ناروے میں سوگ ....حملے وحشیانہ مگر ضروری تھے‘ اسلام مخالف آندرے بیرنگ نے ذمہ داری قبول کر لی

25 جولائی 2011
اوسلو (نیوز ایجنسیاں) ناروے مےں بم دھماکے اور فائرنگ کرنےوالے اسلام مخالف عیسائی شدت پسند آندرے بیرنگ بریوک نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اپنے فعل پر کوئی ندامت نہیں، حملے وحشیانہ تھے مگر کرنا ضروری تھے، یہ مجرمانہ فعل نہیں ۔ ملزم کےخلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اسے آج عدالت مےں پیش کیا جائےگا۔ نارویجن پولیس کے مطابق دہشت گرد آندرے نے حملوں سے قبل انٹرنیٹ پر 1500صفحات پر مشتمل مسودہ شائع کیا اور اس مےں کہا کہ یورپ مےں کثیرالثقافتی رجحان نے قومی حمیت کو کمزور کیا اور اس کی وجہ یورپ مےں اسلامی نو آبادیات کا قیام ہے جبکہ اس کی ویڈیو مےں اس نے اسلام ‘ مارکسزم کےخلاف بھی غصے کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ حملوں مےں 92 افراد ہلاک اور 98 زخمی ہوگئے تھے۔ ادھر تین روز بعد بھی ناروے مےں سوگ کی کیفیت طاری ہے، اس دوران ملک بھر کے چرچوں مےں تعزیتی تقریبات منعقد کی گئیں جس مےں وزےراعظم جےنز سٹولٹن برگ، بادشاہ ہےرالڈ پنجم اور ملکہ سونجا سمےت سےنکڑوں افراد اور مسلمانوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی اور ہلاک شدگان کو خراج عقیدت پیش کیا۔اس موقع پر وزےراعظم نے کہا کہ ہم غےور قوم ہیں اور کبھی بھی اپنی رواےات کو ترک نہیں کر سکتے۔ بی بی سی کے مطابق متاثرہ ےتویا جزیرے مےں ناروے اور نیونازی گروپ مےں مسائل موجود ہےں۔ ناروے پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم حملوں کے ذریعے ناروے کے معاشرے مےں اصلاح لانا چاہتا تھا۔ادھر برطانوی پولےس کا دستہ ناروے پہنچ گےا ہے۔ واضح رہے حملوں کے فوری بعد مغربی میڈیا نے حملوں کو القاعدہ یا اسلامی شدت پسندوں سے منسوب کر دیا تھا۔ دوسری طرف اے اےف پی کے مطابق ناروے کے قانون کے تحت زےادہ سے زےادہ سزا 21 سال ہے اور حالےہ واقعات کے بعد اس پر ناروےجن باشندوں مےں نئی بحث چھڑ گئی ہے اور لوگ آندرے کو سزائے موت دےنے کا مطالبہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔دریں اثناءایک اور زخمی دم توڑ گیا ہے جس سے ہلاکتوں کی تعداد 93ہو گئی ہے۔
ناروے