سپریم کورٹ نے یکم جولائی سے اب تک این آئی سی ایل کیس کی تحقیقات پرفیصلہ محفوظ کرلیا ۔

25 جولائی 2011 (06:14)
چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس امیر ہانی مسلم اورجسٹس طارق پرویز پرمشتمل تین رکنی بنچ نے این آئی سی ایل کیس کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق نے عدالت میں ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی جس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ محسن وڑائچ اورمونس الہیٰ کے تیرہ لاکھ پونڈ غیرملکی اکاؤنٹس میں موجود ہیں۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسارکیا کہ ظفرقریشی کی معطلی کے معاملے میں وزیراعظم سمیت دیگرحکام کے رد عمل کا کیا ہوا، جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ابھی تک وزیراعظم نے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے ظفر قریشی سے متعلق الزامات کے ثبوت مانگےجواٹارنی جنرل پیش نہ کرسکے۔ سپریم کورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے کی عدم موجودگی کی بابت استفسارکیا توارجسٹرار آفس کی جانب سے عدالت میں رپورٹ پیش کی گئی کہ ڈی جی ایف آئی اے کو صبح سپریم کورٹ پہنچنے کا بتایا گیا تھا لیکن اب وہ فون اٹینڈ نہیں کررہے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ ڈی جی ایف آئی اے کو گرفتارکرکے عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے، سپریم کورٹ نے یکم جولائی سے اب تک این آئی سی ایل کیس کی تحقیقات پرفیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔