ملکہ ہانس میں پولیس گردی کی انتہا …… آٹھ سالہ بچے کو ہتھکڑی لگا کر گھماتی رہی

25 مارچ 2014
ملکہ ہانس میں پولیس گردی کی انتہا …… آٹھ سالہ بچے کو ہتھکڑی لگا کر گھماتی رہی

آٹھ سا ل کا معصوم بچہ ہتھکڑیوں میں جکڑا پنجاب کی دھرتی کے مان سید وارث شاہ کے ملکہ ہانس میں پولیس کی گردی کا نشانہ بنا ہمارے معاشرے اور حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ پولیس کے لئے رات دن مراعات میں اضافہ کے خواہش مند وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی نظر سے روزنامہ نوائے وقت لاہور میں مورخہ 27/2/14 کو شا ئع ہو نے والی خبر شاید ان کی نظر سے گزری ہو لیکن بدقسمتی یہ ہوا کہ پولیس کے اس ظالمانہ بہیمانہ اور سفاک اقدام کے خلاف نہ تو وزیر اعلیٰ پنجاب حرکت میں آئے اور نہ ہی آئی جی پنجاب خان بیگ کو یہ توفیق ہوئی کہ وہ اس ظلم کا نوٹس لیتے۔ ضلع پاکپتن کے قصبہ ملکہ ہانس میں رونما  ہونے والا یہ واقع ہمارے معاشر ے میں پائی جانے والی منافقت اور پولیس کی اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کی ایک بھیانک مثال ہے۔  8 سال کے بچے راشد نے جرم کیا یا نہیں کیا قطع  نظر اس کے لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ پولیس نے اس کیس میں صرف اس معصوم بچے کو اپنے ظلم کا نشا نہ بنایا ہے۔ پولیس کے مطابق بچے سے مال مسروقہ برآمد ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پولیس کو مال مسروقہ ایک کباڑئیے کی دکان سے برآمد ہوا جس کو پولیس کے شیر جوانوں نے پیسے لیکر حراست میں لینے کے کچھ دیر بعد چھوڑ دیا اور معصوم بچے کو زند گی بھر کے لئے نشان عبرت بنا دیا۔ اس کا مستقبل تباہ کر دیا۔ ضلع پاکپتن کے قصبہ ملکہ ہانس میں 26/2/14 کو پولیس کے اے ایس آئی احسان نے محلہ ریت پورہ کے محنت کش مختیار کے آٹھ سا لہ معصوم بیٹے راشد کو حراست میں لیکر اسے تشدد کا نشانہ بنا کر اس کے ہا تھوں میں ہتھکڑیاں لگا کر اسے اپنے ساتھ لئے پھرتا رہا۔ پولیس نے بچے کی نشا ندہی پر کباڑئیے کی دکان سے چند کلو مسروقہ لوہا برآمد کر کے کباڑئیے کو حراست میں لے لیا اور کچھ دیر بعد ہی کباڑئیے سے پیسے لینے کے بعد اسے چھوڑ دیا۔ ایس ایچ او اور اے ایس آئی کو خدا کا خوف نہ آیا کہ وہ 8 سالہ معصوم بچے کو مجرم بناتے ہوئے عدالت میں جسمانی ریمانڈ کے لئے پیش کر رہے ہیں۔ علا قہ مجسٹر یٹ (سول جج) مظہر فرید نے پولیس کو بچہ ریمانڈ پر دینے کی بجائے اس کی ضمانت لیکر بچے کو رہا کر دیا۔  یہ امر قا بل ذکر ہے کہ پولیس تھانہ ملکہ ہانس نے کوئی نئے درج مقدمہ میں 8 سا لہ بچے کو گرفتار نہیں کیا بلکہ تھانہ میں پہلے سے درج مقد مہ میں گرفتار کر کے جو مال مسروقہ برآمد کیا اس کا بھی 411 دفعہ کے تحت مقد مہ درج نہیں کیا۔کیو نکہ نئے درج ہونے وا لے مقدمہ میں مال مسروقہ کی برآمد کا ذکر ہوتا ہے جس سے مال مسروقہ برآمد ہوا تھا پولیس اس کو تو پہلے ہی پیسے لیکر چھوڑ چکی تھی اس کا اس مقدمہ میں کہیں بھی ذکر نہیں کیا گیا۔  ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر پاکپتن شاہنواز سندھیلہ نے  نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ راشد کی عمر آٹھ سا ل نہیں بلکہ وہ 14/15 سال کا ہے۔ اس کو پولیس نے ہتھکڑیاں لگا کر گلیوں میں نہیں پھرایا بلکہ راشد کی نشاندہی پر مال مسروقہ کی برآمد گی کے لئے پولیس اسے اپنے ہمراہ لے گئی تھی۔ اس کے باوجود اس واقعہ کی تحقیق کی جا رہی ہے۔ سابق صدر بار ایسوسی ایشن ریاض ارشد خاں نیازی ایڈووکیٹ نے پولیس گردی کا شکار ہونے والے بچہ کے واقعہ کی شدید مذمت کر تے ہو ئے کہا کہ پولیس اختیار کے نشہ میں شتر بے مہار ہو چکی ہے۔ وہ اپنا خوف رعب دبدہ قائم رکھنے کے لئے قانون کو پامال کرنے سے پہلے ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں سوچتی جب قانون کے محافظ ہی اسے روند دیں گے تو قانون پر عمل درآمد کون کروائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایچ او تھانہ ملکہ ہانس ایک سب انسپکٹر  راجہ اشفاق کو لگایا گیا ہے جو پولیس آرڈر 2002ء کی خلاف ورزی ہے۔  قانون کے مطابق کسی سب انسپکٹر کو تھانہ کا ایس ایچ او نہیں لگایا جا سکتا۔ جب ماورائے قانون تعیناتیاں کی جائیں گی تو اس طرح کے قا نون شکنی کے واقعات رونما ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ انہوں نے اس واقعہ کا سپریم کورٹ سے سوموٹو  نو ٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
آئی جی پنجاب خان بیگ کی پالیسی گڈگورنس  پولیس کی اخلا قی تربیت اور پولیس تشدد کے بارے پنجاب بھر سے سرٹیفکیٹ حاصل کر نے کی اخباروں کی خبروں تک محدود نہیں ہونی چاہئیے بلکہ یہ پالیسی عملی طور پر نافذ ہونی چاہیئے۔ پولیس کی اخلاقی تربیت ہونا بہت ضروری ہے اس کے لئے ماہرین نفسیات کی خدمات حاصل کرکے پولیس ملازمین کی ذہنی تربیت کر کے ان کو یہ باور کروایا جائے کہ وہ عوام کے جان و مال کے حاکم نہیں بلکہ ان کے محافظ ہیں تاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ حکومت میں آنے سے قبل تمام قائدین پولیس کے فرسودہ نظام کی تبدیلی کی باتیں کر تے ہیں  لیکن بدقسمتی سے جب ان کے پاس اقتدار ہوتا ہے تو وہ اپنی کہی ہوئی باتیں بھول جاتا ہے  اور اس فرسودہ نظام کو تبدیل کر نے کے لئے کچھ نہیں کرتا یہی ہمارا قومی المیہ ہے۔

روحانی شادی....

شادی کام ہی روحانی ہے لیکن چھپن چھپائی نے اسے بدنامی بنا دیا ہے۔ مرد جب چاہے ...