچیوں کی شادی کے لئے جہیز فنڈ بھی قائم کیا جانا چاہئے تاکہ وہ اس سے فائیو سٹار ہوٹلوں میں تقریبات کا اہتمام کر سکیں۔ اور جہیز میں گاڑیاں بنگلے دے سکیں۔
-4 اور ان طبقات کے بچے بچیوں کے ہر ادارے میں ایگزیکٹو عہدے پر مخصوص کوٹہ ہونا چاہئے پاکستان کی پارلیمنٹ میں کم از کم 90 فیصد کوٹہ ان طبقات کے بچوں کے لئے مختص ہونا چاہئے۔
-5 ملک کا وزیر وفاقی کابینہ‘ گورنرز‘ وزراءاعلیٰ‘ وزیراعظم‘ صدر ان طبقات کا سند یافتہ ہونا چاہئے تاکہ کوئی عام آدمی ایسے مناصب پر براجمان ہونے کی خواہش بھی دل میں نہ رکھے۔
سیاسی زکوة فنڈ اور مندرجہ بالا حفاظتی تدابیر اختیار کرنے سے شاید پاکستان کے غریب عوام جو خط غربت سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں کو کوئی فائدہ پہنچ سکے؟ کہتے ہیں بھوکا شیر اپنے بچے کھا جاتا ہے اور ”رجھا“ شیر مست ہو جاتا ہے۔ اب یہ فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ شیر ”رجھا“ ہونا چاہئے یا بھوکا؟