A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

ناروے میں مسیحی انتہاپسندوں کی دہشت گردی اور عالمی و علاقائی امن کے قیام کے تقاضے....نام نہاد مہذب معاشرے مذہبی رواداری کو شعار بنائیں

25 جولائی 2011
نارویجن وزیراعظم جیز سٹولٹن برگ نے دو روز قبل ناروے کے سرکاری دفاتر میں دھماکوں اور حکمران پارٹی کے تربیتی کیمپ میں فائرنگ سے ایک سو کے قریب افراد کی ہلاکتوں کو ایک بھیانک خواب قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انکے ملک میں دوسری جنگ عظیم کے بعد ایسے بھیانک جرم کا اتنا بڑا واقعہ کبھی نہیں ہوا۔ اوسلو میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بھی حکمران لیبر پارٹی سے وابستہ نوجوانوں کے اس تربیتی کیمپ کی جنت میں شریک ہونا تھا جسے حملے کا نشانہ بنا کر جہنم میں تبدیل کردیا گیا۔ دوسری جانب جائے وقوعہ سے گرفتار ہونیوالے حملہ آور آندرے بیرنگ بریوک نے، جس نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے، گرفتاری کے وقت اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ حملے وحشیانہ ہیں مگر اسکے خیال میں ایسا کرنا ضروری تھا۔ 32 سالہ ملزم بریوک دائیں بازو کا مسلم مخالف کٹر مسیحی ہے جسے آج بروز پیر عدالت میں پیش کیا جائیگا۔ ملزم کے ایک کلاس فیلو مائیکل ٹومالا نے بھی اس امر کی تصدیق کی کہ ملزم حالیہ دنوں میں بہت زیادہ شدت پسند ہوگیا تھا۔
ناروے کے ان خونیں واقعات کی اقوام متحدہ، آسیان، یورپی یونین سمیت پوری دنیا نے مذمت کی ہے۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے بقول یہ حملے ممکنہ طور پر دوسروں سے نفرت کا نتیجہ ہیں۔ یو این سیکرٹری جنرل بان کی مون، پاکستان کے صدر مملکت آصف علی زرداری، یورپی کونسل کے صدر ہرمن وین رومیوٹی اور نیٹو کے سربراہ آندرس فوگ راسموسن نے بھی ناروے کے ان دہشت گردانہ واقعات کو بربریت سے تعبیر کیا ہے۔ انسانیت کے قتل کی، چاہے وہ جہاں پر بھی ہو اور جس بھی پس منظر میں ہو، تائید نہیں کی جاسکتی جبکہ ناروے جیسے پرامن ملک میں دہشت گردی کے ایسے واقعات کا رونما ہونا جہاں ناروے حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہے وہاں انسانیت کے ٹھیکیداروں اور کسی بھی حوالے سے انسانی منافرت کا باعث بننے اور اسے فروغ دینے والے خودساختہ برتر انسانوں کیلئے بھی سوچنے کا مقام ہے کہ مذہبی، علاقائی یا لسانی بنیادوں پر انسانوں میں تفریق پیدا کی جائیگی اور اپنی برتری کے زعم میں دوسرے انسانوں کے قتل عام اور انکے ساتھ بربریت کے دوسرے واقعات کو جائز سمجھا جائیگا تو انکی تصور کی گئی اپنی جنت بھی ردعمل میں مظلوم اور معتوب انسانوں کے ہاتھوں جہنم میں تبدیل ہوسکتی ہے، جیسا کہ ناروے کے وزیراعظم سٹولٹن برگ کو حکمران پارٹی کے نوجوانوں کیلئے قائم کیا گیا تربیتی کیمپ پلک جھپکتے میں جنت سے جہنم میں تبدیل ہوتا نظر آیا ہے اور جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے ان خونیں واقعات کو دوسروں سے منافرت کا شاخسانہ قرار دیا ۔
وہ تو اچھا ہواکہ اس واقعہ میں ملوث ایک ملزم بیرنگ بریوک نے جو ناروے کا انتہاپسند مسیحی باشندہ ہے، اعترافِ جرم کرلیا ورنہ مغربی میڈیا نے تو اپنے خبثِ باطن کی بنیاد پر اس واقعہ کے ساتھ ہی سارا ملبہ مسلم انتہاپسندوں پر ڈالنا شروع کردیا تھا جس کے قلابے مسلم امہ کیخلاف جاری کروسیڈ کی بنیاد پر روائتی طور پر پاکستان کے قبائل کے ساتھ ہی ملائے جاتے جیسا کہ نیویارک سکوائر کے دہشت گردی کی محض کوشش کے نام نہاد واقعہ کی کڑیاں فوری طور پر پاکستان کے قبائلی علاقوں کے ساتھ ہی ملائی گئی تھیں جن کی بنیاد پر پاکستان پر دہشت گردی کے خاتمہ سے متعلق عالمی دباﺅ کا سلسلہ طولانی ہوگیا اور آج بھی اسے دنیا میں تنہا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ناروے کے متذکرہ واقعات کا چاہے جو بھی پس منظر ہو، اس سے ایک بات تو واضح طور پر ثابت ہوگئی ہے کہ دوسرے مذاہب بالخصوص ہندوﺅں اور مسیحیوں میں بھی ایسے شدت پسند موجود ہیں جو اپنے مذہبی مقاصد کی خاطر عالمی اور علاقائی امن تہہ بالا کرنے میں قطعاً حجاب محسوس نہیں کرتے۔ بے شک ناروے دنیا کا پرامن ترین ملک ہے مگر جن ملعونوں نے فیشن کے طور پر یا اپنے انتہاپسندانہ مذہی جذبات کی تسکین کیلئے حضرت نبی¿ آخر الزمان کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کو اپنا شعار بنایا اور توہینِ قرآن و رسالت میں آج بھی پیش پیش نظر آتے ہیں ان میں ناروے کے مادر پدر آزاد ملعون بھی شامل ہیں۔ توہینِ انبیاءو مذہب کے ایسے مکروہ واقعات ہی تو انسانی منافرت کی ایسی فضا پیدا کرتے ہیں جس کا ردعمل کبھی نائن الیون، کبھی سیون سیون، کبھی ممبئی حملوں اور کبھی ناروے خونیں حملوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اگر ناروے کے ان واقعات میں ملوث ملزم بریوک کی نشاندہی نہ ہوتی تو نہ جانے اب تک راسخ العقیدہ مسلمانوں کے بارے میں کیا حشر نہ اٹھالیا گیا ہوتا۔
مسلمانوں کے بارے میں مغرب، یورپ بالخصوص امریکہ میں جو نفرت انگیز تعصب پایا جاتا ہے، اسکے مظاہر ہمارے خطہ میں جاری امریکی مفادات کی جنگ کی صورت میں انسانیت کے نام نہاد علمبردار مہذب معاشروں کے سامنے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ ایک نہتی بے بس خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی سمیت پاکستان کے بے شمار مسلمان شہریوں کو بغیر کسی جرم کے محض شبہ کی بنیاد پر سالہاسال عقوبت خانوں میں ڈال کر انہیں ذہنی اور جسمانی اذیت کے مراحل سے گزارا جاتا رہا اور پھر امریکی متعصب عدالت نے خاتون کے تقدس کا بھی خیال نہ کیا اور معصوم ڈاکٹر عافیہ کو مجموعی 86 برس قید کی سزا کا حکم سنا دیا۔ اس وقت بھی امریکی جیلوں میں قید باشندوں کی اکثریت مسلمانوں کی ہے اور ان میں بھی زیادہ تر پاکستان کے مسلمان باشندے شامل ہیں۔ اس سلسلہ میں پاکستانی سفارتخانہ کی جانب سے دفتر خارجہ کو قیدیوں کی جو فہرست بھجوائی گئی اس میں 210 پاکستانیوں کے نام بھی شامل ہیں اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے علاوہ پانچ دیگر خواتین حنا حفیظ، عصرہ اشرف، شہربانو موسیٰ، ہما جاوید اور پروین بھٹی بھی امریکی جیلوں میں جرم بے گناہی کی سزا بھگت رہی ہیں۔ جب نہتی خواتین کو بھی اسلام دشمن، متعصب معاشروں میں بربریت کا نشانہ بنایا جائیگا تو ان نام نہاد مہذب معاشروں کو سوچ رکھنا چاہئے کہ اسکا ردعمل کس صورت اور کس انداز میں سامنے آسکتا ہے۔ ناروے کے دہشت گردی کے واقعات میں شدت پسند اور انتہاپسند مسیحی ملوث ہیں تو وہ نارویجن حکومت کے کسی مذہب دشمن عمل کے ردعمل میں ہی اس انتہا تک پہنچے ہوں گے، اس لئے بین المذاہب مکالمے کی ضرورت کا احساس کرنیوالے امریکی صدر باراک اوباما اور مغربی یورپی ممالک کے دوسرے حکمرانوں کو سنجیدگی کے ساتھ اس امر کا جائزہ لینا چاہئے کہ تعصب پر مبنی انکے معاشروں کی برگشتگی بالخصوص دینِ اسلام کے بارے میں انتہاپسندی پر مبنی انکے جذبات و تعصبات کا تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق کیا ردعمل سامنے آسکتا ہے۔ کیا ایسے تعصبات اور منافرتوں کی بنیاد پر ہی علاقائی اور عالمی امن کو تہہ و بالا نہیں کیا جا رہا اور کیا اب ضروری نہیں کہ بالخصوص فلاح انسانیت کا آفاقی فلسفہ اور پیغام لیکر آنیوالے رحمت اللعالمین حضرت نبی آخر الزمان کی شان میں گستاخی کی روش اختیار کرنیوالے مغربی ممالک کے سارے ملعونوں کی گردنیں ناپ کر علاقائی اور عالمی امن کی راہ ہموار کی جائے اور مسلمانوں کے بارے میں متعصبانہ سوچ اور رویہ ترک کردیا جائے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی سمیت جو بھی مسلمان مرد و خواتین مذہبی تعصبات کی بھینٹ چڑھ کر امریکہ، یورپ کی جیلوں میں گل سڑ رہی ہیں، تکریم انسانیت کی پاسداری کرتے ہوئے ان سب کو آزاد کردیا جائے اور تقدیس انبیا و مذہب کو اپنا شعار بنالیا جائے۔ دنیا میں نظر آنیوالی ناروے کے واقعات جیسی افراتفری کو انسانی برابری، مذہبی برداشت و رواداری اور اخوت و محبت کا درس دینے والے شرفِ انسانیت کو فروغ دیکر ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔ ناروے کے افسوسناک واقعات مذہبی تفاخر و تعصبات میں لپٹے ہوئے نام نہاد مہذب مغربی معاشروں کیلئے بلاشبہ لمحہ¿ فکریہ ہیں۔
تمام ممالک کا دہشت گردی
کیخلاف قریبی تعاون پر اتفاق
وزیرخارجہ حنا ربانی کھر نے بالی میں آسیان کی علاقائی سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ جن میں امریکی، چینی، روسی، اور انڈونیشی ہم منصب شامل ہیں۔ اس موقع پر انڈونیشیا نے ”آسیان“ میں ”فل ڈائیلاگ پارٹنر“ کیلئے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعلان بھی کیا ہے۔
نائن الیون کے بعد جہاں پوری دنیا میں سکیورٹی کے معاملات درپیش آئے ہیں، وہاں خصوصی طور پر جنوبی ایشیا کے ممالک دہشت گردی سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر علاقائی سطح پر سکیورٹی کو مضبوط تر بنانا ہر ملک کے مفاد میں ہے تاکہ تخریب کاروں اور دہشت گردوں کے حملوں سے اپنے ملک کو محفوظ بنایا جا سکے۔ آسیان کی علاقائی سکیورٹی کانفرنس میں دہشت گردی کیخلاف تمام ممالک کا متحد ہو کر جدوجہد کرنیکا عزم کرنا خوش آئند ہے۔
وزیرخارجہ حنا ربانی کھر نے دہشت گردی کیخلاف پاکستان کے موقف کو بہترانداز میں پیش کیا ہے اور اچھا سٹینڈ لیا ہے اور انڈونیشیا کی آسیان میں ”فل ڈائیلاگ پارٹنر“ کیلئے پاکستان کی حمایت حاصل کرنا ان کی سفارتی کوششوں کی بڑی کامیابی ہے کیونکہ اس وقت پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں مالی اور جسمانی طور پر بہت قربانیاں دے چکا ہے۔ ہلیری کلنٹن کا دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا پانے کیلئے مشترکہ کوششیں بروئے کار لانے کا اعلان کرنا بھی علاقائی مفاد میں ہے۔ دہشت گردی کیخلاف علاقائی سطح پر تمام ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اکیلے کوئی ایک ملک اسکو کنٹرول نہیں کر سکتا۔ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ وہ بلاتفریق ہر آدمی کو نشانہ بنا کر اپنا مفاد حاصل کرتے ہیں۔ اس لئے اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے تمام ممالک کا ایک دوسرے کیساتھ تعاون کرنا علاقائی مفاد میں ہے۔ بشرطیکہ صرف داڑھی والے مسلمان کو ہی دہشت گرد قرار نہ دیاجائے۔
امریکہ ڈاکٹر فائی کو ساتھیوں
سمیت فی الفور رہا کرے
کشمیری امریکن کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام نبی فائی کی گرفتاری کیخلاف مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال اور مظاہروں میں متعدد افراد زخمی، سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق سمیت کئی رہنماﺅں کو نظر بند کردیا گیا۔
امریکہ بھارت کو خوش کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کر رہا۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے دورہ بھارت کے موقع پر کشمیری امریکن کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو گرفتار کرنا درحقیقت بھارت کو خوش کرنا تھا تاکہ عالمی سطح پر کشمیری عوام اپنے موقف کو پیش نہ کرسکیں، ڈاکٹر فائی امریکی شہری ہیں اور عرصہ دراز سے امریکہ میں مقیم ہیں اس سے پہلے امریکہ کو انکی ایسی سرگرمیاں نظر کیوں نہیں آئیں۔ اب ایف بی آئی نے انکے 12ساتھیوں کوبھی گرفتار کرلیا ہے دراصل اس کا مقصد کشمیری رہنماﺅں کو ڈرا دھمکا کر آزادی کی جدوجہد سے دور کرنا ہے۔
اب امریکہ کی تقلید کرتے ہوئے برطانیہ نے بھی کشمیریوں کیخلاف اپریشن شروع کردیا ہے۔جس میں سکاٹ لینڈ یارڈ نے کشمیری تنظیم ” جسٹس فاﺅنڈیشن“ سے تحقیقات شروع کی ہیں،امریکہ اور برطانیہ بھارتی خوشنودی کیلئے کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے اور اوچھے ہتھکنڈوں سے انکی جدوجہد آزادی کو سبو تاژ کرنیکی کوشش میں ہیں۔64سال سے بھارت 7لاکھ فوج کے ذریعے اگر کشمیریوں کو دبانہیں سکا تو کیا امریکی اور برطانوی سازشوں سے اب وہ دب جائینگے، امریکہ اور برطانیہ بھارتی خوشنودی کیلئے کشمیریوں کیخلاف ایسے اقدامات مت کرےں جس کے باعث پاکستان کے ساتھ انکے تعلقات کشیدہ ہوں اس لئے ڈاکٹر فائی اور انکے 12 ساتھیوں کو فی الفور رہا کیاجائے اور وادی کشمیر میں بھارت کے جاری ظلم و ستم کو روکاجائے۔
پنجاب بھر میں ماڈل بازاروں
کے قیام کا منصوبہ
وزیراعلیٰ شہباز شریف نے پورے صوبے میں ماڈل بازاروں کے قیام کا منصوبہ شروع کردیا ہے، انہوں نے کہا کہ اس طرح صاف ستھرے ماحول میں معیاری اشیاءارزاں نرخوں پر دستیاب ہوں گی۔ ٹاﺅن شپ میں پہلے ماڈل بازار کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے اس مفید عام منصوبے کے آغاز کااعلان کیا۔
یہ نہایت مستحسن اقدام ہے کہ اتوار بازاروں کی لعنت سے شہریوں کی جان چھڑا کر پورے پنجاب میں ماڈل بازاروں کے منصوبے پر کام شروع کردیا گیا ہے اور ٹاﺅن شپ لاہور میں پہلے ماڈل بازار کا افتتاح کر بھی دیا گیا،یہ نہایت بہتر منصوبہ ہے،اگر پورے صوبے میں ایسے بازاروں کا جال بچھادیاجائے تو یہ ممکن ہوگا کہ حکومت ان پر چیک رکھ سکے اور کوالٹی کنٹرول بھی برقرار رکھے،ہمارے ہاں بالعموم بعض اچھے منصوبے شروع کئے جاتے ہیں مگر چیک اینڈ کنٹرول سسٹم نہ ہونے کے باعث وہ وہی بازار بن جاتے ہیں جو اتوار بازاروں کی صورت میں سب نے دیکھ لیا ہے،یہ ماڈل بازار دوسری مارکیٹوں پر بھی مثبت اثرات مرتب کرینگے او ر ہمارے ہاں بھی ایک اچھے صاف ماحول میں معیاری اشیاءارزاں نرخوں پر دستیاب ہوسکیں گی،کسی بھی اچھے اقدام کو بگاڑنے والے فی الفور متحرک ہوجاتے ہیں اوراُسے ناکام بنانے کی کوشش کرتے ہیں،ہماری وزیراعلیٰ سے گذارش ہے کہ جہاں وہ اس طرح کے اچھے کام کر رہے ہیں وہیں اُن کی نگرانی کیلئے بھی ایک نظام وضع کریں اور جو بھی کسی ہیرا پھیری یا بگاڑ کاباعث بنے اُسے قرار واقعی سزادی جائے کیونکہ جب تک ایک مربوط سزا وجزا کا سسٹم نہ ہوگا کتنا ہی اچھا منصوبہ کیوں نہ ہو ناکام ہوجائیگا، عوام کو بھی اس سلسلہ میں وزیراعلیٰ کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہئیں، کیونکہ وہ اُن کی بھلائی کیلئے کوشاں ہیں۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...