پاکستان بھارت آئندہ مذاکرات اور مسئلہ کشمیر

25 جولائی 2011
یوں تو اب تک پاکستان بھارت مذاکرات کے انبار لگ چکے ہیں جن میں مقصدیت نام کی کوئی چیز نہیں، لیکن اب جبکہ پاکستان کی نئی وزیر خارجہ حنا ربانی نے قلمدان وزارت سنبھال لیا ہے اور وہ بھارت کو مذاکرات کی میز تک لے آئی ہیں، تو توقع کی جاسکتی ہے کہ شاید کوئی مقصد بھی حاصل ہوجائے، جو کہ واضح طور پر مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنا ہے، اور اسکے بعد تجارت، تعلقات اور دیگر معاملات کی باری آتی ہے، ہماری وزیر خارجہ کو کوئی لمبے چوڑے دلائل دینے کی ضرورت پیش نہیں آئےگی، کیونکہ یہ دیرینہ تنازعہ حل ہوچکا تھا مگر نہرو کے انکار کے باعث ایسا معرضِ تصدیق میں پڑ گیا کہ 63 برس گزرنے کے بعد بھی بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جاری ہے اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی بھی تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی ہے، مگر امریکہ اسے نظرانداز کرکے کشمیری لیڈر غلام نبی فائی کو نشانہ بنا چکا ہے۔ ڈاکٹر فائی پچھلے 20 سال سے امریکی کشمیری کونسل چلا رہے تھے۔ اب کیا افتاد آن پڑی کہ انہیں یکایک گرفتار کرلیا گیا۔ ظاہر ہے کہ اب پاکستان بھارت وزراءخارجہ کے 27 جولائی کے مذاکرات میں بھی بھارت کی جانب سے کشمیر کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی جائیگی، مگر یہ اب پاکستانی وزیر خارجہ کا کام ہے کہ وہ کشمیر ہی کو بحث کا نقطہ آغاز بنائیں اور بھارت کو زوردار انداز میں باور کرائیں کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی طے شدہ قراردادوں پر عملدرآمد کیا جائے اور اس قضیئے کو نمٹایا جائے تاکہ دونوں ملکوں میں کشاکش کی فضا ختم ہو اور دونوں معاشی ترقی پر توجہ دے سکیں۔ اسی طرح یہ معاملہ بھی اٹھایا جائے کہ مذاکرات میں کشمیری قیادت کو کیوں شامل نہیں کیا جاتا۔ بھارت یہ چاہتا ہے کہ پاکستان اپنی شہ رگ کو بھول جائے اور دوسرے معاملات پر بات چیت کرے، مگر ہماری جانب سے یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ اگر آزادی کشمیر کو ممکن نہ بنایا گیا تو اسکے نتائج منفی ہوں گے جو دونوں ملکوں کیلئے غیرمفید ثابت ہوں گے۔ کشمیری اپنے حق خودارادیت کیلئے جس طرح کوشش کررہے ہیں، وہ جہادِ کشمیر ہے، کوئی دہشت گردی نہیں، جو اتحادِ ثلاثہ سمجھ رہی ہے بلکہ بھارت جو مظالم کشمیریوں پر ڈھا رہا ہے، وہ دہشت گردی ہے، جس سے عمداً چشم پوشی کی جا رہی ہے۔ برطانیہ کشمیر کو متنازعہ چھوڑ گیا تھا جبکہ اسے معلوم تھا کہ مقبوضہ کشمیر بھارت سے الحاق کے بجائے آزادی چاہتا ہے۔ جو کانٹے برطانوی سامراج بو گیا تھا اب امریکہ، بھارت اور اسرائیل ملکر انکو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اگر حسب سابق تجارت، باہمی تعلقات اور دیگر چھوٹے چھوٹے مسائل پر بات کی گئی، تو مذاکرات کی ٹیبل لگانے کا اصل مقصد فوت ہو جائے گا۔ پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کی برداشت بھی اب آخری مراحل میں ہے۔ بھارت سے کھل کر یہ کہہ دیا جائے کہ پہلے کشمیر پھر کچھ اور، اور یہ کہ پاکستان اپنے 63 سالہ مو¿قف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ بہتر یہ ہے کہ بھارت زمینی حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے اب اس تنازع کو حل کرنے کی جانب آئے، بصورت دیگر دو ایٹمی ہمسایوں کا مسئلہ کشمیر پر مسلسل کشیدگی کی حالت میں رہنا پورے خطے کیلئے خطرناک ہے۔ بھارت، امریکہ و اسرائیل کی تائید اور اسلحہ کے انبار کی بنیاد پر اب مزید مسئلہ کشمیر کے حل کو التواءمیں نہ ڈالے اور یہ کہ تجارتی تعلقات کو کسی صورت بھی اوّلیت نہیں دی جاسکتی۔ بھارت کی جانب سے آزاد کشمیر پر گولہ باری کے واقعات اور کنٹرول لائن کی حیثیت کو بے وقعت سمجھنا، یہ سب کچھ پاکستان کیلئے لمحہ فکریہ اور بھارت کیلئے عبرت کا سامان فراہم کرتا ہے۔ کبھی پاکستان کے کسی ذمہ دار نے بھارت کو باقاعدہ دھمکی نہیں دی جبکہ بھارتی ذمہ داروں کی طرف سے ایسا کئی مرتبہ ہو چکا ہے۔ اگر بھارت کو عقل آجاتی ہے اور وہ معاملے کی حساسیت کو سمجھ لیتا ہے تو ٹھیک وگرنہ ہماری وزارت خارجہ کے وفد کو واپسی میں دیر نہیں لگنی چاہئے، تنازعہ کشمیر ہرگز کوئی ایسا مقدمہ نہیں جس پر لمبے چوڑے دلائل دئیے جائیں، بلکہ ہمیں تو ایک یاددہانی کرانی ہے کہ 64 برس پہلے جواہر لعل نہرو نے جن قراردادوں پر دستخط کئے تھے اور اقوام متحدہ کے فورم پر مسئلہ حل ہوگیا تھا، اس کا احترام کیا جائے، اور پورا پورا عملدرآمد کیا جائے۔ ایک حل شدہ مسئلے کو مسئلہ بنانا ستم ظریفی ہے، بلکہ ہماری وزارت خارجہ کو امریکہ سے بھی پرزور مطالبہ کرنا چاہئے کہ وہ ہم سے ناکردنیاں کرانے کے بجائے بھارت پر مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرنے کیلئے دباﺅ ڈالے۔ پاکستانی وزیر خارجہ ان مذاکرات سے کیا لیکر آتی ہیں، یہ تو کسی کو معلوم نہیں، البتہ وہ کشمیر پر پاکستان کا مضبوط کیس ضرور پیش کر سکتی ہیں اور اپنے ہم منصب بھارتی وزیر خارجہ کو قائل کر سکتی ہیں کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے، وہ پورا کردیا جائے۔ اسکے بعد شاہراہ تعلقات و تجارت بھی کھل جائیگی اور اگر بھارت اپنی ہٹ دھرمی نہ چھوڑے تو پھر بے مقصد مذاکرات سے توبة النصوح کرلی جائے اور اپنا لائحہ عمل طے کرلیا جائے جس سے بھارت بے خبر نہیں۔
٭٭٭