پاکستان.... روسی انخلاءکے بعد

25 جولائی 2011
افغانستان میں مجاہدین کی سرکار سازی کے تناظر میں راجیو گاندھی نے کئی بار کہا کہ عالمی برادری افغان مجاہدین کو حکومت بنانے سے روکے۔ اگر افغانستان میں مسلمان مجاہدین کی حکومت بن گئی اور پاکستان میں پہلے ہی مسلمان بنیاد پرست جنرل محمد ضیاءالحق کی حکومت ہے مجھے پاک افغان مجاہد حکومتوں کے باعث ہندوستانی مسلمانوں کو قابو کرنا مشکل ہو جائے گا کیونکہ ہندی مسلمان جہادی اسلام سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ راجیو نے اپنے موقف کی ہمنوائی کیلئے ڈیڑھ ماہ کا عالمی دورہ کیا۔ جس کا آغاز عرب اسلامی ممالک سے کیا اور اختتام اسرائیل، یورپ اور امریکہ پر کیا۔ اور اس ضمن میں اقوام متحدہ کو بھی خطاب کیا۔ جس طرح ہندو بھارت جہادی اسلام سے خوفزدہ ہے اسی طرح یہودی اسرائیل کو بھی خدشات لاحق ہیں کہ جہادی اسلام عالم عرب کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ فی الحقیقت یہ جہادی اسلام کے وہ خطرات اور خدشات ہیں جنہوں نے عالمی برادری اور اداروں کو ابھرتے ہوئے غالب و کار آفرین عسکری اسلام کے خلاف متحد کر دیا۔ نبی محترم کا بیان بجا ہے کہ الکفر ملة واحدة۔ مسلمانوں کے خلاف تمام غیر مسلم ایک قوم اور ملت کے مانند ہیں۔ روسی انخلاءکے دوران روس اور بھارت نے عالمی برادری اور اداروں کو عسکری (جہادی) اسلام کے خلاف متحد کیا اور خطہ میں متفقہ پالیسی اپنائی۔ جس کے اہداف درج ذیل ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت کے جھنڈے تلے تمام سیکولر یعنی مغرب نواز اور ضیاءالحق دشمن عناصر کو اکٹھا کیا جائے۔ افغان مجاہدین کے سرپرست جنرل محمد ضیاءالحق کو نظر سے ہٹا کر نام نہاد ضیاءدشمن حکومت قائم کی جائے۔ جس کے باعث افغان مجاہدین تنہا اور لاوارث ہو کر رہ جائیں گے۔ افغان مجاہدین کو آپس میں لڑانے کیلئے ان کو نسلی، لسانی، قبائلی اور فرقہ وارانہ بنیاد پر سرپرستی شروع کر دی جائے۔ جہاد کو فساد بنایا جائے۔ مجاہدین کو طالبان کا نام دیا گیا اور اس طرح امت مسلمہ کی اکثریت کو ان سے بدظن کر دیا گیا۔ افغانستان میں وسیع البنیاد حکومت کے قیام کیلئے پاکستانی جمہوری وزیراعظم محمد خان جونیجو سے جنیوا معاہدہ کرایا جو افغان مجاہدین کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف تھا۔ جنیوا معاہدہ کے ذریعے پاکستان کو مسئلہ افغانستان کے ضمن میں عالمی اداروں اور طاقتوں کا پابند بنا دیا گیا۔ شہید صدر کے دور میں افغان مجاہدین کی کامیابی کا راز نظریاتی پاک فوج، ISI، نظریاتی تعلیمی نظام اور میڈیا پر نظریاتی کنٹرول تھا۔اس وقت امریکہ و اتحادی ممالک نے سیاست کاروں کی مدد سے اپنا خودمختار نیٹ ورک قائم کر لیا ہے۔ اندر امریکہ و بھارت مخالف عناصر موجود ہیں جو افغانستان سے امریکی انخلاءکے بعد افغانستان کی صورتحال کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں۔ مگر یہ محب وطن (نیشنلسٹ) عناصر اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک پاکستان کے اندر موجود امریکہ و اتحادی نیٹ ورک نہ توڑا جائے۔ اس کام کی نشاندہی آسان مگر عمل کرنا مشکل ہے۔ ایسا اقدام پوری عالمی برادری اور اداروں کو ناراض کرنے کے مترادف ہے۔ مگر پاکستان کی نجات ایسے جراتمندانہ اقدام کے بغیر ناممکن ہے۔ پاکستانی قیادت کو پاکستان کی سلامتی اور عالمی برادری سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا۔ پاکستان اس سوچ کے ساتھ ہی افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد کے ثمرات سے بہرہ مند ہو سکتا ہے وگرنہ سب لگی لپٹی کی باتیں ہیں۔ (ختم شد)