ہیلری سے ملاقات میں سٹرٹیجک مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق‘ یکطرفہ نہیں دو طرفہ تعلقات چاہتے ہیں : وزیر خارجہ

25 جولائی 2011
لاہور (خبرنگار خصوصی+ وقت نیوز+ ریڈیو نیوز) وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاکستان خود مختار ملک ہے، اس پر آنچ نہیں آنے دینگے، خطے میں امریکہ، بھارت سمیت کسی ملک کی بالادستی برداشت نہیں کرینگے، امریکہ سے تعلقات قومی مفاد میں ہیں، امریکہ سے یکطرفہ نہیں دوطرفہ تعلقات چاہتے ہیں، ہلیری کلنٹن سے ملاقات میں بتا دیا کہ ”ون وے“ ٹریفک نہیں چلے گی۔ امریکہ بھارت کے ساتھ پاکستان کے کردار کو بھی تسلیم کرتا ہے، خطے میں پاکستان کا کردار اہم ہے‘ کوئی بھی ہمیں نظرانداز نہیں کر سکتا ، ہم پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں، مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا مو¿قف واضح ہے‘ ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر پر بات آگے بڑھے لیکن راتوں رات تبدیلی نہیں آسکتی۔ بھارت کے ساتھ مسائل ایک رات میں ختم نہیں ہو سکتے، بات چیت اور اعتماد سازی کا عمل آگے بڑھانا ہو گا، انہوں نے کہاکہ میڈم ہلیری کلنٹن سے 45 منٹ کی ملاقات میں پاکستان امریکہ سٹریٹجک ڈائیلاگ شروع کرنے اور تعلقات معمول پر لانے پر اتفاق ہوا ہے۔ ہمارا سب سے بڑا ہدف اپنے لوگوں کے لئے امن واستحکام ہے۔ انڈونیشیا میں آسیان کی علاقائی امن کانفرنس میں شرکت سے واپسی پر لاہور ائیر پورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دورہ انڈونیشیا کے دوران چین کے وزیر خارجہ سے ملاقات مثبت اور مفید رہی ہے‘ ہمارے چین کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں، وہ ہمارا سٹریٹجک پارٹنر اور قابل اعتماد دوست ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اہم ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ ہماری ورکنگ ریلیشن شپ رہے۔ ہلیری کلنٹن کے ساتھ ملاقات مفید رہی‘ امریکہ چاہتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سٹریٹجک مذاکرات شروع کئے جائیں‘ تعلقات کو ٹریک پر لایا جائے، میں نے ہلیری کلنٹن کو پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔ اختلاف رائے کو دور کرنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ مل بیٹھ کر معاملات کا حل نکالا جائے‘ ہلیری کلنٹن تفصیلی ملاقات چاہتی ہیں اور ملاقات جلد ہو گی۔ کسی کا کردار چاہنے یا ہونے میں فرق ہوتا ہے، خطے میں پاکستان کا کردار سب سے اہم ہے، جسے امریکہ بھی تسلیم کرتا ہے، پاکستان کی سٹریٹجک اہمیت پر امریکہ، بھارت اور چین سمیت کسی کو شک نہیں۔ اپنی خودمختاری اور خطے میں سٹریٹجک اہمیت برقرار رکھیں گے، ہم بھارت سمیت تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور پرامن طریقے سے رہنا چاہتے ہیں‘ ہم عوام کی ترقی چاہتے ہیں، ہم خطے میں امن واستحکام کے علمبردار ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں ڈھکی چھپی نہیں، کسی اور کو کریڈٹ لینے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرغلام نبی فائی کشمیری شہری ہیں جنہوں نے کشمیر کاز کیلئے اچھا اور ایک سسٹم کے تحت کام کیا ہے جسے ہم سراہتے ہیں، میری آستانہ میں ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ انہوں نے کہاکہ بھارت سے مذاکرات میں مسئلہ کشمیر سرفہرست ہو گا، کشمیریوں کو ہم تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ امریکہ کی جانب سے خطے میں بھارت کو قائدانہ کردار ادا کرنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ کسی ملک کا کیا کردار ہونا چاہئے یہ الگ بات ہے مگر پاکستان کی اس حوالے سے پوزیشن بالکل واضح ہے کہ امریکہ یا بھارت سمیت کسی کی بالادستی قبول نہیں کرینگے۔ وزیراعظم گیلانی کا واضح مﺅقف آ چکا ہے امریکہ سے بعض معاملات میں اختلافات پائے جاتے ہیں مگر اس کا واحد حل مذاکرات ہیں۔ دریں اثناءپاکستان اور بھارت کے درمےان ہونےو الے وزراءخارجہ مذاکرات سے قبل وزےرخارجہ حنا ربانی کھرمقبوضہ کشمےر کے حرےت کانفرنس کے رہنما¶ں سے ملاقاتےں کرےں گی، سفارتی ذرائع کے مطابق بھارت مےں پاکستانی ہائی کمشنر شاہد ملک نے کل جماعتی حرےت کانفرنس کے چےئرمےن مےرواعظ عمر فاروق، کشمےری حرےت رہنما سےد علی گےلانی، ےاسےن ملک سمےت دےگر کو نئی دہلی مےں وزےرخارجہ حنا ربانی کھر سے ملاقاتوں کےلئے باضابطہ طور پر مدعو کےا ہے جو آئندہ ایک سے دو روز مےں بھارت پہنچےں گے جہاں ان کی ملاقات حنا ربانی کھر سے ہوگی، مذاکرات سے قبل ان ملاقاتوں کا مقصد مسئلہ کشمےر کے حوالے سے حرےت رہنما¶ں کو اعتماد مےں لےنا ہے تاکہ مسئلہ کشمےر کے حل کو بامقصد طرےقے سے آگے بڑھاےا جا سکے۔
حنا ربانی کھر