حج کرپشن مں حکومتی وزرا ملوث ہیں، حکومت کسی نہ کسی طرح لٹیروں کو تحفظ دینا چاہتی ہے۔ سپریم کورٹ

25 جولائی 2011 (03:34)
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں چھ رکنی بنچ نے حج کرپشن کیس کی سماعت کی۔ عدالت میں حج کرپشن کیس کی تحقیقات میں پیش رفت کے حوالے سے تفصیل بتانے کے لیے متعلقہ ڈائریکٹرایف آئے عدالت میں موجود نہ تھے جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ سابق ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے جاوید بخاری کودوہفتوں میں او ایس ڈی بنانے کا حکم دیا گیا تھا مگرایک ماہ گزرنے کےباجود اس پرعمل نہیں ہوا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ چونکہ حج کرپشن مں حکومتی وزرا ملوث ہیں اس لیے حکومت کی کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح لٹیروں کو تحفظ دیا جائے اورکرپشن کیسز کو زیرالتوا رکھا جائے۔ وزیراعظم کو پتہ بھی ہے کہ عدالتی احکامات پرعمل کرنا ہوتا ہے مگرانہں اس کی پرواہ نہیں جسٹس طارق پرویز نے ریمارکس دئیے کہ اب تو یوں لگ رہا ہے کہ جیسے عدالت سے کہا جارہا ہوجو کرنا ہے کرلو۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اب لگتا ہے سابق سیکرٹری اسٹمبلشمنٹ عبدالروف چوہدری اور دہگرمتعلقہ افسران کوجیل بھیجنا ہی پڑے گا تب عدالتی فیصلے پرعمل ہوگا بہت نوٹس دے چکے اب جیل بھیجیں گے