ڈرون حملے روکنے کا مطالبہ مسترد امریکہ کا پاکستانی عسکریت قیادت سے تعلقات کے نئے ضوابط پر غور

25 جولائی 2011
اسلام آباد (آن لائن) امریکہ نے پاکستان کی عسکری قیادت کے ڈرون حملے فوری روکنے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی فوجی قیادت کیساتھ اپنے تعلقات کے نئے ضوابط پر غور شروع کر دیا ہے، آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے درمیان کئی ماہ سے جاری تنازعہ حل ہونے سمیت دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے اداروں کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ میں تعاون بڑھانے کا طریقہ کار لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کے حالیہ دورہ امریکہ میں طے کر لیا گیا ہے پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت نے امریکہ پر واضح کیا کہ اگر ڈرون حملے نہ رکے تو پھر اسے افغانستان میں نیٹو سپلائی کیلئے پاکستانی راستوں کا استعمال چھوڑنا ہو گا۔ دفاعی ذرائع کے مطابق امریکہ کی جانب سے پاکستان کی فوجی قیادت پر شمالی وزیرستان میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے اہم دہشتگردوں کیخلاف فوری کارروائی کیلئے دباﺅ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل خالد شمےم وائےں ، آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا سمیت دیگر اعلی عسکری و دفاعی حکام کی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے جاری رکھنے پر تحفظات کو امریکہ نے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان ڈرون حملوں سے اہم طالبان راہنماﺅں کا ٹارگٹ کامیاب ہوا ہے جسے امریکہ اپنی انٹیلی جنس معلومات کے تحت جاری رکھے گا کیونکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشتگردوں کی موجودگی کی ٹھوس اطلاعات موجود ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کی حالیہ امریکی حکام سے ہونیوالی ملاقاتوں میں سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے جاری تنازعہ حل کر لیا گیا ہے دونوں اداروں کے درمیان تعاون کو بڑھانے میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کیلئے طریقہ کار کو بھی حتمی شکل دیدی گئی ہے جس کے بعد اس بات کا امکان ہے کہ پاکستان سے واپس جانے والے سی آئی اے کے ایک سو سے زائد ایجنٹ جلد پاکستان میں دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے ۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت نے امریکی اعلی حکام پر واضح کیا کہ امرےکہ اگر ڈرون حملے نہ روکے گئے تو پھر اسے افغانستان میں نیٹو سپلائی کیلئے پاکستانی راستوں کا استعمال چھوڑنا ہو گا پاکستان کی اسی دھمکی کی وجہ سے امریکی ان دنوں وسطی ایشیائی ریاستوں کے ذریعے افغانستان میں نیٹو سپلائی کیلئے خفیہ مذاکرات کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہے ۔ ذرائع کے مطابق ڈرون حملوں کیخلاف پارلیمنٹ سے قرارداد کی منظوری کے بعد فوجی اور سیاسی قیادت پر ڈرون حملے رکوانے کیلئے کافی دباﺅ بڑھ گیا اور اس حوالے سے انہوں نے امریکہ کو بھی آگاہ کر دیا ہے کہ ان پر عوام کا دباﺅ بڑھتا جا رہا ہے اس سے پہلے کہ ہم نیٹو کی سپلائی کے راستے بند کر دیں امریکہ اپنے لئے متبادل روٹس تلاش کر لے۔
ڈرون حملے