امریکہ و بھارت کے نئے ”جال“

25 جولائی 2011
خواجہ ثاقب نثار
پاکستان کی سلامتی، خود مختاری، آزادی، اتحاد و یکجہتی کو عالمی سطح پر سنجیدہ خطرات کا سامنا ہے۔ پاکستان کے خلاف ہنود، یہود و نصاریٰ (امریکہ) کی سازشیں تیز تر ہوتی جا رہی ہیں لیکن حکومت، حکمران، قومی سلامتی کے دونوں ادارے، پارلیمنٹ ان سازشوں کا بروقت اندازہ لگانے اور ان کا ”توڑ“ کرنے میں کامیاب نظر نہیں آ رہے! تازہ منظر نامہ درج ذیل ہے :
-1 امریکی جرنیل پیٹریاس نے فوج میں اپنی کمان و آپریشن کے آخری مہینوں میں آئندہ سی آئی اے چیف کے طور پر ممکنہ امریکی پالیسی کے خدوخال کا ”ٹریلر“ چلا دیا ہے۔ پوری ”فلم“ وہ سی آئی اے چیف بننے کے بعد چلائیں گے جو انتہائی جارحانہ اور غیر متوقع ہو گی۔ جنرل پیٹریاس کا تازہ حکم ہے کہ ”پاکستان شمالی وزیرستان اور بلوچستان میں دہشت گردوں (امریکی ملزمان طالبان و القاعدہ وغیرہ) کے خلاف کارروائی کرے، پاکستان نے ان کے خلاف م¶ثر کارروائی کی ہے لیکن اسے بعض دوسرے عناصر (سی آئی اے کے مطلوبہ افراد و قیادت) کے خلاف کارروائی کیلئے بھی بہت کچھ کرنا ہو گا۔“ اس ”تازہ حکم“ کے جواب میں صدر، وزیراعظم، وزیر خارجہ اور دفاعی قیادت کے ساتھ ساتھ آئی ایس آئی کو بھی ٹھوس، جامع حکمت عملی اور جوابی خارجہ حکمت عملی وضع کرنا چاہئے اور امریکہ کے صدر اور وزیر خارجہ تک غیر مبہم انداز میں پہنچا دینی چاہئے، صاف صاف بات کرنا اب وقت کا تقاضا ہے! خارجہ پالیسی کے معمول کے ہتھکنڈے اور بیانات معاملے کو اُلجھا سکتے ہیں کیوں نہ دوٹوک م¶قف سے بتایا دیا جائے کہ شمالی وزیرستان اور بلوچستان میں ہرگز ہرگز فوجی آپریشن نہیں کیا جائے گا کیونکہ پہلے ہی سوات، جنوبی وزیرستان، فاٹا میں افواج، ٹینک، توپ، ریڈارز اور فورسز بھارت کے بارڈر سے نکال کر پاک بھارت فوجی توازن کو خراب کر دیا گیا ہے نیز ہمارے اندرونی استحکام و سلامتی پر نئے فوجی آپریشن کے تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، امریکہ ہمارے قبائل اور افواج نفرت و انتقام کے فروغ کےلئے سازش کرتے ہوئے غیر طالبان پٹھانوں کو سکیورٹی اداروں کے ہاتھوں مروا کر افواج کے اندر بے چینی و نظم و ضبط کے مسائل کھڑا کرنے کے ”ٹارگٹ“ پر ہے۔ اب تک فوج نے مثالی اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن امریکی جرنیل شمالی وزیرستان کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں بھی طالبان، القاعدہ کے لیڈران کی مبینہ موجودگی کا شوشہ چھوڑ کر حکومت و افواج کو مخصوص آپریشن پر مجبور کرنا چاہتا ہے جبکہ سات سال سے سی آئی اے، را، موساد نے ”بلوچستان آزادی تحریکوں“ اور بلوچ، پنجابی، کشمیری، سندھی قتل و غارت گری سے پاکستان کی سلامتی پر گہرا وار کیا ہے۔ آئی ایس آئی نے چار سال کے دوران بے شمار ایجنٹ اور نیٹ ورک پکڑے ہیں اور ثبوت بھی وفاقی حکمرانوں کو دئیے تھے لیکن ان دشمن ممالک کی مذموم سرگرمیوں کا کھل کر بتاتے سے حکمران کتراتے ہی رہتے ہیں جو کہ انتہائی قابل اعتراض ہے کہ عالمی فورموں پر پاکستان کی جڑیں کاٹنے والے ممالک کو ”’ننگا“ نہ کیا جائے! بلوچستان میں مزید کوئی آپریشن علیحدگی پسند گروپوں کے م¶قف کو تقویت دے سکتا ہے، ایک طبقہ پہلے ہی وفاق کے خلاف ہے اب امریکی منصوبہ بندی یہ ہے کہ دوسرے طبقے کو بھی افواج اور وفاق کے خلاف کھڑا کر دیا جائے اسلئے امریکی جنرل پیٹریاس کو بتا دیا جائے کہ ہم ایک سوراخ سے دو مرتبہ ڈسے جانے اور ہلاکت کے راستے پر جانے کو قطعاً تیار نہیں!
-2 ہماری قومی سلامتی، استحکام، خود مختاری کو دوسرا بڑا چیلنج چند دن قبل امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے خبثِ باطن کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی دہلی میں دے دیا ہے وہ دونوں کہتے ہیں کہ پاکستان خطے میں استحکام اور مستقبل کےلئے اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے خود ختم کرے نیز ہلیری کلنٹن نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی سرزمین پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہرگز برداشت نہیں کریں گے اور پاکستان پر سخت سے سخت دبا¶ ڈالیں گے! بھارتی وزیر خارجہ نے ایس ایم کرشنا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ و بھارت نے پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے!
پاکستان کے معاملات میں یہ ہنود و امریکہ گٹھ جوڑ اب کھل کر خود مختاری کو چیلنج کرنے پر اُتر آیا ہے۔ ہمارے حکمران، وزیر خارجہ، پارلیمنٹ کی کمیٹی ان سازشوں کا بروقت توڑ کرنے میں ناکام رہیں گے یا امریکہ و بھارت کی سفارتی جارحیت کا م¶ثر جواب بھی دیں گے یہ کس کی ناکامی ہے کہ فرنٹ لائن اتحادی تو پاکستان ہے اور امریکی وزیر خارجہ ہلیری بھارت کے ساتھ پاکستان پر شدید دبا¶ ڈالنے پر کمربستہ ہیں۔ ہمارے حکمران اور وزارت خارجہ امریکی وزیر خارجہ کو بھارت کے ساتھ سٹرٹیجک اتحاد و پالیسی سے روکنے میں کیوں ناکام ہوئے؟ اس کا ذمہ دار کون ہے کہ امریکی حکومت اب بھارتی حکومت کے ساتھ مل کر ہمارا ناطقہ بند کرنے پر ”اتحادی“ بن چکے ہیں؟ بھارتی حکومت پچھلے ہفتے کے ممبئی بم دھماکے کرنے والے بھارتی دہشت گردوں کے مراکز پہلے ختم کرے جو بھارت سرکار کی ”رٹ“ کو چیلنج کرتے ہیں اور ہر سال سارے بھارت میں شدت پسند ہندو جماعتیں دہشت گردی میں ملوث ہوتی ہیں۔ امریکہ بھارت اتحاد پاکستانی مفادات و سلامتی کےلئے انتہائی خطرناک ہے ہمارے وہ صحافی گروپ و کالم نگار جو ”امن کی آشا“ کا زہر نوجوان نسل میں اتار رہے ہیں اب جواب دیں کہ بھارت امریکہ سیاسی، تجارتی، دفاعی، ایٹمی ترقی، پاکستان مخالف منصوبے اب عقل کے اندھوں کو بھی نظر آرہے ہیں۔پاکستان کی سلامتی پر مشترکہ ”وار“ حملہ، اندرونی استحکام کی مکمل بربادی، عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا اور بدنام کر کے گھیر کے مارنا، دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کرنے پر اتفاق! امریکہ بھارت شیطانی منصوبے کا آغاز، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟ افواج سارے ملک میں آپریشنوں میں پھنسا کر پھر ”درست وقت“ میں ”بڑا وار“ کرنے کے منصوبے متقی و مومن دانشوروں کو صاف صاف دکھائی دیتے ہیں لیکن حکمران بھارت کو دوست کہتے ہیں، دوست ملک! ابھی دو ماہ قبل بھارت نے پاکستان کی امریکی امداد رکوانے میں بہت بڑی لابنگ کی! نتیجہ تو سامنے ہے ہمارے جنگی اخراجات کی ادائیگی سے امریکی انکار، نئے نئے کلیرنس سرٹیفکیٹ کا تقاضا، کبھی ری پبلیکنز کی جانب سے کبھی ”امریکی وزیر خارجہ پاکستان کےلئے رپورٹ دیں“ کہ امداد دی جائے یا نہیں! ہمارے حکمرانوں کو نہ جانے کب عقل و غیرت آئے گی کہ فوج کے کور کمانڈرز کی طرح ہی کہہ دیں کہ مشروط امداد (امریکی) نہیں چاہئے، اپنے وسائل سے فوجی آپریشن جاری رکھیں گے! اگر سخت اور توہین آمیز شرائط (ڈومور) سے آزادی و غیرت کا سودا کرنا ہے تو اپنے 18 کروڑ عوام کو بھی بتائیں کہ امریکہ و بھارت کے خلاف ہم نے کیا اقدامات کئے ہیں جو ہماری سلامتی و استحکام کےلئے ضروری ہیں؟ حکمران اور سیاسی قیادت خصوصاً اپوزیشن کو، واضح اور دوٹوک پالیسی مرتب کرنے کےلئے قومی کانفرنس میں بیٹھنا چاہئے، یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ افواج اور کور کمانڈر سخت ردعمل دیتے رہیں اور سیاسی حکومتی قیادت مفاہمت مفاہمت کا کھیل پاکستان کے اندر اور امریکہ و بھارت سے کھیلتی رہے، یہ قومی پالیسی مرتب کرنے کا نازک وقت ہے غیر سنجیدہ و مضحکہ خیز سیاست کا نہیں، قومی سلامتی و آزادی کےلئے کم از کم پالیسی مرتب کریں تاکہ ساری قوم امریکہ و بھارت کے مقابلے کیلئے متحد نظر آئے!