آدھا سچ ۔۔ آدھا جھوٹ

25 جولائی 2011
شفیق الرحمن میاں
O.... ایران نے امریکی ڈرون مار گرایا۔ (ایک خبر)
٭.... مرحبا احمدی نژاد مرحبا‘ تم نے تو ”شیر میسور“ فتح علی ٹیپو کے اس قول کو سچ کر دکھایا کہ ”شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔“ اگر یہ سبق ہمارے ”کرپشن کے شیروں“ کو بھی پڑھا دو تو 18کروڑ بے بس مظلوموں کی دعائیں تمہارے ساتھ ہوں گی۔
O.... امریکی اور مغربی سفارتکاروں کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔ ذرائع (ایک خبر)
٭.... کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اس منہ زور اونٹ کو جب تک اٹھا کر باہر نہ پھینکا گیا‘ یہ خیمہ خالی نہیں کرے گا۔ لیکن اس کام کےلئے طاقت سے زیادہ جرات درکار ہے۔ جو ہمارے نیتا¶ں میں مفقود ہے کہ جس دن حوصلہ پیدا ہو گیا نگرانیوں کی ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی۔
O.... سٹرٹیجک شراکت‘ بھارت اور امریکہ میں سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی پر مذاکرات ناکام۔ (اے ایف پی۔ رائٹر)
٭.... سب ”ٹوپی ڈرامہ“ ہے۔ امریکہ اور اس کا فطری حلیف‘ دونوں اندر سے ایک ہیں۔ اس قسم کا تاثر ”چانکیائی سیاست“ کی ہلکی سی جھلک ہے۔ اور کچھ نہیں۔
O.... پاکستان اپنی سرزمین امریکہ اور بھارت کے لئے استعمال نہ ہونے دے۔ (ہیلری کی تلقین)
٭.... لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ (پاکستان) اپنی سرزمین اپنے خلاف بھی نہ استعمال ہونے دے۔ بالخصوص ”شمسی ائربیس“ کی طرف تو آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے۔ ورنہ ہمارے ڈرونز کو طویل فاصلہ طے کرنا پڑے گا۔ ویسے بھی ہم نے یہ سہولیات کروڑوں ڈالرز کے عوض حاصل کر رکھی ہیں۔ وہ ڈالرز کہاں گئے۔ یا کہاں جا رہے ہیں‘ یہ ہمارا درد سر نہیں کیونکہ ہم دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ ہمیں آم کھانے سے غرض ہے۔ گھٹلیوں کو گننے کام پاکستانی عوام خود کریں۔
O.... بھارت خطے میں قائدانہ کردار ادا کرے۔ (ہیلری کا مشورہ)
٭.... آپ جلد از جلد اس خطے کی جان چھوڑ دیں۔ ہمیں اپنے ”ہمسائے ماں جائے“ سے نمٹنا خوب آتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ آج تک دھوتی نے کبھی شلوار قمیض کی قیادت نہیں کی۔
O.... پاک امریکہ تعلقات مشکل دور میں ہیں۔ (پیٹریاس)
٭.... ہم دعاگو ہیں کہ یہ ”مشکلات“ ”ناممکنات“ میں بدل جائیں۔ جس دن ایسا ہو گیا‘ ہم سکھ کا سانس لیں گے۔
O.... ہلیری کے دورہ کے عین موقع پر فائی کو گرفتار کرکے بھارت کو خیرسگالی پیغام دیا گیا۔ (باخبر سفارتی ذرائع)
٭.... پرانی پریکٹس ہے۔ کوئی نئی بات نہیں۔ ہم بھی یہی کچھ کرتے رہے ہیں۔ لیکن چونکہ ہماری گنگا الٹی بہتی ہے‘ ہمارے باوردی بادشاہ سلامت بھی امریکی عہدیداروں کے دوروں کے مواقع پر ”القاعدہ“ کے دوچار (مبینہ) ارکان کی صورت میں خیرسگالی کے پیغامات دیتے رہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغامات کے عوض ڈالرز وصول کر لئے اور امریکہ نے فائی کو گرفتار کرکے بھارت کی خوشنودی حاصل کر لی۔
O.... اپوزیشن کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہوں۔ (الطاف)
٭.... پہلی بات تو یہ کہ آپ کا ہاتھ اتنا لمبا نہیں کہ چشم زدن میں سات سمندر پار پہنچ جائے۔ دوسرے دوستی اور ”جپھی“ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جو بالمشافہ ہی ڈالی جا سکتی ہے۔