بیت اللہ

’’کعبہ وہ مقام ہے جو مسلمان عرفاء کے خیال کے مطابق عرشِ الہٰی کا سایہ ہے، اور اس کی رحمتوں اور برکتوں کا سِمتُ القدم ہے۔وہ ازل سے اس دنیا میں خدا کا معبد اور خداپرستی کا مرکز تھا، سب سے بڑے بڑے پیغمبر وں نے اسکی زیارت کی اور بیت القدس سے پہلے اپنی عبادتوں کی سمت اس کو قرار دیا کہ’’ اَوَّلَ بیتٍ وُّ ضِعُ للناس (آل عمران) سب سے پہلا خدا کا گھر جو لوگوں کیلئے بنایا گیا‘‘۔وہ وہی تھا، لیکن حضرت ابراہیم سے بہت پہلے دنیا نے اپنی گمرائیوں میں اس کو بھلا کر بے نشان کردیاتھا۔ حضرت ابر اہیم کے وجود سے جب اللہ تعالیٰ نے اس ظلمت کدہ میں توحید کا چراغ پھر روشن کیا، توحکم ہوا کہ اس گھر کی چار دیواری بلند کرکے دنیا میں توحید کا پتھر پھر نصب کیا جائے۔ چنانچہ قرآن پاک کے بیان کے مطابق (حج ۳،۴)کعبہ حضرت ابراہیم کے زمانے میں البیت العتیق (پرانا گھر ) تھا کوئی نیا گھر نہ تھا۔حضرت ابراہیمؑ اورحضرت اسمعیل ؑ نے مل کر اس گھر کی پرانی بنیادوں کو ڈھونڈ کر نئے سرے سے ان پر چار دیواری کھڑی کی اور فرمایا : ’’اذیرفَعْ ابراہیم القو اعد فی البنیا من البیت‘‘ ابراہیم جب اس گھر کی بنیادیں اٹھا رہے تھے، اس سے معلوم ہواکہ بنیاد پہلے سے پڑی تھی۔ حضرت ابراہیمؑ اورحضرت اسمعیلؑ نے اس افتادہ بنیاد کو از سرنو بلند کیا‘‘۔(سیرت النبی جلد ۵ ) اب رہا یہ معاملہ کہ پہلی تعمیر کس نے اور کس وقت کی، اس میں کوئی صحیح اور قوی روایت حدیث کی منقول نہیں ،اہل کتاب کی روایات ہیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ سب سے پہلے اس کی تعمیر آدم علیہ السلام کے اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی فرشتوں نے کی تھی پھر آدم علیہ السلام نے اسکی تجدید فرمائی۔ یہ تعمیر طوفان نوح تک باقی رہی ،طوفانِ نوح میں منہدم ہوجانے کے بعد سے ابراہیم علیہ السلام کے زمانے تک یہ ایک ٹیلہ کی صورت میں باقی رہی ۔ حضرت ابراہیم واسمعیل علیہماالسلام نے ازسر نو تعمیر فرمائی اسکے بعد اس تعمیر میں شکست وریخت تو ہمیشہ ہوتی رہی ۔ آنحضرت ﷺ کے بعثت سے قبل قریش مکہ نے اس کو منہدم کرکے ازسر نو تعمیر کیا جس کی تعمیر میں آنحضرت ﷺنے بھی خاص شرکت فرمائی ۔ (معارف القرآن ) شیخ الشیوخ حضرت شہاب الدین سہروردی ؒ نے عوارف المعارف میں لکھا ہے۔’’جب اللہ تعالیٰ نے پانی پر (فرش زمین ) بچھانے کا ارادہ فرمایا تو جس مقام پر آج بیت اللہ شریف ہے ،وہاں سے ایک جھاگ نمودار ہوئی اور اس نے ٹھوس شکل اختیار کرلی ۔یہ زمین کی تخلیق کا آغاز ہے اس ابتدائی مادہ زمین کو ’’ام الخلیقہ ‘‘ کہتے ہیں ۔ اسی سے ایک ٹکڑا بہتا ہوا اس جگہ پر قرار پذیر ہوگیا۔ جہاں سرکار ابد قرار صلی اللہ علیہ وسلم کی آرام گاہ ہے۔ اس لیے مکہ ’’ام القری ‘‘ ہے اور باقی زمین کا سلسلہ تخلیق یہیں سے شروع ہوا،اور یہی وہ مقام ہے جہاں فرشتوں نے سب سے پہلے اللہ رب العز ت کا گھر تعمیر کیا۔

ای پیپر دی نیشن