متحدہ کا سنی اتھاد کونسل پر پختون کارڈ کھیلنے کا الزام

پیر کے روز ایوان زیریں کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مصطفٰی شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا، اجلاس شروع ہوا تو ایوان میں 35 اراکین اسمبلی موجود تھے جبکہ وفاقی کابینہ کے بھی دو ہی وزیر ایوان میں براجمان تھے۔ گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں بھی آئندہ سال کے بجٹ پر بحث جاری رہی۔ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے بھی بجٹ میں ٹیکسیشن پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ سنی اتحاد کونسل کے رکن ثناء اللہ مستی خیل کی جانب سے خواتین کے سامنے غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے اور پارلیمان کے تقدس کا خیال نہ رکھنے پر سخت افسوس کا اظہار کیا اور اس کی مذمت بھی اراکین نے سوات میں ہونے والے واقعہ کی بھی بھرپور الفاظ میں مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات اٹھائے پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شاہدہ رحمانی کی جانب سے وفاق کے بجٹ میں کراچی کے منصوبوں کو نظر انداز کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ایم این اے میر غلام علی تالپور نے زرعی شعبہ پر ٹیکس نہ لگانے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کی 2021ء کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ٹیکس عائد کرنے والی سیاسی جماعتوں کا ووٹ بنک 7 فیصد تک کم ہو سکتا ہے ۔ متحدہ کے اقبال محمد خان نے سنی اتحاد کونسل کے اسد قیصر پر الزام عائد کیا کہ وہ سکیورٹی کے معاملات پر بھی پختون کارڈ کھیل رہے ہیں جس پر اسد قیصر نے وضاحت کی کہ ایسا نہیں ہے ہم کہتے ہیں یہ فیصلے پارلیمنٹ کے ذریعے ہوں۔ شیخ آفتاب تقریرکے لیے اپنی نشست پر کھڑے ہوئے تو سنی اتحاد کے ایک رکن نے ان کے سامنے ایک پوسٹر لہرانا شروع کر دیا جس پر ان کے اور میجر طاہر صادق کے ووٹ درج تھے جس پر شیخ آفتاب نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اس حلقے سے 7 بار الیکشن جیت چکا ہوںکوئی آداب سیکھ لیں۔ رکن قومی اسمبلی عثمان بادینی نے ڈسٹرکٹ رخشان کی محرومیوں کا رونا رویا تو پی پی کے عبدالقادر گیلانی نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے تین ڈویثرن ہیں جن کی 36 سو سکیمیں ہیں ان میں سے 3ہزار سے زائد ترقیاتی سکیمیں لاہور کی رکھ لی گئی ہیں۔ سحرکامران نے کہاکہ بجٹ آئی ایم ایف کی وش لسٹ ہے۔ شیخ وقاص اکر م نے کہا کہ یہ عوام دشمن بجٹ ہے جس نے تنخواہ دار طبقے کو برباد کر دیا ہے۔ ایم این اے غلام علی نے بھی بجٹ سے آنے والی مہنگائی اور بیروزگاری جیسے مسائل پر روشنی ڈالی، ایوان کا اجلاس ابھی جاری تھا کہ ڈپٹی سپیکر نے کارروائی آج تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔   
پارلیمانی ڈائری 
۔۔۔۔

ای پیپر دی نیشن