پیر‘22 شعبان المعظم1432 ھ‘ 25 جولائی 2011ئ

25 جولائی 2011
پنجاب میں جانوروں کی شناخت کا نظام لانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، اب اس کے ذریعے ہر ایک جانور کی تاریخ پیدائش، نسل اور دیگر متعلقہ معلومات حاصل کی جاسکیں گی گویا اب ”جانور نادرا“ بھی قائم کردیا گیا ہے، جو ہر جانور کو شناختی کارڈ جاری کرےگا جس پر اُس سے متعلق سب کچھ درج ہوگا،اس نئے یب کو ایجاد کرنے کا سہرا پنجاب گورنمنٹ کے سر ہے، اب قربانی کی عید پر خریداروں کو بڑی سہولت ہوگی کیونکہ خریدار جانور کے گلے میں لٹکا ہو اُس کا شناختی کارڈ دیکھ کر معلوم کرےگا کہ وہ قربانی کےلئے فٹ ہے یا نہیں، پنجاب حکومت نے یہی نہیں بلکہ ایک ایسا ونڈا بھی جانوروں کےلئے تیار کرلیا ہے، جس کی تھوڑی سی مقدار جانوروں کی غذائی ضرورت پوری کردےگی، پنجاب کی سر زمین عجائب و غرائب کا مرکز بنتی جارہی ہے، کیونکہ یہاں اچھے قسم کے ایسے اقدامات بکثرت کئے جارہے ہیں جن سے یہ صوبہ دوسرے صوبوں کا عجائب گھر بن جائےگا، جانوروں کی شناخت تو شناختی کارڈ کے بغیر بھی ہوجاتی ہے کیونکہ اُن کو بڑی آسانی سے ٹٹول ٹٹول کر دیکھا جاسکتا ہے مگر انسان اپنے شناختی کارڈ سے بھی نہیں پہچانا جاسکتا کیونکہ جعلی شناختی کارڈ بھی دستیاب ہیں اور ظاہر ہے کسی انسان کو ٹٹولنا تو کارے دار د، پھر یہ کہ وہ اپنی زبان کے ذریعے بھی اپنی اصلیت چھپا لیتا ہے جبکہ جانور بے زبان ہوتے ہیں، اپنے بارے میں راز ہائے دروں نہیں بتا سکتے، البتہ جانوروں کے شناختی کارڈ جاری کرنے سے کانجی ہاﺅس والوں کو بھی مشکل پیش نہیں آئےگی اور ہر جانور کو اُس کے گھر پہنچادیا کرینگے۔
٭....٭....٭....٭....٭
تعلقات میں بہتری کیلئے بھارت بنگلہ دیش نے سرحدی علاقوں میں منڈیاں کھول دیں۔ بھارت کو شاید خوف ہے کہ بنگلہ دیش پھر سے کہیں مشرقی اسلامی ریاست بننے کے بعد پاکستان نہ بن جائے، اسلئے اب اُس نے بنگلہ دیش پر پٹو ڈالنا شروع کردیا ہے، بنگلہ دیش کے لوگوں کی اکثریت بھارت کو جسقدر پسند کرتی ہے وہ بھی ساری دنیا کو معلوم ہے کیونکہ جبر سے توڑی گئی چیز کے دوبارہ ایک ہونے کا اندیشہ رہتا ہے،پہلے بھارت کے پہلو میں ایک مسلمان ملک تھا اب دو ہوگئے ہیں،اسلئے سرحدی علاقوں میں منڈیاں کھول کربنیا کاروبار بھی کرےگا اور پیار بھی، بنیا جب بھی کسی سے دوستی کرتا ہے بیوپار کے ذریعے، اور بیو پاری کا پیار تو پیاز ہوتا ہے، اسلئے بنگلہ دیش ہوشیار رہے،بھارت نے پاکستان کے ساتھ بھی منڈی منڈی کھیلنے کی بڑی کوشش کی مگر اس کی یہ آشا، امن آشا کی طرح منڈھے نہ چڑھ سکی، بنگلہ دیش کے عوام خوب جانتے ہیں کہ بھارت نے دھوکے سے مکاری سے اُنہیں پاکستان سے جدا کیا، اب یہ منڈیاں جو سرحدوں کے ساتھ ساتھ کھولی گئی ہیں کہیں ایسٹ انڈیا کمپنی نہ بن جائیں، اسلئے بنگلہ دیش کیلئے بہتر ہے کہ سرحد کے ساتھ ساتھ مورچے بنالے بے شک اُن میں آلو پیاز بھی رکھ لے، ان منڈیوں کا قیام ثابت کرتا ہے کہ تعلقات اچھے نہیں، اسلئے ضروری تھا کہ تعلقات کی منڈیاں کھول دی جاتیں، بہرحال ہم عرض کرینگے بنگلہ دیشی حکمرانوں اور عوام سے کہ مشتری ہوشیار باش کہ منڈی کہیں جھنڈی نہ بن جائے اور جھنڈی کرانے کے محاورے سے بنگلہ دیش خوب واقف ہے۔
٭....٭....٭....٭....٭
بلجیئم نے بھی خواتین کے حجا ب پر پابندی لگا دی، خلاف ورزی کرنے پر197 ڈالر جرمانہ اور سات دن قید کی سزا دی جائے گی۔ بلجیئمکیوں پیچھے رہتا، آخر اُس نے بھی حجاب اپنی عقل پر اوڑھ کر حجاب اوڑھنے پر پابندی لگا دی، یہ سلسلہ شیطانی قوت صہیونیت کی شرارت ہے، جو پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو ایک آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔بلجیئمبھی اسکے دام میں آگیا آج حجاب پر پابندی ہے تو کل کو مساجد میں نماز پڑھنے یا مساجد تعمیر کرنے پر مغرب میں قدغن لگا دی جائےگی،اسلئے 56 اسلامی ممالک کو اس سلسلے میں کوئی ایسا اجتماعی اقدام کرناچاہئے کہ یہ آئے دن کی اسلامی شعائر کی بے حرمتی کا سلسلہ ختم ہو، اگر اسلامی ممالک تمام ننوں پر پابندی لگا دیں کہ وہ سکارف نہ اوڑھا کریں تو مغرب کا کیا ردعمل ہوگا،حجاب اوڑھنا ہر مسلمان خاتون کا ذاتی و مذہبی معاملہ ہے، جو کسی بھی ملک یا معاشرے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرتا پھر یہ فی سبیلِ الشیطان فساد کھڑا کرنا چہ معنی دارد؟ اس سلسلے میں تمام اسلامی ملکوں کے سفارت خانے اپنا کردارادا کریں اور اپنے اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کریں ، سروے یہ بتاتا ہے کہ آج اگر پوری مغربی یورپی دنیا سے مسلمان نکل جائیں تو اس کو خاصی مشکلات پیش آئیں گی اور وہ جفاکش کارکنوں سے محروم ہوجائے گی مگر شیطانی قوتیں جس تیزی سے بڑھ رہی ہیں اُن کا مقابلہ کرنے کیلئے مسلمانوں کو تیار رہناچاہئے، ہم اُن مسلم خواتین کو سلام کرتے ہیں جو بے حجاب دنیا میں حجاب اوڑھتی اور اپنے کام سے کام رکھتی ہیں۔
٭....٭....٭....٭....٭
ابو ظہبی امارات کی سب سے امیر ریاست ہے، فی کس آمدنی63 ہزار ڈالر ہوگئی۔ ایک کھرب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری قومی دولت کے ذخائر 875ارب ڈالر ہیں۔ ہماری حالت اب یہ ہوگئی ہے کہ ....
ہنستے جو دیکھتے ہیں کسی کو کسی سے ہم
منہ دیکھ دیکھ روتے ہیں کس بیکسی سے ہم
ہمیں بڑی خوشی ہے کہ ایک اسلامی ریاست ابو ظہبی، دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شامل ہوگئی ہے، وہاں کے لوگ خوشحال، فارغ البال اور دولت سے مالا مال ہیں، یہ ابو ظہبی کے حکمرانوں کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے اِدھر اُدھر دیکھے بغیر اپنی راہ لی اور کسی سے اُلجھے اور نہ کسی سے تقابل کی پالیسی اختیار کی، اللہ نے تیل کی صورت میں اسے جو سیال دولت عطا کی اُس کا صحیح استعمال کیا، عالمی منڈی میں سرمایہ کاری کی اور اتنی دولت کمائی کہ اپنے لوگوں کو کجا لا تعداد بیرونی افراد کو بھی مالا مال کردیا، یہ قدرتی وسائل تو ہمیں بھی اللہ نے بے شمار عطا کئے ہیں مگر ہم تو تیل کا کنواں کھود کر اُسے مٹی سے بھر دیتے ہیں تاکہ کہیں خوشحالی ہمارا رُخ نہ کرلے،اسی طرح کوئلے، سونے اور قیمتی پتھروں کے پہاڑ کھڑے ہیں، آخر امریکہ نے ابوظہبی کو ترقی سے کیوں نہیں روکا اور ہمیں کیوں روکتا ہے، کسی نہ کسی بہانے ہماری معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے، مگر اصل بات یہ ہے کہ ہمارے حکمران بھی وہ چاہتے ہیں جو امریکہ کی خواہش ہے ،جب تک یہ غلامانہ ذہنیت اور فقط اقتدار سے پیار کی روش ختم نہ ہوگی،، ہرستم، ہر بے ہنگم قدم متحرک رہے گا، ابو ظہبی ایک عرب امارت ہے جس کی امیری ہمارے لئے باعث اطمینان بھی ہے اور باعث تقلید بھی۔ لیکن صد افسوس ہم ابھی تیل سے مالا مال نہیں ہو ئے بلکہ کم یا نہ ہونے کی وجہ سے بے حال ہوگئے ہیں۔