آخری آرام گاہ میں چاردیواری کی تعمیر

25 مارچ 2014
آخری آرام گاہ میں چاردیواری کی تعمیر

 قبر ہر مسلمان کیلئے اس جہان فانی سے اس کے کوچ کے بعد ایک ایسی منزل ہے جس تک پہنچ کر اس کا جسد خاکی دنیا میں اس کے پیاروں کی نظروں سے مکمل طورپراوجھل ہوجاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں انسانی آبادی موجود ہے وہاں قبریں اسی لئے بنائی گئی ہیں کہ  اموات کے بعد انہیں زمین میں دفن کیاجاتاہے اور اکثر معاشروں میں قبروں کوکسی بھی جگہ دفن کرنے کے بجائے انہیں انسانوں کی تدفین کیلئے مخصوص قطعات اراضی میں دفن کیاجاتاہے اور یہ قطعات اراضی قبرستان کہلاتے ہیں۔
 19ویںصدی کے آخری سالوں میں لائلپور شہر کی چک بندی کے مراحل میں اچانک اللہ کو پیار ے ہوجانے والے اس شخص کو دفن کرنے کیلئے قبرستان کیلئے مخصو ص ہونے والے رقبے کی نشاندہی چاہی۔ اس وقت چونکہ قبرستان کے رقبے کی مکمل نشاندہی نہیں ہوئی تھی لہٰذا انتظامیہ موجودہ بڑا قبرستان کے قریب ایک جگہ مرنے والے کی تدفین کی ہدایت کردی۔ یہ قبر اب زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی بڑا قبرستان سے متصل گلفشاں کالونی کی کوٹھی نمبر2کے لان میں واقع ہے اور اس سرکاری کوٹھی میں اقامت پذیر رہنے والوں میں بہت سے نامی گرامی پروفیسر اپنی رہائشی کے دور میں اس قبر میں آسودہ خاک و ہستی کیلئے اس کی مغرفت اور اس کی نیکیوں کے طفیل اپنے لئے دنیا وآخرت میں کامیابیاں طلب کرتے رہے ہیں۔ اس بنگلہ نما گھر میں سرکاری ملازمت کے دوران رہائش رکھنے والوںمیں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماضی کے ایک وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیق خان کا نام بھی شامل ہے۔ وہ ابھی حیات ہیں اور اب پیپلزکالونی میں اپنے ذاتی گھر میں رہتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر محمدزبیرصدیقی خود تو دس پندرہ سال پہلے زرعی یونیورسٹی سے ریٹائر ہوگئے تھے۔ اب ان کے داماد ‘ یونیورسٹی کے شعبہ ایگری انٹومالوجی کے نامور استاد پروفیسر ڈاکٹر وسیم اکرم اس کوٹھی کے مکین ہیں‘ بڑا قبرستان ‘ ساندل بار کی اس دھرتی کے ابتدائی آبادکاروں میں سے سب سے پہلے اس دھرتی پر پہنچ کروفات پانے آسودہ خاک ہونے والے شخص کی قبر سے صرف چند ایکڑ کے فاصلے پر ہے ۔بڑاقبرستان کی چار دیواری بھی بنی ہوئی ہے اور اس کے صدر دروازے کے ساتھ ایک وسیع اور بڑی جنازہ گاہ بھی تعمیرشدہ ہے۔قبرستان نورشاہ ولی کی چار دیواری بھی بنی ہوئی ہے اور قبرستان جھنگ روڈ کے ساتھ بھی جنازہ گاہ تعمیر شدہ ہے اور اس شہر کے اس تیسرے بڑے قبرستان کی چار دیواری بھی بنی ہوئی ہے تاہم فیصل آباد شہر سمیت اس کے اکثر قصبوں کے قبرستانوں کی نہ تو چار دیواری اور نہ ہی ا ن کے ساتھ جنازہ گاہیں تعمیر شدہ ہیں۔ موجودہ صوبائی حکومت نے اپنے گزشتہ دور میں صوبے بھرمیں قبرستانوں کی چار دیواریاں تعمیر کرانے کیلئے ایک کمیٹی بنانی تھی‘ اس وقت رکن قومی اسمبلی انجینئر رانا محمدافضل خاں جو اس وقت پنجاب اسمبلی کے رکن تھے ۔ انہیں اس کمیٹی کا سربراہ بنا یاگیاتھا اور قبرستانوں کی چار دیواریاں تعمیرکرنے کیلئے اس زمانے میں پچاس کروڑ کی رقم مختص کی گئی تھی۔ا ب معلوم نہیں کہ پچھلی حکومت کی طرف سے قبرستانوں کی چار دیواریوں کی تعمیر کیلئے مخصوص فنڈز کاکیا ہوا۔کم ازکم فیصل آباد شہر میں گزشتہ دور میں کوئی کا م نہیں ہوا تھا اور غالباً گزشتہ دور میں صوبہ بھر میں قبرستانوں کی چار دیواریاںتعمیر کرنے کیلے جو 50کروڑ روپے مختص ہوئے تھے ۔ قبرستانوں کی چار دیواریوں کی تعمیر کیلئے رکن قومی اسمبلی رانا محمد افضل خاں کی کوششوں سے اس میں سے دس کروڑ روپے کی رقم فیصل آباد کے بعض قبرستانوں کی چار دیواریاں اور ان قبرستانوں میں جناز ہ گاہوں کی تعمیر کیلئے مختص ہوگئی تھی جس کے متعلق گزشتہ دنوں ڈی سی او نور الامین مینگل نے گزشتہ دنوں فیصل آباد میں ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت کے حوالے سے گزشتہ دنوں انکشاف کیا ہے کہ حکومت پنجاب کی ہدایت پر ضلع فیصل آباد میں7کروڑ 27لاکھ روپے کے فنڈز سے قبرستانوں کی چار دیواریوں اور جنازہ گاہوں کی تعمیر یا بحالی کی43 سکیموں میں سے39 سکیمیں مکمل ہوگئی ہیں جبکہ باقی چار سکیموں پر نہایت تیزی سے تعمیراتی کام ہورہاہے۔ایک اچھی پیشرفت یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور نجی شعبے کے اشتراک سے ستیانہ روڈ خانوآنہ بائی پاس کے قریب 24ایکڑ رقبہ پرماڈل قبرستان کی سہولت فراہم کردی گئی ہے جس کے تعمیراتی کاموں کیلئے3کروڑ روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔ تعمیر کی تمام ذمہ داری ممتاز صنعتکار میاں محمد ادریس نے اٹھا لی ہے جبکہ اس قبرستان کا سنگ بنیاد ڈویژنل کمشنر کے ہاتھوںرکھا گیا ۔ ستارہ گروپ کے میاں محمد ادریس اورمیاںمحمداقبال کے علاوہ صدر چیمبرآف کامرس انجینئر سہیل بن رشید اس تقریب میں موجود تھے۔ڈی سی او نور الامین کے مطابق 20کروڑ روپے کی لاگت سے ضلع جبکہ 82 ترقیاتی منصوبوں پر مزید کام جاری ہے۔ ان 82 ترقیاتی کاموں کی تفصیل کا یہ محل نہیں ہے کہ اس وقت موضوع زیر بحث یہ ہے کہ قبرستانوں کی چار دیواریاں تعمیر کرنے کے علاوہ ہرقبرستان کے ساتھ جنازہ گاہ تعمیر ہونی چاہئے۔
 جنازہ مسجد سے متصل خالی جگہ میں پڑھایاجاتاہے اور نماز جنازہ پڑھنے والے ‘مساجد کی صفوںپر بھی کھڑے ہو کر اس میں شرکت کرلیتے ہیں لیکن احسن طریقہ یہی ہے کہ ہر قبرستان کے ساتھ جنازہ گاہ تعمیرشدہ ہو ۔ فی زمانہ ہم کئی کئی لاکھ روپے بلکہ کروڑوں روپے کی کوٹھیوں اور بنگلوں میںرہتے ہیں جبکہ جب ہم اس جہان فانی سے رخصت ہوتے ہیں تو نہ تو قبرستانوںمیں ہمیں دو گز زمین کی مٹی آسانی سے میسر آتی ہے اور نہ ہی لواحقین کو نماز جنازہ پڑھانے کیلئے کوئی مناسب جگہ‘ کوئی جنازہ گاہ آسانی سے ملتی ہے لہٰذا ہم سب کا فرض ہے کہ ہم زندگی میں ‘آبادیوں اور رہائشی کالونیوں کے ساتھ قبرستان بنانے اور ہر قبرستان کے ساتھ جنازہ گاہ کی تعمیر کرنے اور کرانے میں اپنا کردار اداکریں۔ قبرستانوںکی چاردیواریاں تعمیرکرنا اور انکے ساتھ جنازہ گاہوں کی تعمیر کار ثواب سمجھا جاتاہے اور ہمارے مخیر حضرات اس کیلئے دامے‘ درے ‘ سخنے اپنا حصہ ادا کرنے میں زیادہ لیت و لعل سے کام نہیں لیتے۔ اکثر دیہات تک میں قبرستانوں کی چار دیواریاں اور جنازہ گاہیں تعمیر شدہ ہیں اور جن دیہات کے قبرستانوں کی چار دیواریاں تعمیر نہیں ہیں ان کے عوامی نمائندوں ‘ ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور بلدیاتی اداروں کے ارکان کو ان کی تعمیر کے سلسلہ میں حکومت پنجاب سے مالی امداد طلب کرنے کے ساتھ ساتھ ان دیہات کے رہنے والوں کو چندہ سے یہ رقوم جمع کرنے کوکہناچاہئے۔فیصل آباد میں جس سرعت سے آبادی بڑھ رہی ہے‘ اس سے کہیں زیادہ تیزی سے رہائشی کالونیاں ہورہی ہیں لیکن بہت کم پرائیویٹ رہائشی سکیموں کے مالکان ‘ اپنی ڈویلپ کی جانے والی کالونیوں میں قبرستان کیلئے جگہ مخصوص کرتے ہیں حتی کہ سرکاری طورپر ڈویلپ ہونے والی ملت ٹائون جیسی بڑی رہائشی کالونی کیلئے بھی قریبی گائوں کے ایک صدی پہلے کے قبرستان کے علاوہ مرنے والوںکی تدفین کیلئے کوئی جگہ مخصوص نہیں کی گئی۔ ایف ڈی اے اور دیگر انتظامیہ کو اس امر کا خصوصی اہتمام کرنا چاہئے کہ وہ کسی رہائشی کالونی کو ڈویلپ کرنے کی اس وقت تک منظور نہ دیں جب تک اس رہائشی سکیم کے رقبے کی مناسبت سے وہ اس میں قبرستان کے لئے جگہ مختص کرنے بلکہ وہاں چار دیواری اورجنازہ گاہ تک تعمیر کرنے کی ہدایت کی جانی چاہئے۔ ہماری ضلعی انتظامیوں کو قبرستانوں کاتقدس بھی قائم رکھناچاہئے۔ قبرستان میں نہ تو نشہ کرنے والوں کے ڈیرے لگنے چاہئیں اور نہ ہی قبرستان جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ بننا چاہئے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ ضلعی اور ٹائون انتظامیہ سمیت بلدیاتی اداروں کے عہدیداران اس امر کویقینی بنائیں کہ ان کے علاقوں میں موجود قبرستانوں کی حفاظت اور چوکیداری کاکوئی نہ کوئی اہتمام ضرور ہو۔توقع رکھنی چاہئے کہ صوبائی حکومت بھی قبرستانوں کی چار دیواریاں اور جنازہ گاہیں تعمیر کرانے کو فلاح وبہبود کے ترقیاتی کاموں کے طورپر جاری رکھے گی۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...