مذاکرات وتجربات

25 مارچ 2014
مذاکرات وتجربات

 خون کا مزید ایک قطرہ بہائے بغیر اگر پاکستان کا امن اور پاکستانیوں کا سکون مذاکرات سے لوٹ سکتا ہے تو اس سے بہتر دہشت گردی کے خاتمے کا کوئی حل نہیں ہو سکتا۔ وزیراعظم نواز شریف ایسا ہی چاہتے ہیں۔ ان کے بیانات اور ان کے تناظر میں کئے گئے اقدامات سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے لیکن ہو گا وہی جو فوجی قیادت چاہے گی۔ فوجی قیادت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے انکار کر دیا ہے البتہ حکومت جو فیصلہ کرے اور احکامات دے گی اس پر عمل کا یقین دلایا ہے۔ وہ بھی ایک بار نہیں کئی بار۔ ایک مرتبہ جنرل راحیل شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام عباسی نے وزیراعظم سے ملاقات کے دوران اور دوسری مرتبہ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل راشد کی سربراہی میں مسلح افواج کے سربراہان کے اجلاس کے دوران۔ یہ یقین دہانیاں فوج کی طرف سے حکومت کے ساتھ وفاداری کے اظہار سے زیادہ تشویش کا سامان لئے ہوئے ہیں۔ فوج حکومت کے ماتحت ، ریاست کا وفادارادارہ ہے۔ اسے حکومت کا ساتھ دینے کا یقین کیوں دلانا پڑا؟ پی این اے کی تحریک کے عروج کے موقع پر جنرل محمد ضیاءالحق نے دل پر ہاتھ رکھ کر وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو وفاداری کا یقین دلایا اور چند دن کے بعد بھٹو صاحب کو” حفاظتی حراست“ میں لے لیا گیا۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے سیاسی حکومت نے تمام حدیں عبور کر لی ہیں۔ مذاکرات کے لئے صرف مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی ہی نہیں طالبان بھی ایک پیج پر ہیں۔ سب ایک بولی بولتے ہیں۔ لگتا ہے کہ یہ فوج کے ساتھ صف آرا ہیں۔ طالبان کمیٹی حکومت کی اور حکمران طالبان کی ترجمانی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وزیر داخلہ چودھری نثار نے اپنی وزارت کی رپورٹ کو حقارت سے مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد میں القاعدہ، طالبان اور لشکر جھنگوی کے سلیپر سیل ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد کو محفوظ قرار دیا تھا اس کے چند دن بعد اسلام آباد کچہری میں دہشت گردی کی بھیانک واردات ہو گئی۔ اس کی تحقیقات کے دوران چودھری نثار کا بیان آ گیا کہ مقتول جج رفاقت اعوان ان کے محافظ کی گولیوں سے جاں بحق ہوئے۔ دہشت گرد تو کمرے میں گئے ہی نہیں۔ چودھری نثار کا یہ بیان بے بنیاد ثابت ہوا۔ وزیر داخلہ کو طالبان کمیٹی نے فوج کے زیر حراست 300 خواتین، عمر رسیدہ افراد اور بچوں کی لسٹ دے دی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کہتے ہیں کہ فوج کے پاس ایساکوئی قیدی نہیں البتہ فوج کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس کے پاس تین سو میں سے 82 قیدی ہیں ان میں خواتین اور بچے نہیں۔ قیدیوں کی عمریں 15 سال سے زائد ہیں۔ ان پر دہشت گردی کے سنگین مقدمات ہیں رہائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم نے فوجی قیادت، وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ حکام کا اجلاس بلا رکھا تھا جو پانچ گھنٹے جاری رہا۔ فوج کی طرف سے پھر کہا گیایا کہلوایاکہ حکومت جو کہے گی اس پر عمل کریں گے۔صرف یہ کہنے کے لیے پانچ گھنٹے کی بیٹھک کی ضرورت نہیں تھی۔ مولانا سمیع الحق یہاں حکومت کی ترجمانی کرتے دکھائی دئیے کہ وزیراعظم نے خواتین اور بچوں کی رہائی کا وعدہ کیا ہے۔ قیوم نظامی صاحب کا تجزیہ درست معلوم ہوتا ہے کہ فوج کو سویلین کے قاتلوں کی رہائی پر اعتراض نہیں ہو گا لیکن وہ فوجیوں کے کسی قاتل کو نہیں چھوڑے گی۔ ۔۔شاید کچھ لوگ اس کے باوجود بھی فوج کی طاقت سے نابلد ہیں کہ فوجی ہسپتال میں داخل جنرل پرویز مشرف حکومت کی کوشش اور عدلیہ کے اصرارپربھی خصوصی عدالت میں پیش نہیں ہوئے ۔سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کو پیش کرنے کے لیے 36سماعتیں ہوچکی ہیں لیکن فوج کی طرف سے عدلیہ کی منشا کے مطابق لاپتہ افراد پیش نہ کئے گئے۔گزشتہ دنوں جج حضرات اشتعال میں دکھائی دیئے ۔فرمایا کہ لاپتہ افراد پیش نہ کئے تو وزیراعظم ،وزیرِاعلیٰ اور گورنر کے پی کے کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کریں گے ۔ اس کے باوجود بھی لاپتہ افراد غائب ہی رہے البتہ پیش رفت یہ ہوئی کہ وزیر دفاع کی مدعیت میں ایک نائب صوبیدار پر ایف آئی آر درج کرادی گئی ۔اس پر عدلیہ مطمئن اور وزیر اعظم توہینِ عدالت سے بچ گئے۔لوگوں کو غائب کرنے کا کارنامہ کیاایک صوبیدارانجام دے سکتاہے؟۔اللہ رکھا پر ایف آئی آر درج ہوگئی فوج اس کا یقینا تحفظ کرے گی ،اسے پولیس کے حوالے ایسے ہی کیاجائے گا جیسے لاپتہ افراد کوعدالتوں میں پیش کیاگیا۔
حکومت مذاکرات کے ذریعے شاید شدت پسندوں کو شام اور ایران کا راستہ دکھانا چاہتی ہے جس کے عوض مبینہ طور پر ڈیڑھ ارب ڈالر کا تحفہ ایڈوانس میں وصول کر لیا ہے۔ شدت پسند شام اور ایران کا رخ کرتے ہیں یا نہیں ،یہ چین کے صوبہ سنکیانگ میں سرگرم ہو کر چین کو بھی پاکستان سے دور کرسکتے ہیں۔ الطاف حسین نے ایک بار پھر فوج کو اکسایا ہے اسے شام کے خلاف لڑنے کو کہا جائے تو وہ انکار کر دے۔ شام کے خلاف لڑنے کے لئے فوج کی نہیں شدت پسندوں کی ضرورت ہے جو عرب ممالک فراہم کررہے ۔ ان کی تربیت کے لئے ریٹائرڈ فوجی اور اسلحہ چاہئے۔ اس کے لئے فوج کی خدمات کی ضرورت نہیں، مزید ڈیڑھ ارب کا تحفہ وصول کرنے کی امید رکھنے والے اس کا بندوبست کر دیں گے لیکن اس کی قیمت صرف اور صرف پاکستان کو چکانا پڑے گی۔ پاکستان نے افغانستان میں روس کے خلاف لڑنے والوں کی تربیت کی تو وہاں سے فارغ ہو کر انہوں نے پاکستان ہی کو اپنی تجربہ گاہ بنا لیا۔ مزید تربیتی تجربہ شام و ایران کے بعد پاکستان میں استعمال ہو گا۔ ہم ایسے تجربات در تجربات کے متحمل نہیںہو سکتے۔حکمرانوں کی عقل پر بلا شبہ ڈالروں کا پردہ پڑ چکا ہے۔وہ ایسے لوگوں سے مذاکرات کا لاحاصل سعی کررہے ہیں جن کو فوج پانچ ہزار سپاہ کا قاتل کہتی ہے،شام میں مداخلت کے لیے تُلے ہوئے ہیں ۔شاید انہوں نے قومی مفاد اور ڈالروں میں سے آخرالذکر کااپنے شرست کے مطابق انتخاب کر لیا ہے ۔