پاکستان پائندہ باد تحریک ۔اک فکری لام بندی

25 جولائی 2011
عزیز ظفر آزاد
ایک بار پھر حضرت علامہ اقبال کے خواب اور حضرت قائداعظم کی بنائی ریاست پر ہنود یہود بلکہ تمام کفار مردود کی یلغار ہے یہ صرف عسکری سطح پر نہیں تہذیبی تمدنی مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ فکری اور نظریاتی بھی ہے ۔ ہمیشہ کی طرح منصوبہ بندی کے ذریعے ہم سے لالچی اور بے ایمان افراد کو نواز کر پھر قوم سے زردار زرپرست اور زرداری چن چن کر ریاستی امور کے قریب لایا گیا ۔ بڑی ہوشیاری سے حادثہ رچایا جاتا ہے اور امور ریاست پر ان کو معمور کر دیا جاتا ہے ۔ یہ کہانی آگے بڑھتی ہوئی اس نہج پر پہنچتی ہے کہ ایک مسلم قوم کئی قومیتوں کی بات کر رہی ہے ۔ ملک میں توانائی کے درجنوں ذرائع ہونے کے باوجود عوام کو ضروریات زندگی سے محروم کر دیا گیا اندھیروں میںدھکیل دیا گیا توانائی میں کمی کے باعث کارخانے ویران دہقان پریشان اور تجارت مفلوج ہوچکی ہے بے روزگاری سے بد امنی میں اضافہ جان و مال کی حفاظت میں حکومت ناکام ۔ اشرافیہ کی بے حسی بے غیرتی کے باعث جغرافیائی اور نظریاتی حدود کو پامال کیا جارہا ہے ۔ بڑے بڑے منافع بخش قومی ادارے کنگال ہوچکے ۔ ہر شعبہ زندگی شدید دباﺅمیں ہے مگر ہمارے دانشوروں کا ایک مضبوط گروہ بھارت کے سامنے لیٹ جانے کا مشورہ دے رہا ہے ۔ بیرونی ہدایت و رعایت یافتہ لوگ منصوبہ بندی کے تحت ملک کی بنیادوں کو زک پہنچانے پر معمور ہیں وہ پاکستان کو ناکام ریاست قرار دے رہے ہیں نظریہ پاکستان کو بے کار اور فرسودہ فلسفہ ثابت کرنے کی کوشش میں سرگرداں ہیں ۔ پاک فوج پر دشنام طرازی محبوب مشغلہ ہے ۔ ہماری انٹیلی جینس ایجنسیاں جن کی صلاحیت و برتری دنیا پر تسلیم شدہ ہے کو تنقید کا نشانہ بنا کر را، موساد اور سی آئی اے کے پروگرام پر عمل پیرا ہیں ۔
وطن فروشوں اور ابن الوقتوں کا اندرونی خلفشار اور بیرونی جانب سے ہنود و یہودکی سازشوں سے وطن کے افق پر پھیلے مایوسی اور بے دلی پسپائی کے اندھیرے میں ایک آواز ایسی بھی سنائی دے رہی ہے جس کی للکار سے امید کی روشن کرنیں پھوٹ پڑتی ہیں جس کے نعرہ مستانہ سے سازشیوں اور وطن دشمنوں کے دل دہل جاتے ہیں جو پیری میں بھی جوانوں جیسی بات کرتا ہے جو کپکپاتی آواز میں بھی پاکستان پائندہ باد سے آغاز کرتا ہے جس کی شخصیت قوم پر سایہ فگن ہے ایک ایک بول دشمنوں کےلئے توپ و تفنگ ہے ۔ وہ قائدو اقبال کے خواب دیکھتا ہے ۔ جاگتی آنکھوں سے مشرقی پاکستنا سے ملاپ دیکھتا ہے اس کی ایک آواز پر تمام سرفروش صف آراءہوتے ہیں ۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ نے گرتی قومی ساکھ مسلم اقدارکی پامالی اور نظریہ پاکستان پر سفلوں وبونوں کے رقیق حملوں کے جواب میں فکری لام بندی کا جو پروگرام دیا ہے اسے ہر محب وطن اور ہوش مند پاکستانی عزت و وقار کی نگاہ سے دیکھتا ہے ایسے ماحول میں جہاں ہر طرف سے قوم مایوس ہو کر بے آسرا محسوس کر رہی تھی لوگوں کی آنکھیں آسمان کی جانب اٹھتیں اور زمین میں دھنس جاتی ہیں جو آواز نظریہ پاکستان والوں نے اٹھائی اس کی آرزو اللہ والے اپنی شب بیداریوںمیںکرتے تھے ۔آخر کار رد دعا کا وقت ٹل گیا پاکستان پائندہ باد کا علم لے کر حضرت مجید نظامی اپنی عمر کے اس حصے میں میدان میںنکلے جو کم ازکم جنگ و جدل کےلئے موزوں نہیں ہوتی شایدہی حضرت قائداعظم کے علاو ہ عمر کے اس حصے میں آزادی کی جنگ لڑنے کی کوئی مثال موجود ہو لہٰذا جناب مجید نظامی اپنے رہبر کی سنت پر میدان عمل میں نعرہ زن ہیں سربہ کفن ہیں آپ کے قائد ملک بنانے کےلئے اسی عمر میںمیدان میں اترے تھے آپ آج وطن کی آبرو بچانے کےلئے نکلے ہیں ۔
پاکستان پائندہ باد کی تحریک جو 2جولائی کو علی ہجویری کی نگری سے آغاز ہو کر ملک کے ہر شہر نگر میں برپا ہوتی چلی جارہی ہے ایسی ایک تقریب نظریہ پاکستان فورم پنڈی کے تحت منعقد ہوئی ۔ فورم کے سربرہ پروفیسر نعیم قاسم نے راقم کو بھی شرکت کا حکم فرمایا جس سے پروقار تقریب میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا۔ وہاں ہر پیر و جواں ملکی حالات پر پریشان ہونے کے ساتھ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی اس کاوش کو بڑے احترام اور تحسین کے جذبے سے دیکھ رہا تھا ۔ پروفیسر نعیم قاسم نے پنڈی کے ہرشعبہ زندگی کے نمایاں صاحب خیال اور ملکی معاملات میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو مدعو کیا تھا ۔ سیاسی جماعتوں کے اہم رہنماﺅں نہ صرف شریک ہوئے بلکہ سب نے یک زباں ہو کر قبلہ مجید نظامی کی شخصیت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ملک و ملت کےلئے ان کی گراں قدر خدمات کو لائق تحسین اور قابل تقلید قرار دیا ۔ بلاشبہ نظامی صاحب اس پر آشوب دور میں خدا کی بڑی نعمت ہیں ۔
تقریب کا آغازتلاوت قرآن حکیم ، نعت رسول مقبول اور قومی ترانہ سے ہوا ۔ تقریب کے دوران نظامی صاحب نے شرکاءسے قومی عہد کی تجدید کی ۔ ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے تحریک کے اغراض و مقاصد بڑے پرزور اندازسے تمام نکات واضح کئے ۔ تمام مشکلوں اور ناکامیوں کے باوجود مختلف شعبہ زندگی میں انفرادی و اجتماعی کامیابیوں اور کارناموں کو بڑے خوبصورت پیرائے میں پیش کیا ۔ پاکستانیوں نے دنیا میں نمایاں اعزاز اور حیرت انگیز صلاحیتوں کا ذکر کرکے محفل کو گرما دیا۔ شاہد رشید نے ثابت کیا کہ وطن عزیز میں کم ظرف، موقع پرست کم اور باصلاحیت محب وطن افراد زیادہ ہیں سب مثبت قوتوں کو جمع کرنے کی ضرورت ہے ۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ ملک کو باہر سے نہیں اندر سے خطرات لاحق ہیں ۔ بھارت پاکستان کی سلامتی کی صورت میں متحد رہ سکتا ہے ورنہ بھارت میں کئی پاکستان جنم لیں گے ۔ جماعت اسلامی کے ڈاکٹر فرید پراچہ کا کہنا تھا کہ آج ہماری آزادی خطرے میں ہے کسی آزاد ملک میں دوسرا ملک ڈرون حملے نہیں کر سکتا ہماری کمزوری کے باعث عافیہ چھیاسی سال قید کس جرم میںکاٹ رہی ہے ؟ اقبال نے کہا تھا کہ میر عرب کو ٹھنڈی ہوا اس سرزمین سے آئی ہے ۔ تحریک پاکستان جاری ہے تب مکمل ہوگی جب جغرافیائی حدود میں کشمیر شامل ہوگا اورنظریاتی تحریک کی منزل اسلامی نظام ہے ۔ ہمیں بھارت سے پینگیں بڑھانے والوں کا محاسبہ کرنا ہوگا ۔ پی پی پی کے زمرد خان نے اپنے خطاب میں کہا اس بار 14اگست رمضان المبارک میں آرہی ہے ۔نظامی صاحب ریڈیو اور ٹی وی پر یہ عہد وفا پوری قوم سے لیں گے ۔ نظامی صاحب کی قلم میں ہزاروں توپوں سے زیادہ قوت ہے ۔ تقریب سے مسلم لیگ ق کے سرور خان ، حاجی نواز کھوکھر ، جنرل عبدالقیوم، پروفیسر نذرالسلام کے علاوہ دیگر نے خطاب کیا ۔ ڈاکٹر مرتضیٰ ملک نے چند اشعار پیش کئے ۔
میں آدمی ہوں وطن کو کس طرح نہ چاہو©ں
عزیز لگتی ہے چڑیا بھی گھونسلہ اپنا
جبلتوں سے قوی تر ہیں جاویداںجذبے
مفاد قوم میں تو سربھی دے کٹا اپنا
اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاﺅ گے
خواب ہو جاﺅ گے افسانوں میںڈھل جاﺅ گے
اپنی مٹی پر ہی چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاﺅ گے
تقریب کے آخر میں مہمان مکرم قائد محترم محافظ نظریہ پاکستان مجید نظامی نے فرمایا کہ تحریک پاکستان کے وقت ہمارے استاد پروفیسر عمر حیات ملک نے حکم دیا قوم اہم موڑ پر کھڑی ہے لہٰذا تحریک پاکستان کامیاب کرنے کےلئے میدان عمل میںنکل جاﺅ ۔نظامی صاحب نے عبدالمالک شہید کا واقعہ سنایا انہوں نے بتایا کہ انار کلی اور مال روڈ لاہور پر اکا دکا دکانیں مسلم کی تھیں باقی تمام شہر ہندوﺅں کی ملکیت تھا آج جتنے لوگ امیر اور خوشحال ہیں صرف پاکستان کی بدولت ہیں ۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں فرمایا اگر پاکستان نہ بنتا تو میں اخبار کا مالک کبھی نہ ہوتا ۔ زیادہ سے زیادہ اخبار فروش ہوتا ۔ اس موقع پر محسن پاکستان کے القاب سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراج تحسین پیش کیا پھر اپنے پرانے درد مسلم لیگ کے انتشار کے بارے میں فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں چھوٹا چوہدری اور بڑا میاں رکاوٹ ہے ۔ نظامی صاحب نے ذوالفقار علی بھٹو کو دوبارہ میدان سیاست میں لانے کا و اقعہ سنایا ۔ آپ نے فرمایا پاکستان ووٹ کی طاقت سے قائم ہوا ووٹ ہی کے ذریعے مستحکم اور مضبوط ہوگا الیکشن میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں ۔ مجید نظامی نے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضرت قائداعظم کا صحیح پیروکار بننے کی توفیق عطا فرمائے آزادی سے بڑی کوئی نعمت نہیں۔ اس کی قدر ہندوستان میں رہنے والوں سے پوچھیں امن کی آشا والے کہتے ہیں کہ نظامی صاحب جنگ کی باتیں کرتے ہیں میںکہتا ہوں جنگ اچھی چیز نہیں مگر جب دشمن بھارت جیسا مکار ہو تو جنگ کی تیاری مکمل ہونی چاہیے ۔
تحریکی کانفرنس کا مجموعی تاثر قومی یکجہتی اور ملکی وقار اور سربلندی کےلئے ہر شعبہ زندگی کے لوگو ں کو قربانی کےلئے تیار کرنا ہے جہاں نظامی صاحب جیسے بزرگ اس عمر میں میدان میںنکلتے ہیں تو باقی تمام لوگ پورے ملی جذبوں سے نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت اور حصول منزل کے سفر میں دم دم ہر قدم تیار اور آپ کے ہر حکم کی پیروی کےلئے بے قرارہونگے انشاءاللہ پاکستان پائندہ باد تحریک فکری لام بندی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہوئے مجید نظامی ، علامہ اقبال کے خواب اور قائد اعظم کے فرمان کے مطابق اقوام عالم میں باوقار مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی ۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...